پاکستان کا ایٹمی پروگرام 

پاکستان کا ایٹمی پروگرام 

  

کور کمانڈرز کانفرنس نے پاکستان کے مضبوط نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول سٹرکچر اور ملک کے سٹرٹیجک اثاثوں سے متعلق سکیورٹی انتظامات پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ملک ہے اور سٹرٹیجک اثاثوں کی سکیورٹی عالمی معیار کے مطابق ہے، پاکستان نے اپنے جوہری سلامتی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بہترین بین الاقوامی طریقوں کے مطابق تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت 252 ویں کور کمانڈرز کانفرنس کے شرکاء نے کہا کہ دفاع وطن کے لیے فوج پر عزم ہے۔ 

عسکری قیادت کے ساتھ ساتھ سیاسی قیادت نے بھی امریکی صدر جو بائیڈن کے بیان کو مسترد کر دیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی سکیورٹی پر مکمل اطمینان اور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور قومی بنیادی سٹرٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے ہے، پاکستان کا ایٹمی پروگرام موثر اور مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کے تابع ہے اور یہ پروگرام عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے تقاضوں کے مطابق پوری طرح محفوظ ہے کیونکہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے ڈیمو کریٹک کانگریشنل کیمپین کمیٹی سے خطاب میں پاکستان کو خطرناک ترین ملک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی کوئی ترتیب نہیں، یہ بے قاعدہ ہے اور خدشہ ہے کہ اسے کوئی بھی استعمال کر سکتا ہے۔ امریکی صدر کے بیان کے بعد وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ جو بائیڈن کے پاکستان سے متعلق بیان پرامریکی سفیر کو ڈی مارش کرنے کے لیے وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا ہے تاکہ وہ امریکی صدر کے بیان پر امریکہ کی پوزیشن واضح کریں۔ انہوں نے بیان کو حیران کن قرار دہتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ملک کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں سوال اٹھتا ہے تو وہ بھارت ہے، ہمارے ایٹمی اثاثے محفوظ اور تمام عالمی قوانین کے مطابق ہیں اور یقین ہے کہ اس بیان سے پاک امریکہ تعلقات پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔ پاکستان میں دفتر خارجہ کی جانب سے صدر جوبائیڈن کے ریمارکس پر احتجاج کے لیے امریکی سفیر کی طلبی کے بعد گزشتہ روز امریکہ میں پاکستانی سفیر مسعود خان اور امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے سینئر مشیر قونصلر ڈیرک شولیٹ کے درمیان ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کے پرنسپل ڈپٹی ترجمان ویدانت پٹیل نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران امریکی صدر کے ریمارکس سے پیدا ہونے والی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو پاکستان کی جوہری اثاثوں کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت پر اعتماد ہے،امریکہ پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی قدر کرتا ہے اوردونوں ملکوں کے درمیان مضبوط شراکت داری ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ امریکی اور پاکستانی حکام باقاعدگی سے ملاقات کرتے ہیں، پاکستان سے ایسا تعلق ہے جسے امریکہ اہم سمجھتا ہے اور یہ تعلق آئندہ بھی مضبوطی سے جڑا رہے گا۔ 

