قومی اسمبلی: حکومت کی بلوچستا ن کے مسائل کے حل کیلئے ٹروتھ اینڈری کنسیلی ایشن کمیشن کے قیام کی تجویز 

قومی اسمبلی: حکومت کی بلوچستا ن کے مسائل کے حل کیلئے ٹروتھ اینڈری کنسیلی ...

  

اسلام آباد(آئی این پی) قومی اسمبلی میں حکومت نے بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے ٹروتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن بنانے کی تجویز پیش کردی جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے ملتان کے نشتر ہسپتال کی چھت سے ملنے والی لاشوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے، زیارت، خاران اور مستونگ کے واقعات کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کاجوڈیشل انکوائری کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، لیکن بلوچستان کے حالات کیوں تبدیل نہیں ہو رہے، ہم ہر روز کوئی نہ کوئی مسئلہ ایوا ن کے سامنے رکھتے ہیں لیکن معلوم نہیں یہ قوتیں چاہتی کیا ہیں، ہم وہاں پر نہیں جانا چاہتے جہاں پرہمیں دھکیلا جا رہا ہے، وفاقی وزراء خواجہ آصف اور شیری رحمان نے کہا 11،12 سال قبل سوات میں جو کچھ ہوا،آج وہاں پر وہی سلسلہ ہو رہا ہے، ایک اقتدار کی جنگ اسوقت ملک میں جاری ہے، اس اسمبلی نے آئینی طریقے سے ایک حکومت کو ہٹایا اور وہ شخص ریاست کو بلیک میل کر رہا ہے، سارا ماحول زہر آلودہ ہوا ہوا ہے، وقت بڑی تیزی سے گزر رہا ہے، اقتدار کی جنگ بعد میں بھی لڑی جاسکتی ہے لیکن فوکس ایسی چیزوں پر بھی ہونا چا ہیے، جو اس وقت سوات یا دوسرے علاقوں میں ہو رہا ہے وہ آگ سب کے دامن تک بھی پہنچ سکتی ہے، دہشتگرد دہشتگرد ہے، وہ وہی رہیگا جس کیلئے اس نے اسلحہ ا ٹھایا اورجہاں وہ آپ سے بات کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنے ہتھیار ڈال کر بات کرتا ہے۔ بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر زاہد اکرم درانی کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے دوران اظہار خیال کر تے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا مزید کہنا تھا جب ہم پی ٹی آئی کیساتھ اتحادی تھے تو لسٹ میں نے مہیا کی تھی، ہم نے اسوقت بھی حکومت سے گزارش کی تھی کہ جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے، انہوں نے کہا ملتان نشتر ہسپتال سے جو لاشیں ملیں ہیں، کون ہیں یہ لوگ؟ و ہ کہاں سے ہیں کس علاقے سے ہیں ان کے رشتہ دار کون ہیں؟، ان سوالات کے جوابات چاہیئں۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا یہ گھمبیر اور ہماری ریاست کا مسئلہ ہے،یہ کسی فرد واحد نہیں قوم کا مسئلہ ہے، ہمیں اس وقت کم ازکم دو تین ایسے ایشوز ہیں جن پر سر جوڑ کر بیٹھنا اوران کا حل نکالنا چاہئے، یہ جو ہو رہا ہے اس کو روکنا چاہئے، سوات کے عوام بازاروں میں احتجاج کیلئے نکل آئے ہیں انکا سیاسی اختلاف کے باوجود ایک ایشو پر اکٹھاہونا اچھی بات ہے،اور جمہوری معاشروں میں ایسا ہونا چاہئے، مگرہمارا معاشرہ جمہوری نہیں، اس وقت سوا تین کروڑ پاکستانی کھلے آسمان کے نیچے زندگی گزار رہا ہے،دوسرااس وقت ملک اقتدار کی جنگ جاری ہے، جن خدشات کا ابھی تھوڑی دیر پہلے اظہار کیا گیا، وہ خدشات اصلی ہیں، اس موقع پر وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ریاض حسین پیرزادہ نے کہا جو سردار اختر مینگل نے کہا اس پر پوری قوم کو غور کرنا چاہئے۔ وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے کہا ہم بھی بہت سا ر ی حقیقتوں کا سامنا کرتے ہیں، پیپلز پارٹی نے بڑی قربانیاں دیں ہیں، بلوچستان کے حوالے سے ٹروتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن کی ضرورت ہے، جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا امن کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا، جبکہ صورتحال یہ ہے صوبے اور مرکز آپس میں لڑ رہے ہیں،ہم اداروں کی مضبوطی چاہتے ہیں۔ اس موقع پر ایک بار پھر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا سردار اختر مینگل نے جس بحث کا آغازکیا میں کابینہ میں بھی یہ معاملہ اٹھانے کی کوشش کروں گا، انہوں نے سینیٹر شیری رحمان کی ٹروتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن بنانے کی تجویز کی بھی حمایت کی اورکہا کسی ملک نے اتنی قربانیاں نہیں دیں جتنی ہماری افواج اور سویلینز نے دیں، پچھلے تین ماہ میں 53فوجی جوانوں کی شہادتیں ہوئی ہیں،ملتان کے نشتر ہسپتال کا واقعہ صوبائی مسئلہ ہے لیکن یہ ساری  قوم کو شرمسار کررہا ہے، پنجاب حکومت اسکی تحقیقات کرے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف اور رکن اسمبلی محسن داوڑ نے بھی اپنے خیالا ت کا اظہار کیا۔بعدازاں قومی اسمبلی اجلاس میں گزشتہ 3سال کے دوران ملک بھر میں خواتین کیخلاف جرا ئم کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ تحریری جواب میں کہا گیا 3سال میں خواتین کیخلاف جرائم پر 63ہزار 367کیسز رجسٹر ہوئے، 2019تا2021کے دوران ملک بھر میں 3987 خواتین کو قتل کیا گیا، زیادتی کے 10ہزار517کیسز رجسٹرڈ ہوئے، اجتماعی زیادتی کے 643واقعات ہوئے، تشدد کے 5171واقعات پر مقدمات رجسٹر ہوئے، ایک ہزار پچیس خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، تیزاب پھینکنے کے 103واقعات ہوئے،گھروں میں چولہا پھٹنے سے جھلسنے کے 38واقعات ہوئے،جبکہ خواتین کو اغواء کرنے کے 41513 کیس رجسٹر ہوئے۔

قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ آخر -