وادی سوات کے زمرد

وادی سوات کے زمرد
وادی سوات کے زمرد
کیپشن:    سورس:   wikimedia commons

  

زمرد سبز رنگ کا قیمتی پتھر ہے جو عام طور پر زیورات میں استعمال ہوتا ہے۔ قیمتی پتھروں کے ماہرین کے مطابق زیادہ تر زمرد کے پتھر ایک سے پانچ قیراط کے ہوتے ہیں جس کی قیمت مارکیٹ میں پچاس ہزار روپے سے لے کر لاکھوں روپے تک ہوتی ہے تاہم قیمت کا دارومدار پتھر کی کٹائی اور کوالٹی پر ہوتا ہے۔ 

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی وادی سوات میں پچاس کی دہائی میں دریافت ہونے والی قیمتی پتھر زمرد کی کانوں کا شمار دنیا کی بڑی کانوں میں ہوتا ہے۔ بین الاقوامی معیار کے قیمتی پتھروں کی یہ کانیں سوات کے صدر مقام مینگورہ کے مشہور اور سیاحتی مقام فضا گٹ کے قریب واقع ہیں۔ تقریباً چھ کلومیٹر رقبے پر پھیلی ہوئی ان کانوں کی دریافت سابق حاکم سوات کے دور میں سن 1958 میں ہوئی تھی۔ یہ معدنیات فضا گٹ کے علاوہ سوات کے ایک اور علاقے شموزئی اور ضلع شانگلہ میں بھی پائی جاتی ہیں تاہم مینگورہ میں بھی زمرد کی کچھ کانیں موجود ہیں۔ 

تیسری چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو 2020 میں پہلی بار وادی سوات کے زمرد نمائش کے لئے پیش کئے جائیں گے۔ اس اعلان نے دنیا بھر کے جوہریوں اور ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے۔ مجھے دوسری چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔ نمائش کے بارے میں معلومات کی تلاش کے دوران پتہ چلا کہ یہاں ایک پاکستانی کا ایک اسٹال موجود ہے جنہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے تین مرتبہ مس یونیورس کا تاج ڈیزائن کیا ہے۔ شنگھائی پہنچتے ہی پہلا کام اس پاکستانی شخصیت سے ملاقات کاتھا۔ اس دوران عبداللہ بھائی اور اسلم بھائی کا فون بھی آگیا۔ عبداللہ بھائی ایوو میں پاکستانی تاجروں کی روح رواں ہیں۔ وہ ایک ایسی مقناطیسی شخصیت کے مالک ہیں کہ ایک ہی ملاقات میں سب کو اپنا گرویدہ کر لیتے ہیں۔ دوسری جانب اسلم بھائی بنیادی طورپر لاہور سے ہیں اور میرے درینہ دوست اور بڑے بھائی ہیں۔ زمانہ طالب علمی خصوصاً کالج کے زمانے سے ان کی رہنمائی میسر رہی ہے۔ چین میں وہ فوتیان میں کاروباری سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔ 

موضوع کی طرف واپس آتے ہیں ان دونوں احباب نے بتایا کہ ہم شنگھائی ایکسپو میں موجود ہیں۔ ہماری آج ہی واپسی ہے لہذا آپ بتائیں کے کہاں ہیں تاکہ ملاقات ہوسکے۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں ایک پاکستانی دوست ڈاکٹر عقیل کا انٹرویو کرنے جارہا ہوں تو دوسری طرف سے اسلم بھائی کا قہقہہ بلند ہوا وہ کہنے لگے آپ اپنی لوکیشن بتائیں ہم آپ کو لینے آتے ہیں۔ ہم اس وقت ڈاکٹر عقیل صاحب کے ساتھ موجود ہیں۔ خیر جناب میں اسلم بھائی کے ساتھ ڈاکٹر عقیل صاحب کے پاس پہنچا جو نہایت وضع دار اور پڑھی لکھی شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کا زبردست انٹرویو ہوا۔ یہیں وزیراعظم پاکستان کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد سے ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات بھائیوں جیسی شفقت کرنے والے چین میں پاکستان کے کمرشل اتاشی جناب بدرالزمان کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ بدرالزمان صاحب کی علمی اور شخصی خصوصیات کے احاطے کے لئے ایک الگ تحریر درکار ہے۔ عبدالرزاق داؤد صاحب سمیت تمام لوگ ڈاکٹر عقیل کی اب تک کی کامیابیوں پر رشک کرتے دکھائی دئیے۔ عقیل صاحب ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں ۔ ڈاکٹرز کے بارے میں عمومی خیال یہی ہے کہ وہ سائنس اور منطق سے باہر نہیں نکلتے لیکن عقیل صاحب کی حس جمال نے انہیں ایک شاندار ڈیزائنر بنا دیا ہے۔ 

رواں برس چین کی تیسری بین الاقومی درآمدی نمائش کے دن جوں جوں قریب آتے جارہے ہیں اس حوالےسے خبروں کا سلسلہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ جیسے ہی میری نظر ایک خبر پر پڑی کہ شنگھائی میں پاکستانی زمرد نمائش کے لئے پیش کئے جائیں گے میں نے فوراً ڈاکٹر عقیل صاحب سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بتایا بالکل ایسا ہی ہے۔ سوات کے زمرد ان ہی کی کمپنی ونزا نمائش کے لئے پیش کررہی ہے۔ میں نے ان سے سوات کے زمرد کی خوبیاں پوچھی تو انہوں نے کہا سوات کے زمرد قدیم دریافت شدہ زمردوں میں سے ایک ہیں ، اور ان کی تاریخ سلک روڈ سے قریب سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ اپنے منفرد رنگ اور خوبیوں کی وجہ سے لوگوں میں بہت مقبول ہے۔ یہ اپنی خوبیوں کی وجہ سے بہت زیادہ بیش قیمتی ہیں۔ انہوں مسکراتے ہوئے بتایا کہ یہ جواہرات کی دنیا کا چمکتا ہوا ستارہ ہیں۔ 

عقیل صاحب کا ادارہ ونزہ ان کی حس جمال کی وجہ سے ان زمردوں کو نہایت شاندار انداز میں متعارف کرواتا ہے۔ ونزا چین میں پاکستانی جوہری مصنوعات کو متعارف کروانے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ عقیل صاحب نہ صرف خود ترقی کر رہے ہیں بلکہ میڈ ان پاکستان کے سفیر بھی بن چکے ہیں۔ 

۔

  نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -