ملتان میں تحریک انصاف کی شکست کے اسباب 

 ملتان میں تحریک انصاف کی شکست کے اسباب 
 ملتان میں تحریک انصاف کی شکست کے اسباب 

  

 ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی دو قومی نشستوں پر شکست اس لیے سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے کہ یہ نشستیں بھی تحریک انصاف کی تھیں جن میں سے ایک پر عمران خان اور دوسری پر مہر بانو قریشی پیپلز پارٹی کے امیدواروں سے ہار گئے۔عمران خان چھ  نشستوں پر کامیاب ہوکر ایک ریکارڈ قائم کرچکے ہیں اگر وہ کراچی ملیر کی نشست جیت جاتے تو ان  کا جیتنے  کا سکور سو فیصد ہو  جاتا۔ خیر یہ اتنی بڑی بات نہیں کہ جتنی بڑی بات ملتان میں پی ٹی آئی کی امیدوار مہربانو قریشی کی پیپلزپارٹی کے امیدوار علی موسیٰ گیلانی کے مقابل شکست ہے۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اس فتح کو پیپلز پارٹی کے لیے تاریخی قرار دیا ہے انہوں نے عمران خان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ملتان کے عوام نے خانہ بدوش کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ نشست تحریک انصاف کے ایم این اے اور شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی کے صوبائی اسمبلی کے انتخاب لڑنے کی وجہ سے خالی ہوئی تھی آٹھ نشستوں میں سے یہ  واحد نشست تھی جس پر عمران خان امیدوار نہیں تھے اس لیے یہ ملتان کے گیلانی اور قریشی خاندان کی روایتی سیاست کا ایک معرکہ بن گئی تھی۔

جب یہ نشست خالی ہوئی تو شروع میں کسی کو بھی علم نہیں تھا کہ اس پر پی ٹی آئی کا امیدوار کون ہوگا ایک عام تاثر یہ تھا کہ شاہ محمود  قریشی یا تو خود اس نشست پر کھڑے ہوں گے یا پھر اپنے گروپ کے کسی خاص آدمی کو ٹکٹ دلوائیں گے۔ اس وقت تک ان کی بیٹی مہربانو قریشی کے بارے میں کسی کو علم ہی نہیں تھا کہ وہ اس حلقے سے امیدوار ہو سکتی ہیں پھر اچانک یہ خبر بریک ہوئی کہ شاہ محمود قریشی اپنی بیٹی مہربانو قریشی کو حلقہ 157 کے ضمنی انتخاب میں امیدوار کے طور پر سامنے لا رہے ہیں۔ اس خبر کے سامنے آتے ہی تحریک انصاف کے حلقوں میں جہاں حیرت کا اظہار کیا گیا وہاں یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ اس حلقے سے قریشی اور گیلانی خاندانوں کی جو روایتی سیاست وابستہ ہے اس کے تحت ایک نیا معرکہ ہونے جا رہا ہے۔ یہ ان خاندانوں کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ جب گیلانی خاندان کے مقابلے میں قریشی خاندان کی ایک خاتون مقابل تھی۔ اس سے پہلے 2018 کے عام انتخابات میں شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی اور یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی موسیٰ گیلانی کے درمیان مقابلہ ہو چکا تھا جس میں زین قریشی پہلے اور علی موسی گیلانی دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ اس بار علی موسی گیلانی کے مقابل قریشی خانوادے کی بیٹی مہربانو قریشی تھیں ایک فرق یہ بھی تھا کہ 2018 کے انتخابات میں علی موسیٰ گیلانی صرف پیپلزپارٹی کے امیدوار تھے جبکہ اس بار پی ڈ ی ایم کی 11 جماعتوں کے مشترکہ امیدوار تھے اور ان کے مقابلے میں مہربانو  قریشی صرف ایک جماعت پی ٹی آئی کی امیدوار تھیں۔ 2018 کے انتخابات میں مسلم لیگ نون کے امیدوار عبدالغفار ڈوگر تھے جو تیسرے نمبر پر رہے اس بار مسلم لیگ نون کی مقامی قیادت پوری طرح علی موسی گیلانی کی مہم چلا رہی تھی یو ں مقابلہ بہت سخت ہو چکا تھا لیکن اس کے باوجود کسی کو یہ امید نہیں تھی کہ علی موسی گیلانی پچیس ہزار ووٹوں کی لیڈ سے جیت جائیں گے اور ان کے حاصل کردہ ووٹ ایک لاکھ سے تجاوز کریں گے یہ سب کچھ اس طرح ہوگا کسی کے وہم و گمان  میں نہیں تھا کیونکہ جس طرح عمران خان کے بیانیے کی لہر چلی ہوئی تھی اس سے یہی لگتا تھا کہ ملتان کی یہ نشست بھی تحریک انصاف جیت جائے گی مگر جب نتیجہ سامنے آیا تو سارے اندازے غلط ثابت ہوگئے۔

