خیبرپختونخوا: غریب افراد کی  آمدن بڑھانے کیلئے اثاثہ جات تقسیم 

    خیبرپختونخوا: غریب افراد کی  آمدن بڑھانے کیلئے اثاثہ جات تقسیم 

  

 لاہور(پ ر) غربت کے خاتمہ کے عالمی دن کی مناسبت سے پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) نے خیبرپختونخوا کے علاقے شانگلہ اور لکی مروت میں (بقیہ نمبر21صفحہ6پر)

 لائیولی ہڈ سپورٹ اینڈ پروموشن آف اسمال کمیونٹی انفراسٹرکچر پروگرام (LACIP) کے دوسرے مرحلے کے تحت اثاثوں کی منتقلی کی تقریب کا انعقاد کیا۔ اس پروگرام کے تحت بونیر، شانگلہ اور لکی مروت کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لئے کام کیا جارہا ہے جس کے لئے جرمن ترقیاتی بینک (کے ایف ڈبلیو) کی جانب سے سرمایہ فراہم کیا جارہا ہے جبکہ پی پی اے ایف اس پروگرام پر عمل درآمد کر رہا ہے۔  اس پروگرام کے دوسرے مرحلے میں انفراسٹرکچر کی ترقی، اثاثوں کی منتقلی اور مقامی حکام کے ساتھ مستحکم رابطوں کے ذریعے تقریبا ایک لاکھ 60 ہزار افراد مستفید ہوں گے۔ اس حوالے سے شانگلہ میں اثاثہ جات منتقلی کی تقریب دو مختلف مقامات پر منعقد ہوئی۔ یونین کونسل شنگ میں اثاثہ جات منتقلی تقریب کی سربراہی اسسٹنٹ کمشنر بشام خرم رحمان جدون نے کی۔ انہوں نے یونین کونسل ملک خیل سے تعلق رکھنے والے مردوں میں 20 اثاثہ جات تقسیم کئے۔ اسسٹنٹ کمشنر بشام خرم رحمان جدون نے غربت کے خاتمے کے لئے پی پی اے ایف کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا، "اس طرح کے منصوبوں سے غریبوں کے لئے معاشی مواقع کے حصول میں بہتری آسکتی ہے جس کی بدولت وہ اپنا بہتر مستقبل تعمیر کرسکیں گے۔ اس حوالے سے پی پی اے ایف اور کے ایف ڈبلیو کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔" یونین کونسل شنگ میں ایک دوسری تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر الپوری کے اسسٹنٹ کمشنر واجد علی خان نے نے یونین کونسل کے مردوں میں 25 اثاثہ جات تقسیم کئے۔ ان اثاثہ جات میں کپڑے کی دکانیں، جنرل اسٹور، کولڈ ڈرنک کی دکانیں، پولٹری، سبزیوں اور حجام کی دکان سمیت مختلف کاروباری نوعیت کا سامان موجود تھا۔ الپوری کے اسسٹنٹ کمشنر واجد علی خان نے مستقبل کی نسلوں کو بااختیار بنانے کے لئے معاشی پروگرام کے نفاذ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا، "اگر ہم پاکستان سے غربت کا خاتمہ چاہتے ہیں اور مستقبل کی نسلوں کو بااختیار بنانے کے خواہاں ہیں تو ہمیں ملک کے پسماندہ علاقوں میں آمدن کے پروگرامز کے موثر نفاذ کے لئے لازمی ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔" لکی مروت کے تحصیل ناظم قدرت اللہ نے احمد خیل اور عبدالخیل کی دو یونین کونسلوں کی خواتین میں لائیو اسٹاک کے 27 اثاثہ جات تقسیم کئے۔  اس پروگرام کے تحت متعین یونین کونسلوں میں مجموعی طور پر 1250 اثاثہ جات تقسیم کئے جائیں گے۔ اسی طرح 1250 تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیتوں کا انعقاد کیا جائے گا جن میں 50 فیصد خواتین موجود ہوں گی۔ ان تقریبات کا انعقاد پی پی اے ایف کے شراکتی اداروں سرحد رورل سپورٹ پروگرام اور سبا ؤن نے کیا۔ پی پی اے ایف کے اس پروگرام کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ مقامی سطح پر فیصلہ سازی میں لوگوں کی شرکت بڑھائی جائے۔ اس پروگرام کے دوسرے مرحلے کو سرکاری حکام کے ساتھ معلومات کے تبادلے اور تعاون کے ذریعے بڑھایا جائے گا۔ اس میں گاؤں کی تنظیموں اور مقامی اداروں کے درمیان رابطے شامل ہیں تاکہ حکومت کے سالانہ ترقیاتی پلان (اے ڈی پی) کے تحت ان کو سرمایہ اور تعاون فراہم کیا جائے۔ اس پروگرام کے پہلے مرحلے میں 152 تعلیمی منصوبے مکمل کئے گئے، 2 ہزار سے زائد انفراسٹرکچر پروجیکٹس کا نفاذ کیا گیا، 8 ہزار سے زائد افراد نے اثاثہ جات وصول کئے۔ ان میں 44 فیصد تعداد خواتین کی ہے۔ مزید برآں، 250 سے زائد افراد کو ہنرمندی کی تربیت کی فراہمی اور انکی صلاحیتوں میں اضافے کے لئے پروگرامز منعقد کئے گئے۔ اس کے پہلے مرحلے کا نفاذ خیبرپختونخوا کے 9 اضلاع میں کیا گیا جن میں ایبٹ آباد، بونیر، چترال، ڈیرہ اسماعیل خان، ہری پور، نوشہرہ، اپر دیر اور صوابی شامل ہیں۔ 

تقسیم

مزید :

ملتان صفحہ آخر -