نور مقدم قتل کیس ، اسلام آباد ہائیکورٹ کی ملزموں کو شواہد اور دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت

نور مقدم قتل کیس ، اسلام آباد ہائیکورٹ کی ملزموں کو شواہد اور دستاویزات ...
نور مقدم قتل کیس ، اسلام آباد ہائیکورٹ کی ملزموں کو شواہد اور دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) اسلام آباد ہائیکورٹ میں نور مقدم قتل کیس میں ملزموں کی شواہد اور دستاویزات کی فراہمی کی درخواست پر دلائل مکمل کر لئے گئے ۔ جسٹس عامر فاروق نے شواہد اور دستاویزات ملزموں کے وکلاءکو فراہم کرنے کی ہدایت دے دی ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں نور مقدم قتل کیس میں ملزموں کی شواہد اور دستاویزات کی فراہمی کی درخواست پر سماعت ہوئی ، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پولیس کے سامنے ریکارڈ کرائے گئے ایک گواہ کا بیان نہیں ملا ۔سرکاری وکیل نے کہا کہ ہیڈ کانسٹیبل محمد جابر سی ڈی آر کا گواہ ہے جس کا بیان 14 اکتوبرکو ریکارڈ کیا گیا ہے ، چالان اس بیان سے قبل جمع ہو چکا تھا ، اس بیان کی کاپی سپلیمنٹری چالان کے ساتھ جمع ہونی ہے ، اس بیان کی حد تک تو سپلمنٹری چالان ہی ابھی عدالت میں پیش نہیں ہوا ۔ شوکت علی مقدم کا سپلمنٹری بیان بھی مانگا جا رہا ہے ۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیاکہ پولیس کا ریکارڈ کیا گیا کوئی بیان فراہم کرنے سے رہ گیاہے یا نہیں ،جس گواہ کا بیان عبوری چالان کے بعد ریکارڈ ہوا وہ بھی چالان کے ساتھ جمع ہوگا، اس کیس میں ٹرائل 8 ہفتے کی ڈائریکشن بھی ہے ۔سپریم کورٹ نے اس ڈائریکشن سے متعلق کوئی بات نہیں کی اور اسے برقرار رکھا ہے ۔ خواجہ حارث نے ضمانت کی درخواست پر دلائل کے دوران کیس ڈائریز کا ذکر کیا تھا ، ان کے پاس تو تمام ریکارڈ دستیاب تھا ۔

وکیل درخواست گزار نے عدالت سے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی فراہم نہیں کی جا رہی ۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈی وی آر ٹرانسکرپٹ بھی فراہم کر رہے ہیں ۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ہم ان چیزوں میں لے جا کر ٹرائل کو لٹکا دیتے ہیں ، کوشش کریں ایسا نہ ہو ۔ 

سرکاری وکیل نے عدالت سے کہا کہ یہ چیزیں ہم ابھی انہیں مہیا کر دیتے ہیں جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ آرڈر پاس کریں گے کہ آپ ٹرائل کورٹ میں یہ دستاویزات ملزموں کے وکلاءکو دیں ، ٹرائل کورٹ کی آرڈر شیٹ میں بھی یہ بات آجائے گی ۔

مزید :

قومی -جرم و انصاف -