پشاور کا سپائیڈر مین، کئی بینک لوٹنے کے باوجود پکڑا نہ جا سکا

پشاور کا سپائیڈر مین، کئی بینک لوٹنے کے باوجود پکڑا نہ جا سکا
پشاور کا سپائیڈر مین، کئی بینک لوٹنے کے باوجود پکڑا نہ جا سکا

  

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) پشاور میں ان دنوں ایک سپائیڈرمین کے چرچے ہیں۔ پشاور کا یہ سپائیڈرمین کوئی ہیرو نہیں ہے اور نہ ہی فلمی سپائیڈرمین کی طرح یہ دیواروں پر چڑھ سکتا ہے اور نہ اپنی انگلی سے جالا نکال سکتا ہے، مگر پھر بھی یہ پکڑا نہیں جا سکتا۔ پشاور کا یہ سپائیڈرمین درحقیقت ایک مقامی جرائم پیشہ شخص ہے جو کئی سٹریٹ کرائمز اور بینک ڈکیتیوں میں ملوث ہے مگر آج تک پکڑا نہیں جا سکا۔ اس شخص کا شمار بھی ان 200سے زائد جرائم پیشہ لوگوں میں ہوتا ہے جو 2021ءکے دوران عدالتوں سے ضمانت پا کر دوبارہ پشاور شہر کی سڑکوں پر خوف کی علامت بنے ہوئے ہیں۔

ایکسپریس ٹربیون کے مطابق یہ تمام جرائم پیشہ لوگ پولیس کی طرف سے ناقص انویسٹی گیشن اور کمزور مقدمات کے باعث ضمانتوں پر رہا ہوئے اور واپس آ کر وہی جرائم کر رہے ہیں جن کی وجہ سے انہیں پکڑا گیا تھا۔ اس کی ایک مثال بلال گروپ ہے۔ جرائم پیشہ لوگوں کا یہ گروپ کئی ڈکیتیوں اور اغواءبرائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ہے مگر پولیس کی انہی کمزوریوں کی وجہ سے اس گروپ کے لوگ دندناتے پھر رہے ہیں۔ یہ لوگ بھی گرفتار ہو کر ضمانتوں پر رہا ہوئے اور رہائی کے بعد پشاور کے علاقوں فقیرآباد، یکاتوت، گلبہار، پہاڑی پورہ، مچنی گیٹ اور شاہ پور میں 10لاکھ روپے مالیت سے زائد کی وارداتیں کر چکے ہیں۔

ذرائع نے ایکسپریس ٹربیون کو بتایا ہے کہ ان جرائم پیشہ افراد کی ضمانت پر رہائی کے بعد نگرانی نہ ہونے کے برابر کی جاتی ہے، حالانکہ ان کے جرائم کی ایک طویل فہرست پولیس کے پاس ہے مگر پولیس کی لاپروائی کے سبب یہ لوگ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد بھی وارداتیں کرتے پھرتے ہیں۔پشاور پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ ”اس گینگ کے لوگ شہر کے مختلف علاقوں میں ڈکیتیاں کر چکے ہیں۔ انہوں نے جیل سے رہا ہوتے وقت اپنے ایڈریس اور فون نمبر ہی غلط دیئے تھے۔ ان کے شناختی کارڈز پر موجود ان کا ایڈریس بھی اپ ڈیٹڈ نہیں تھااور ملزمان ان ایڈریسز پر گزشتہ کئی سالوں سے کبھی نہیں گئے ، جس کی وجہ سے پولیس کے لیے ان کی نگرانی کرنا یا انہیں گرفتار کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

مزید :

علاقائی -خیبرپختون خواہ -پشاور -