جاپان کے سمندر میں آتش فشاں پھٹنے سے دوسری جنگ عظیم کے ڈوبے ہوئے 24بحری جہاز حیران کن طور پر اوپر آ گئے

جاپان کے سمندر میں آتش فشاں پھٹنے سے دوسری جنگ عظیم کے ڈوبے ہوئے 24بحری جہاز ...
جاپان کے سمندر میں آتش فشاں پھٹنے سے دوسری جنگ عظیم کے ڈوبے ہوئے 24بحری جہاز حیران کن طور پر اوپر آ گئے

  

ٹوکیو(مانیٹرنگ ڈیسک) جاپان میںسمندر میں موجود آتش فشاں پھٹنے سے دوسری جنگ عظیم کے دوران ڈوبنے والے 24بحری جہاز بھی حیران کن طور پر اوپر آ گئے۔ میل آن لائن کے مطابق ان جاپانی جہازوں کو دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکی فوج کی طرف سے نشانہ بنا کر ڈبو دیا گیا تھا جس کے بعد سے یہ سمندر کی تہہ میں پڑے تھے۔

گزشتہ دنوں سوری بیشی نامی آتش فشاں پہاڑ پھٹنے سے راکھ اور لاوے سے سمندر کا ’بیڈ‘ اوپر اٹھنا شروع ہو گیا، جس کے ساتھ ان جہازوں کا ملبہ بھی اوپر آ گیا۔ سیٹلائٹ سے حاصل کی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بحری جہازوں کا یہ ملبہ آتش فشاں کی راکھ کے اوپر موجود ہوتا ہے ۔رپورٹ کے مطابق یہ جاپانی بحری جہاز جاپان کے جزیرے آئیوو جیما پر لڑی جانے والی جنگ کے دوران غرق آب ہوئے۔ 

رپورٹ کے مطابق آئیوو جیما پر اس وقت کوئی آبادی نہیں ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران اس پر امریکہ کا قبضہ ہو گیا تھا۔ تاہم امریکہ نے 1968ءمیں یہ جزیرہ جاپان کو واپس کر دیا جس کے بعد سے یہ جاپانی فوج کے زیرتسلط ہے۔واضح رہے کہ امریکی فوج نے اس جزیرے پر قبضہ کرنے کے بعد یہاں اپنی ایک مصنوعی نیول بیس قائم کی تھی۔ جب امریکی فوج نے جاپان کے مرکزی حصے پر حملہ کیا تو اس جزیرے سے امریکی فوج کو کمک پہنچائی جاتی رہی۔

مزید :

بین الاقوامی -