آئی جی رینک کے افسر کے ساتھ ایسا سلوک قومی جرم ،سندھ پولیس کے سابق سربراہ نے کراچی واقعہ پر آرمی ایکٹ کے تحت مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ کردیا 

آئی جی رینک کے افسر کے ساتھ ایسا سلوک قومی جرم ،سندھ پولیس کے سابق سربراہ نے ...
آئی جی رینک کے افسر کے ساتھ ایسا سلوک قومی جرم ،سندھ پولیس کے سابق سربراہ نے کراچی واقعہ پر آرمی ایکٹ کے تحت مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ کردیا 

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق آئی جی سندھ اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مقبول احمد خان نے کراچی واقعہ پر آرمی ایکٹ کے تحت مشترکہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی جی کے رینک کے افسر  کے ساتھ جو سلوک کیا گیا ،وہ نامناسب اور کسی صورت بھی قابل قبول نہیں،یہ انہونی اور بڑی ہی افسوسناک صورتحال ہے،اتنے بڑے لوگوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنا قومی جرم ہےجو نہیں ہونا چاہئے تھا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے پروگرام "نقطعہ نظر " میں معروف تجزیہ کار اور سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق آئی جی سندھ رانا مقبول احمد خان نے کہا کہ آج صبح میں نے اپنے ایک شاگرد کو ٹیلی فون کیا جو ایک اہم پوزیشن پر لگا ہوا ہے اور آئی جی سندھ مشتاق مہر کا کولیگ ہے،میں نے پوچھا یہ کیا ہوا ہے،کیا یہ سچی بات ہے ؟ جس پر اُس نے مجھے ایک مصرعہ سنایا کہ "بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی "اس وقت تک یہ کلیئر نہیں ہوا تھا جو اب ہو چکا ہے ،یہ بڑی اَنہونی اور بڑی ہی افسوسناک صورتحال ہے،مشتاق مہر میرے پاس اے ایس پی اور ایس پی بھی رہا ،نہایت محنتی اور ایماندار افسر ہے،آئی جی کے رینک پر پہنچ کے جو اُس کے ساتھ کیا گیا ،وہ نامناسب اور کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی پولیس نے جب میرے پاس سندھ پولیس کی کمانڈ تھی تو  بہت قربانیاں دیں اور اب بھی روز دیتے ہیں ،92 فیصد کرائم کم ہوا ہے،یہ ایسے بغیر قربانیوں کے تو نہیں ہو جاتا ،اس لئے اتنے بڑے لوگوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنا قومی جرم ہےجو نہیں ہونا چاہئے تھا ۔رانا مقبول احمد خان نے کہا کہ ایشو کیا تھا ؟ایشو تو پرچہ درج کرنا تھا ،کسی سیاسی شخصیت کے خلاف پرچہ درج کرنے کے لئے اس طرح بلوہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟آپ ایس ایچ او کو درخواست دیں ،اول تو یہ پرچہ  کوئی سرکاری آدمی درج کرا سکتا ہے چلو کسی پرائیویٹ آدمی نے دے دیا اور ایس ایچ او پرچہ درج نہیں کرتا تو آپ مجسٹریٹ کے پاس چلے جائیں ،مجسٹریٹ درج نہیں کرتا تو آپ جسٹس آف پیس اور سیشن جج کے پاس چلے جائیں ،وہاں بھی پرچہ درج نہیں ہوتا تو آپ ہائیکورٹ چلے جائیں ،یہ کوئی طریقہ نہیں پرچہ درج کرنے کا اور پھر صبح چھے بجے ایک اعلیٰ درجے کی  خاتون لیڈر  کے کمرے کے دروازے توڑ رہے ہیں،یہ ایسی اوچھی حرکت ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔

انہوں نے کہا کہ میری نظر میں اس واقعہ کی آرمی ایکٹ کے تحت مشترکہ عدالتی تحقیقات ہونی چاہئے ،اس میں سینئر ترین پولیس آفیسر جو سینئر آئی جی  اور کوئی لیفٹیننٹ جنرل اس کا ممبر ہو گا ،اُن کو مکمل انکوائری کرتے ہوئے جس کا بھی قصور ہے اسے سامنے لانا ہو گا ،جن بندوں نے یہ کام کیا ہے اُنہوں نے افواج پاکستان کی خدمت نہیں کی،اس واقعہ کے ذمہ داروں نے نہ عوام کی خدمت کی ہے اور نہ ہی اس قوم کی خدمت کی ہے۔

مزید :

قومی -