تحریک عدم اعتماد، جام کمال کے خلاف کتنے ووٹ پڑیں گے؟ ایسا دعویٰ کہ وزیر اعلیٰ کو اپنی کرسی بچانا مشکل نظر آنے لگے

تحریک عدم اعتماد، جام کمال کے خلاف کتنے ووٹ پڑیں گے؟ ایسا دعویٰ کہ وزیر اعلیٰ ...
تحریک عدم اعتماد، جام کمال کے خلاف کتنے ووٹ پڑیں گے؟ ایسا دعویٰ کہ وزیر اعلیٰ کو اپنی کرسی بچانا مشکل نظر آنے لگے

  

کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن )ناراض ارکان سردار عبدالرحمان کھیتران اور حاجی نور محمد دمڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان قبائلی صوبہ ہے،کسی بھی واقعہ کی ذمہ داری جام کمال پر عائد ہوگی، آج ہمارے حمایتی اراکین کی تعداد 42 تک پہنچ گئی ہیں،وزیر اعلی کیخلاف تحریک میں اراکین کی تعداد میں مزید بھی اضافہ ہوگا، ناراض ارکان میں ایک اور رکن کا اضافہ ہوا ہے۔

بلوچستان اسمبلی میں اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےسردار عبد الرحمان کھیتران نے کہا کہ پاکستان عوامی پارٹی کے رہنما سید احسان شاہ بھی ہمارے قافلے میں شامل ہوگئے ہیں جبکہ نور محمد دمڑ بھی ہمارے کاروان میں شامل ہوگئے ہیں، سرادر اختر مینگل سے بھی بات ہوئی ہیں،سرادر اختر مینگل سے احسان شاہ نے بات کی،ان کی بھی حمایت حاصل ہے، آج ہمارے حمایتی اراکین کی تعداد 42 تک پہنچ گئی ہے،وزیر اعلی کیخلاف تحریک میں اراکین کی تعداد میں مزید بھی اضافہ ہوگا۔

سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ ہمارے پانچ ارکان مسنگ پرسن میں آگئے ہیں،آئی جی کو آن بورڈ لیا ہے، کسی بھی ادارے پر الزام نہیں لگاتے، یہ پنجاب، سندھ اور کے پی کی سیاست سے مختلف ہے اس کے برے اثرات مرتب ہوں گے،سپیکر نے رولنگ دی، ارکان سے متعلق وضاحت نہیں کر سکتے، ہارس ٹریڈنگ یا کوئی ایسا عمل ہوا تو جام کمال ذمہ دار ہوں گے، پورے صوبے کو قربان نہیں کر سکتے جام اکثریت کھو چکا بضد ہیں ۔

حاجی نور محمد دمڑ نے کہا کہ آخر وقت تک جام کمال کو سمجھایا لیکن وہ نہیں مانے، سینٹرل کمیٹی کا ممبر پی ایچ ای اور واسا کا وزیر تھا، کچھ عرصے سے سیاسی بحران تھا ،اپنے پارٹی کے ساتھ کھڑا تھا، اس وقت پارٹی دوستوں کو تنقید کی، باپ پارٹی یا حکومت کے اندر جو حالات تھے، جام کمال ڈیلیور نہیں کر سکے، پارٹی کا اجلاس ہوا تھا کہ ہم اپوزیشن کا ساتھ نہیں دیں گے، جام کمال 15 دن میں استعفی دے یا دوستوں کو راضی کرے لیکن جام کمال نے فیصلے کی خلاف ورزی کی جب انہوں خلاف ورزی کی تو میں نے جام کمال کو کہا کہ آپ کیوں پارٹی قیادت کو دیوار سے لگا رہے ہیں؟ان کی بچگانہ حرکت پر استعفی دیا ،پھر واپس لیا ،جام کمال کے ساتھ نہ پارٹی میں اکثریت ہے، نہ اسمبلی میں، سب مل بیٹھ کر پارٹی کے اندر سے کسی اور کو وزیر اعلی بنائیں گے لیکن جام کمال بضد ہیں، باپ پارٹی کے 90 فیصد لوگ ایک طرف، جام کمال کے ساتھ کچن کبیںٹ رہ گئی ہے، پارٹی کو بچانے کیلئے جام صاحب سے الگ ہوا ،وزارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ،میرے وزارت کا 80 فیصد کا اختیار جام کمال کے ساتھ 20 میرے ساتھ تھے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنائیں گے اور پارٹی سے کسی اور کو وزیر اعلی بنائیں گے، کوشش تھی کہ کسی فریق کا حصہ نہ بنوں، ایک طرف صدر دوسری طرف سینئر قیادت تھی، مرکزی قیادت کے فیصلوں پر ناراض ارکان نے مکمل عمل درآمد کیا، مسائل جام کمال کی وجہ سے ہیں، ہم دوستوں و اداروں کی میڈیا ٹرائل نہیں چاہتے ،اسمبلی فلور پر کہاکہ کونسے جادو کی چھڑی ہے جو 42 ارکان کو کور کرسکے ،ہم اپنے اداروں کو ڈیفینڈ کرتے آئیں گے،جام کمال سے ایک بندہ نہ سنبھل سکا بہتر ہے کہ جام کمال استعفی دے دیں۔

مزید :

علاقائی -بلوچستان -کوئٹہ -