’’ میں چھٹی کی درخواست کس کو بھیجوں ‘‘ کراچی کے ایس ایچ او نے ایسی بات کہہ دی کہ آپ کی ہنسی نہ رکے

’’ میں چھٹی کی درخواست کس کو بھیجوں ‘‘ کراچی کے ایس ایچ او نے ایسی بات کہہ ...
’’ میں چھٹی کی درخواست کس کو بھیجوں ‘‘ کراچی کے ایس ایچ او نے ایسی بات کہہ دی کہ آپ کی ہنسی نہ رکے
کیپشن:    سورس:   Facebook

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ حکومت کے ساتھ اختلافات کے بعد سندھ پولیس کے آئی جی سمیت 31 افسران چھٹیوں پر چلے گئے ہیں۔ افسران نے آئی جی کی مبینہ تضحیک کے خلاف بطور احتجاج چھٹیاں لی ہیں۔ اپنے کمانڈر کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے والے افسران کو تو چھٹیاں مل گئی ہیں لیکن ماتحت عملے میں سے اگر کوئی اظہار یکجہتی کا خواہشمند ہو تو وہ کس سے چھٹیاں لے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا سامنا ایس ایچ او شارع نور جہاں ڈھونڈنے میں مصروف ہیں۔

ایس ایچ او شارع نور جہاں امداد خواجہ کراچی کے پہلے ایس ایچ او ہیں جو اپنی فورس کے کمانڈر مشتاق مہر کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے آگے آئے ہیں۔ انہوں نے بھی افسران بالا کی پیروی کرتے ہوئے چھٹیاں لینے کی ٹھانی اور تھانے پہنچ گئے۔ 

تھانے پہنچ کر ایس ایچ او کو ایک نئی مشکل کا سامنا کرنا پڑا، انہوں نے چھٹیوں کی درخواست ایس ایس پی سنٹرل کو جمع کرانی تھی لیکن وہ تو خود ہی چھٹیوں پر چلے گئے ہیں۔

ایس ایچ او امداد خواجہ اس ساری صورتحال پر انتہائی پریشان ہیں اور کہتے ہیں کہ ایس ایس پی کی غیر موجودگی میں چھٹی کی درخواست کس کو بھیجنی ہے اس پر غور کیا جارہا ہے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -