’’بلاول نے 14 ستمبر کو آئی جی سندھ کی سرزنش کی جس کے بعد معاملات خراب ہوئے‘‘ اب تک کا بڑا دعویٰ

’’بلاول نے 14 ستمبر کو آئی جی سندھ کی سرزنش کی جس کے بعد معاملات خراب ...
’’بلاول نے 14 ستمبر کو آئی جی سندھ کی سرزنش کی جس کے بعد معاملات خراب ہوئے‘‘ اب تک کا بڑا دعویٰ

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) نجی ٹی وی سماء نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی جی سندھ کی 14 ستمبر کو بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے سرزنش کی گئی تھی جس کے بعد سے کشیدگی کا ماحول بن چکا تھا اور منگل کو سندھ پولیس کے افسران نے سندھ حکومت کے خلاف بغاوت کردی۔

سماء نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ 14 ستمبر کو بلاول بھٹو زرداری لاڑکانہ کے دورے پر گئے اور آئی جی سندھ کو طلب کیا۔ انہوں نے آئی جی کی سرزنش کی اور کہا کہ کچے کے ڈاکوؤں کا لاڑکانہ میں بہت زیادہ اثرو رسوخ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے ایم این ایز اور ایم پی ایز شکایات کر رہے ہیں۔

آئی جی سندھ نے اس معاملے پر بے بسی کا اظہار کیا تو بلاول نے آئی جی سے کہا کہ آخر سندھ پولیس کون چلا رہا ہے؟

جس پر آئی جی مشتاق مہر نے تلخ لہجے میں جواب دیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کے منظور نظر ایک ایس ایس پی فرخ بشیر سندھ پولیس کو چلا رہے ہیں۔

بلاول بھٹو کے ساتھ ہونے والی تلخ کلامی کے بعد آئی جی سندھ ایکس پاکستان لیو پر چلے گئے۔ سندھ حکومت کی جانب سے اس کے بعد تمام  ایڈیشنل آئی جیز کو کہا گیا کہ وہ براہ راست وزیر اعلیٰ کو رپورٹ کریں گے۔

خیال رہے کہ سندھ پولیس کے آئی جی سمیت ایڈیشنل آئی جیز اور ایس ایس پیز کی جانب سے سندھ حکومت کے خلاف ’بغاوت‘ کا اعلان کیا گیا ہے ۔ سندھ پولیس کے متعدد اعلیٰ افسران نے سندھ حکومت پر دباؤ کا الزام لگاتے ہوئے چھٹیوں کی درخواستیں دی ہیں۔

مزید :

قومی -علاقائی -سندھ -کراچی -