جام پور:ٹنگھر اور لْنڈ برادری میں صلح، علاقے  میں مزید خون ریزی کا خدشہ ختم، پنچائیت میں  سیاسی وسماجی شخصیات کی بھرپور شرکت

  جام پور:ٹنگھر اور لْنڈ برادری میں صلح، علاقے  میں مزید خون ریزی کا خدشہ ...

  

 جام پور  (نامہ نگار)جام پور کے نواحی علاقہ ٹنگھر اور لنڈ اقوام کے درمیان ہو نے والی لڑائی میں قتل ہو نے والے مقدمہ کی صلح کے لیے پنچایت ہوئی ایک کروڑ ستر لاکھ ساڑے تین بیگہ ذمین دیت مقرر ہوئی۔ دونوں کے (بقیہ نمبر12صفحہ6پر)

درمیان صلح سے مزید خون ریزی کا خطرہ ٹل گیا۔ تفصیل کے مطابق کچھ عرصہ قبل زمین کے تنازعہ پر لنڈاور ٹنگھر اقوام کے درمیان لڑائی ہوئی جس میں ایک شخص خدابخش لنڈ قتل۔ پندرہ کے قریب لنڈ اقوام کے لوگ زخمی ہوئے جبکہ فداحسین لنڈ گولیاں لگنے کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے ٹانگوں سے معذور ہو گیاتھا۔ پولیس تھانہ صدر جام پور نے مقدمہ درج کیا جن میں کچھ ملزمان گرفتار ہوئے جبکہ دو ملزمان اشتہاری ہوگئے۔ مقدمہ عدالت میں زیر سماعت تھا۔ سابق ممبر ضلع کونسل سردار محمد حسین خان لغاری کی کاوشوں سے دونوں فریقین صلع کے لیے امادہ ہو گئے گزشتہ روز صلع کے لیے پنچایت ہوئی جس میں سابق ضلع ناظم سردار علی رضا خان دریشک۔سابق ضلع وائس چیرمین راجن پور مرزا شہزاد ہمایوں۔ سابق ناظم مرزا شفقت اللہ خان۔سابق تحصیل ناظم قاضی سیف اللہ۔سردار محمد حسین خان لغاری۔  فیض خان کورائی۔ ظفر اللہ لنڈ۔ افضل حسرانی۔ نواز چانڈیہ۔ اکرم حجانہ۔ حسین فریدی کھچیلہ۔ سید مظہر حسین شاہ۔ بلال خان لنڈ۔ فاروق احمد لغاری احمدنواز گلفاز۔ جاوید احمدانی۔ شبیر چتر فقیر۔ حسین تبسم۔ کاشف خان لغاری۔ملک مجد خان ڈھول۔ سمیت اہل علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔پنچایتی طور پر ثالثین کے فیصلہ کے مطابق ایک کروڑ ستر لاکھ اور ساڑے تین بیگھہ ذمین دیت مقرر ہو ئی۔ معززین علاقہ کے اصرار پر پچیس لاکھ معاف جبکہ ایک کروڑ پنتالیس لاکھ روپے اداء کرنے کے علاوہ ساڑ ے تین بیگھہ ذمین کی ادائیگی لنڈ قوم کو اداء کرنا ہو گی۔ دونوں اقوام کے درمیان صلع سے جہاں خون ریزی ختم ہو گئی وہاں پر اہل علاقہ نے اس صلح کو نیگ شگون قرار دیا ہے۔

صلح

مزید :

ملتان صفحہ آخر -