پاکستان کے بروقت اور مناسب ردعمل اور امریکی حکام کی جانب سے امریکی صدر کے بیان کی وضاحت کے بعد یہ مسئلہ اب ختم ہوتا نظرآ رہا ہے۔ دنیا بھرمیں جوہری طاقت اوراس سے جڑے تمام معاملات کو حساس اور پیچیدہ موضوع سمجھا جاتا ہے، اس پر چلتے پھرتے گفتگو مختلف طرح کے تنازعات کو جنم دے سکتی ہے۔ جوہری معاملات پر کسی کو بھی سیاست نہیں کرنی چاہیے چاہے وہ امریکی صدر ہی کیوں نہ ہو۔ پاکستانی سیاست دانوں کو بھی ایسے حساس موضوعات کو بھی بلاسوچے سمجھے زیر بحث نہیں لانا چاہئے۔ امریکی صدر کے بیان کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں دنیا کے سامنے یہ سوال تو ضرور اٹھایا کہ پاکستان نے نیوکلیئر صلاحیت حاصل کرنے کے بعد کب جارحیت کا مظاہرہ کیا لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنے حریفوں کو نشانہ بنانے کا موقع بھی ضائع نہیں کیا اور بائیڈن کے بیان کو حکومت کی خارجہ پالیسی اور امریکہ کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے دعوؤں کی مکمل ناکامی قرار دیتے ہوئے پوچھ لیا کہ کیا یہ تعلقات کی بحالی ہے؟ امریکی صدر کے بیان پر خود امریکہ کی وضاحت سامنے آ جانے کے بعد اب صورت حال مختلف ہو چکی ہے، کیا ہی بہتر ہوتا کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے لیڈر اِس معاملے کو مقامی سیاست کے ساتھ نہ جوڑتے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہمارے تمام سیاست دان ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے یک زبان ہو کر ریاستی موقف کی تائید کرتے کہ پاکستان کی جوہری طاقت کسی ایک ادارے یا سیاسی جماعت کی میراث نہیں ہے بلکہ یہ قومی اثاثہ ہے۔ 

پاکستان نے جوہری پروگرام کی بنیاد 1956ء میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن قائم کر کے رکھی تھی۔ 1965ء میں ذوالفقارعلی بھٹو نے مشہور زمانہ الفاظ کہے کہ بھارت نے اگر ایٹمی بم بنایا تو ہم بھی بنائیں گے چاہے اس کے لیے ہمیں بھوکا رہنا پڑے یا گھاس کھانی پڑے۔1971ء کی جنگ کے بعد انہوں نے اٹامک انرجی کمیشن کو تین سال کے اندر اندر جوہری طاقت حاصل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 1974ء میں بھارت کی جانب سے کیے جانے والے پہلے ایٹمی بم کے ٹیسٹ کے بعد خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے لیے ایٹمی طاقت کا حصول ناگزیر ہو چکا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو اقتدار سے رخصت ہوئے،جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا لگا کر عنانِ اقتدار سنبھال لی لیکن ایٹمی پروگرام جاری رہا اور ان ہی کے دور میں اسے مکمل کر لیا گیا۔ 1998ء  میں بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے چھ ایٹمی دھماکے کر کے خطے میں طاقت کا توازن پیدا کر دیا۔ پاکستان نے اس وقت بھی اپنی جوہری صلاحیت کو بھارت کے خلاف مزاحمت اور خطے میں توازن سے منسوب کیا تھا اور آج بھی وہ اس موقف پر قائم ہے۔گزشتہ سات دہائیوں میں چاہے ذوالفقار علی بھٹو ہوں،جنرل ضیاء الحق ہوں، نواز شریف ہوں، غلام اسحاق خان ہوں، شہید بے نظیر بھٹو ہوں یا عمران خان، ملک کی سیاسی قیادت ہو یا عسکری قیادت، سبھی نے ایٹمی پروگرام کو بنانے اور چلانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا بلکہ ہمیشہ قومی اثاثے کی بہتری اور تحفظ کے لیے کوشاں رہے، اس پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا گیا، یہی وجہ ہے کہ جوہری معاملات پر کرادار ادا کرتی دنیا بھر کی تمام ایجنسیاں پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سٹرکچراورجوہری اثاثوں پر کسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں کرسکیں۔ نان پروفلائریشن ٹریٹی (این پی ٹی) پر بھی پاکستان کا موقف بھارت کے ایٹمی پروگرام سے جڑا ہے، پاکستان کا شروع دن سے یہی موقف رہا ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام چونکہ بھارت کی جوہری استعداد کے جواب میں بنایا گیا اس لیے عالمی طاقتوں کو اس سے بھارت جیسا سلوک ہی کرنا چاہیے۔روس کے یوکرین پر حملے کے بعد اس بات پر بحث جاری ہے کہ اگر یوکرین اپنی ایٹمی طاقت سے دستبردار نہ ہوتا تو شاید روس اس پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچتا بھی نہ، پاکستان کا ایٹمی پروگرام خطے پر بھارتی تسلط کے عزم کے خلاف نہ صرف مزاحمت کا استعارہ ہے بلکہ اس کے ارادوں کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ 

مزید :

رائے -اداریہ -