جام کمال ڈٹ گئے، اسمبلی فلور پر  مستعفی ہونے سے انکار ، ریفرنڈم کا چیلنج قبول کرلیا

جام کمال ڈٹ گئے، اسمبلی فلور پر  مستعفی ہونے سے انکار ، ریفرنڈم کا چیلنج قبول ...
جام کمال ڈٹ گئے، اسمبلی فلور پر  مستعفی ہونے سے انکار ، ریفرنڈم کا چیلنج قبول کرلیا
سورس: File

  

کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال ڈٹ گئے، اسمبلی فلور پر  مستعفی ہونے سے انکار کرتے ہوئے رکنِ اسمبلی ثنا اللہ بلوچ کا ریفرنڈم کا چیلنج بھی قبول کرلیا۔

جام کمال نے بلوچستان اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد  پیش ہونے  کے بعد  اپوزیشن اور ناراض ارکان کا استعفیٰ کا مطالبہ مسترد کردیا۔ انہوں نے ارکان پر واضح کیا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کریں گے اور اگر انہیں ایوان سے دو ووٹ بھی ملیں تو ان کیلئے یہ فخر کی بات ہے، وہ تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کے روز ہونے والے فیصلے کو قبول کریں گے،میدان میں اتر ے ہیں ہار ہو یا جیت یہ سیاست کا حصہ ہے،اگر نمبر پورے ہوگئے تو پھر سب کو برداشت کرنا ہوگا۔

انہوں نے رکن اسمبلی ثنا اللہ بلوچ کے ریفرنڈم کا چیلنج بھی قبول کرلیا اور کہا کہ اگر چیلنج کے مطابق دو فیصد ووٹ حاصل نہ کرسکے تو پوری زندگی کیلئے سیاست چھوڑ دیں گے۔ خیال رہے کہ ایوان میں تقریر کرتے ہوئے ثنا اللہ بلوچ نے چیلنج کیا تھا کہ ریفرنڈم کرالیا جائے، اگر جام کمال دو فیصد ووٹ لے گئے تو وہ ہمیشہ کیلئے سیاست چھوڑ دیں گے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد ایک جمہوری عمل ہے جو کافی مرتبہ دیکھا،عدم اعتماد کا معاملہ مکمل ہونے تک مستعفی نہیں ہوں گا،تین دن آپ بھی یہاں پر ہیں اور میں بھی بطور وزیراعلیٰ موجود ہوں گا،امید کرتاہوں عدم اعتماد کامعاملہ جمہوری طریقے سے حل ہوگا۔

جام کمال خان نےکہا کہ اپوزیشن جماعتوں سے کوئی گلہ نہیں،اپوزیشن نے حکومتی پالیسیوں کی حمایت کی ہے،اپوزیشن کا کام حکومت کی تعریف کرنانہیں ، اپوزیشن جس انداز میں تنقید کر رہی ہےیہ انکا حق ہے،بے چینی تو اپوزیشن میں ہونی چاہیے،باتیں کرنا بہت آسان ہے مگر سننا بہت مشکل ہے،کہا تو جاتاہے کہ سبکو ساتھ چلناچاہیے مگر ایسا نہیں ہے،دماغ کے ساتھ دل بھی بڑا رکھناچاہیے،ایوان میں موجود تمام دوستوں کو میری پوزیشن کا پتہ ہے،دوستوں کی امیدیں نہیں توڑوں گا،ایوان میں شکست قبول ہے مگر استعفیٰ نہیں دوں گا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کا مزید کہنا تھا کہ جب حکومت میں ہوتے ہیں تو ناراضگیاں زیادہ ہوتی ہیں، یہ سب سیاست کا حصہ ہے تاہم ذاتیات تک نہیں جانا چاہیے، میں یہ نہیں کہتا کہ سب ٹھیک کر رہے ہیں لیکن بلوچستان کے ہر ضلع میں کام ہو رہا ہے،تحریک عدم اعتماد ایک جمہوری عمل ہے جو اس سے پہلے بھی کافی مرتبہ دیکھا، بلوچستان میں پہلی دفعہ یہ نہیں ہوا ماضی میں بھی ہوتا رہاہے،جمہوری عمل میں ایک دوسرے کیلئے سپیس رکھنی چاہیے،جس دن محسوس کیا کہ لوگ میرے ساتھ نہیں، مستعفی ہوجاوں گا،اگر ہم اپوزیشن میں آگئے تو کیا ناراض ارکان پھرسے ہمارے ساتھ ہوں گے؟احتجاج کرنا لوگوں کا جمہوری حق ہے، ان کو نہیں روکا،صوبائی حکومت نے احتجاج کیلئے ایک جگہ مختص کرنے کا فیصلہ کیاتھا، بلوچستان کی پہلے بھی خدمت کی اور بعد میں بھی کریں گے۔

خیال رہے کہ سپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کیلئے 25 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ پیر کو دن 11 بجے ووٹنگ کا عمل شروع ہوگا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -بلوچستان -کوئٹہ -