اب عام تاثر یہ ہے کہ اس حلقے میں تحریک انصاف کی شکست کی وجہ عمران خان کے اس نظریے سے انحراف ہے جو وہ موروثی سیاست کے حوالے سے رکھتے ہیں وہ اپنی تقریروں میں اکثر یہ کہتے ہیں کہ زرداری اور شریف خاندان نے اپنی اگلی نسل کو سیاست میں اتار دیا ہے گویا وہ جمہوریت کو اپنی خاندانی جاگیر سمجھتے ہیں اس لیے وہ ان کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔جب ملتان میں یہی کچھ تحریک انصاف کے وائس چیئرمین نے کیا تو اس کا خود تحریک انصاف کے حلقوں میں رد عمل ہوا۔ملتان میں عمران خان جلسے کے لیے آئے تھے تو اس وقت بھی وہ اپنی تقریر میں یہی بیانیہ اختیار کیے ہوئے تھے جو گویا بالواسطہ طور پر اپنی ہی پارٹی کی امیدوار کے خلاف ایک بیانیہ تھا اہم بات یہ بھی ہے کہ مہربانو قریشی کی وجہ سے تحریک انصاف کوئی مؤثر انتخابی مہم نہیں چلا سکی جبکہ دوسری طرف گیلانی خاندان نے بھرپور انتخابی مہم چلائی یہ حلقہ جو زیادہ تر دیہی علاقوں پر مشتمل ہے اور یہاں کے ووٹرز امیدواروں کی طرف سے بھرپور توجہ کی توقع رکھتے ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی اور علی موسی گیلانی نے اس حوالے سے ان کی توقعات پوری کیں۔ مسلسل ان سے رابطے میں رہے دوسری طرف مسلم لیگ نون کے وہ رہنما جو اس حلقے میں اپنا اثر و رسوخ رکھتے ہیں گیلانی خاندان کے ساتھ اس انتخابی مہم میں قدم بقدم شامل رہے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ صرف پیپلز پارٹی نے اپنے زور بازو پر یہ نشست جیتی ہے بلکہ اس میں مسلم لیگ نون کا پورا پورا کردار شامل ہے۔بہرحال ملتان کے اس انتخابی دنگل میں گیلانی اور قریشی خاندانوں کو ایک بار پھر ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔گیلانی خاندان نے اپنی سیاست بھی بچا لی ہے اور 2018 کے انتخابات میں اپنی شکست کا بدلہ بھی لے لیا ہے۔ملتان جہاں 2018 میں تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا تھا، کیا اپنی مقبولیت کھو چکی ہے؟ کیا اس نشست پر تحریک انصاف کی شکست آنے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی راہ ہموار کرے گی؟ اگرچہ فی الوقت اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا  تاہم اس کے باوجود پیپلزپارٹی کے امیدوار کی فتح موجودہ حالات میں ایک بڑا واقعہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

مزید :

رائے -کالم -