غذائی بحران کا خدشہ

  غذائی بحران کا خدشہ
  غذائی بحران کا خدشہ

  

 زیادہ دن نہیں گزرے کہ دنیا نے خوراک کا عالمی دن منایا ظاہر ہے کچھ منصوبہ بندی بھی کی گئی ہو گی، ہم نے یہ دن ان حالات میں منایا کہ ہمیں خوراک کی قلت کے بحران کا خدشہ لاحق ہے۔ کتنی عجیب بات ہے،افسوسناک اور تشویشناک بھی کہ ایک زرعی معیشت ہونے کے باوجود 75 برسوں میں ہم اس قابل نہیں ہو سکے کہ خوراک ہی میں خود کفالت حاصل کر لیں۔ اس شعبے میں اپنی نااہلی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی زرعی درآمدات 8 ارب ڈالر سالانہ سے تجاوز کر رہی ہیں اور یہ پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر اٹھنے والے خراجات کے برابر ہونے والی ہیں پاکستان زیادہ تر خوردنی تیل، کپاس، گندم، چائے پتی اور دالیں درآمد کرتا ہے اور ضرورت پڑے تو پیاز اور ٹماٹر بھی باہر سے منگوا لئے جاتے ہیں،جیسا کہ حالیہ سیلاب کے دنوں میں ہوا۔ ایک بڑا زرعی ملک ہونے،کل افرادی قوت کے 40 فیصد کے زرعی شعبے سے منسلک ہونے،اور ایک بڑے نہری نظام کے مالک ہونے کے باوجود ہم اپنی سال بھر خوراک کی ضروریات پوری نہیں کر پا رہے تو یہ یقیناً ایک لمحہ فکریہ ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ آیا ہمارے حکمران اس لمحہ فکریہ کا ادراک رکھتے ہیں؟

 ہم پاکستانیوں نے خوراک کا عالمی دن ان حالات میں منایا کہ سیلاب کے باعث لاکھوں ایکڑ رقبے پرکھڑی فصلیں تباہ ہونے سے غذائی اجناس کی قلت کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے۔ اگرچہ وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی نے ملک میں غذائی قلت کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے لیکن یہ سوال اہم ہے کہ اگر خوراک کی کمی نہیں تو اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیوں ہوتا جا رہا ہے،نرخوں پر کنٹرول کیوں نہیں کیا جا رہا؟ اگر ڈیمانڈ اور سپلائی کا اصول ہی درست یعنی توازن ہے تو کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں بھی توازن نظر آنا چاہئے،لیکن ایسا کچھ نظر نہیں آتا۔ چند روز قبل ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ سیلاب سے 9.4 ملین ایکڑ رقبے پر زیر کاشت فصلوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ کپاس کی 45 فیصد فصل تباہ ہوگئی ہے، اگر اکتوبر تک پانی کی سطح کم نہ ہوئی تو گندم کی بوائی خطرے میں پڑ جائے گی، اکتوبر اب اختتام کو پہنچنے والا ہے لیکن سیلاب زدہ علاقوں میں صورتحال تاحال قابو سے باہر نظر آتی ہے کچھ علاقوں میں پانی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا لیکن اس کی سطح کچھ کم ہوئی ہے، ان علاقوں کے مکین اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں،لیکن سوال یہ ہے کہ بے سروسامانی کے عالم میں وہ کریں گے کیا؟ حکومت آئندہ چند روز میں سیلاب زدگان کی بحالی کے لئے پروگرام کا باقاعدہ آغاز کرنے والی ہے۔ دعا ہے کہ اس پروگرام پر شفاف طریقے سے عمل کیا جا سکے کیونکہ سیلاب زدگان کی جلد بحالی کے معاملے سے ہی ہماری خوراک کی ضروریات جڑی ہوئی ہیں

، ایک اور رپورٹ بھی تشویشناک ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ غذائی عدم تحفظ اور قلت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 15 ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے جہاں 4 لاکھ 70 ہزار افراد شدید غذائی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ عالمی غذائی عدم تحفظ 2023 تک شدید رہے گا اور لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتا رہے گا۔ 

نیشنل فوڈ سکیورٹی اور خوراک کے متعلقہ سرکاری اداروں نے بھی اپنی ابتدائی جائزہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ 4 کروڑ کی آبادی کے لئے خوراک کا حصول مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ سندھ اور بلوچستان میں تقریباً 95 فیصد فصلیں تباہ ہو چکی ہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سندھ میں آئندہ سال 10 لاکھ ایکڑ پر گندم کاشت نہیں ہو سکے گی، ایک طرف یہ معاملات ہیں اور دوسری جانب عالمی منڈی کے حالات بھی کوئی اچھی پیش گوئی کرتے نظر نہیں آتے۔ عالمی سطح پر گزشتہ برسوں کی نسبت رواں مالی سال کے دوران گندم اور خوراک کے طور پر استعمال ہونے والی دوسری اشیا خاصی مہنگی ہو چکی ہیں پہلے کورونا کی وجہ سے زرعی سمیت تمام شعبوں کی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوئے،رہی سہی کسر روس یوکرین جنگ نے پوری کر دی،جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ روس نے اب حملے مزید تیز کر دیئے گئے ہیں  ایسے میں جب یورپ والے مہنگائی کی دُہائی دے رہے ہیں،پاکستان کو خوراک کے طور پر استعمال ہونے والی اشیا کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تیسری جانب کرنسی کی قدر میں تیزی سے کمی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے زرعی اِن پُٹ کی لاگت میں مسلسل اضافہ کسانوں کو گندم کی فصل سے دور کر رہا ہے۔ امدادی قیمت کے اعلان میں تاخیر سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورت حال کاشتکاروں کو متبادل فصلیں کاشت کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں، پھر اتنے بڑے سیلاب میں جہاں دوسری کوئی چیز نہیں بچی،وہاں بیج کے ذخیرے کہاں محفوظ رہے ہوں گے کہ کاشتکار یہ فصل بونے کے قابل ہو سکیں۔ دوسرے لفظوں میں معیاری،زیادہ پیداوار دینے والے بیج کا حصول کسانوں اور کاشت کاروں کے لئے ایک نیا دردِ سر بن سکتا ہے۔ یہ تو واضح ہے ہی کہ غیر معیاری بیج کا استعمال گندم کی پیداوار میں کمی کا باعث بنے گا، ان مسائل پر قابو پاتے ہوئے کسان کسی نہ کسی طرح مطلوبہ رقبے پر گندم کاشت کرنے میں کامیاب ہو بھی گیا تو ایک نیا بحران اس کا منتظر ہو گا،گندم کی مناسب پیداوار کے لئے ضروری کھادوں کی عدم دستیابی کا بحران،جو اب تقریباً ہر سال ہی ہمارے ملک میں پیدا ہوتا ہے اور ایک طرح سے کسانوں کو ناکوں چنے چبواتا ہے۔

ظاہر ہے یہ ساری خبریں،اندیشے اور خدشات ایک ایسے ملک کے لئے اچھے ہرگز نہیں ہو سکتے جو پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہے اور پُرانے قرضوں کی ری شیڈولنگ اور نئے قرضوں کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ یوکرین کی جنگ کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور خوراک کی قلت کے درمیان ریاستیں اپنے اپنے غذائی تحفظ کے بارے میں فکر مند ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟

مزید :

رائے -کالم -