پھر آئے گا عمران  

 پھر آئے گا عمران  
 پھر آئے گا عمران  

  

   مظہر برلاس  بڑے باخبر صحافی ہیں اور ان کے کالموں میں اکثر بڑی بڑی خبریں موجود ہوتی ہیں،گزشتہ روز ان سے طویل نشست ہوئی جس میں حالیہ ضمنی الیکشن پر بڑی سیر حاصل گفتگو ہوئی،پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹس کے روح رواں ملک سلمان اور سایہ ویلفیئرفاونڈیشن کی چیئرپرسن اور کالم نگار کومل سلیم بھی اس موقع پر  شریک گفتگو  رہیں۔مظہر برلاس کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اب روکنا کسی کے بس میں نہیں ہے کیونکہ  اسے اس ملک کے عوام کی اکثریت کا اعتماد حاصل ہے اور حالیہ ضمنی انتخابات کو اس لحاظ سے ریفرنڈم کہا جا سکتا ہے۔ پی ڈی ایم میں شامل اکثر جماعتیں تو اخبارات کے صفحات میں ہی دکھائی دیتی ہیں ورنہ ان کا کوئی سیاسی عوامی اور جمہوری وجود عملی میدان میں نظر نہیں آتا مگر جن کو بڑی جماعت ہونے کا دعویٰ تھا وہ بھی گزشتہ اتوار کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں قصہ ماضی ہوتی دکھائی دیتی ہیں،البتہ آصف زرداری ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی جادوگری دکھاگئے اور دو قومی نشستوں کا ٹکٹ لینے کے بعد ان کے امیدوار دونوں نشستوں پر کامیاب قرار پائے،اس کامیابی کے پس پردہ ان کی سیاسی چالیں تھیں،ایک زرداری سب پر بھاری کا فلسفہ کار فرما تھا یا کسی طرف سے ان پر ”مہر و محبت“ کی نگاہ ڈالی گئی،کراچی جس کی قیادت ایک عرصہ ایم کیو ایم کے ہاتھ رہی اس کا امیدوار بھی کراچی سے کامیابی حاصل نہ کر سکا مگر اندرون سندھ تک محدود ہونے والی پیپلز پارٹی کا امیدوار اس شہر سے کامیاب ٹھہرا،اگر چہ اس کامیابی میں سندھ حکومت کی نظر عنائت اور الیکشن کمیشن کے عارفانہ تجاہل کا بہت زیادہ عمل دخل تھا،ملتان میں علی گیلانی کی کامیابی مگر یوسف رضا گیلانی کے سیاسی،مذہبی اثر و رسوخ کا نتیجہ ہے لیکن اگر اس نشست پر بھی عمران خان خود مقابل ہوتے تو نتیجہ برعکس ہوتا۔

اس ضمنی الیکشن کے بارے ہر کسی کی  اپنی رائے ہے،جس کا ہم سب احترام کرتے ہیں،میرے اپنے خیال میں حکومتی اتحادی ایم کیو ایم سندھ کے شہری علاقوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے مگر الیکشن نتائج سے لگتا ہے کہ یہ دعویٰ محض دعویٰ ہی ہے ورنہ  سندھ کے اربن علاقہ کا ووٹر اب ایم کیو ایم کے طرز سیاست سے نالاں دکھائی دیتا ہے،کارکن بھی بار بار وفاداری اور ہمدردی تبدیل کرنے کی پالیسی کو پسند نہیں کرتے،اہم ترین یہ کہ ہر حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود کراچی کے مسائل حل نہ ہو سکے جس کی وجہ سے ووٹر ہی نہیں کارکن بھی قیادت سے خفا ہیں،کے پی کے میں عمران خان نے تین قومی نشستوں پر فتح کے جھنڈے گاڑے،اے این پی ماضی قریب میں پشتونوں کی ترجمان تھی،اس جماعت کو متعدد بار مرکزی اور صوبائی حکومت میں نمائندگی ملی مگر یہ جماعت بھی پشتونوں کے مفادات کا تحفظ نہ کر سکی،صوبہ کے مذہبی حلقوں پر جے یو آئی کا غلبہ تھا اور ہے ،غلام احمد بلور،ایمل ولی،مولانا قاسم کو نہ صرف پارٹی بلکہ صوبہ کے عوام میں بھی اچھی شہرت حاصل ہے مگر عمران خان نے ان تینوں کو ان کے آبائی حلقوں میں شکست سے دوچار کر کے ثابت کر دیا کہ تبدیلی کی ہوا ابھی رکی نہیں اور یوں  پھر آئے گا عمران۔

  دلچسپ مقابلے پنجاب میں دیکھنے کو ملے،صوبائی نشستوں پرضمنی الیکشن کا معرکہ بھی تحریک انصاف کے نام رہا اور تین میں سے دو نشستیں پی ٹی آئی کے امیدوار لے اڑے،ن لیگ نے رضاکارانہ طور پر خود کو پنجاب تک محدود کر لیا تھا اس زعم میں کہ جس کے ہاتھ پنجاب ہے وفاق بھی اسی کے ہاتھ میں ہے،وقت کی گردش میں یہ جماعت وسطی پنجاب تک محدود ہو گئی،جنوبی اور شمالی پنجاب نے ن لیگ کو مسترد کیا تو اسے جی ٹی روڈ کی پارٹی قرار دیدیا گیا،لیکن حالیہ ضمنی الیکشن سے معلوم ہوا کہ اب جی ٹی روڈ بھی اس کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے،فیصل آباد،ننکانہ سے عمران خان سرخرو ہوئے،البتہ شیخوپورہ کی صوبائی نشست پر ان کے امیدوار نے کامیابی سمیٹی،حالانکہ عمران کے مقابل عابد شیر اور شذرہ منصب بہت مضبوط امیدوار تھے،مگر کپتان کے باؤنسر کے مقابل نہ ٹھہر سکے،یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ حالیہ دنوں میں 33نشستوں پر ضمنی الیکشن ہوئے جن میں سے 26پر تحریک انصاف نے کامیابی اپنے دامن میں ڈالی،جو اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ عوام کی اکثریت دیرینہ سیاسی وابستگی کو خیر باد کہہ کر عمران خان سے امید وابستہ کئے ہوئے ہے۔

محل نظرہے 13جماعتی اتحاد کی حکومت کی سیاسی چال جس کے تحت 129میں سے صرف نو ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور کئے اور الیکشن کمیشن نے فوری ان حلقوں میں ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری کر دیا،ان حلقوں کا انتخاب اس سوچ کے تحت کیا گیا کہ یہاں سے پی ٹی آئی کے کامیاب امیدوار بہت کم مارجن سے جیتے تھے،جبکہ مقابل ن لیگ،پیپلز پارٹی،جے یو آئی اور اے این پی کے امیدواروں کے حاصل کرد ہ مجموعی ووٹ جیتنے والے سے بہت زیادہ تھے،خیال تھا کہ 13جماعتوں کے ووٹرز ایک تحریک انصاف کے مقابلہ میں بہت زیادہ بنتے،مگر عمران خان نے2018کے الیکشن کے مقابلہ میں ہزاروں ووٹ زیادہ لئے مقابل امیدواروں کے ووٹ بھی بڑھے مگر بہت کم تناسب کیساتھ،ن لیگ کے الیکشن میں شکست خوردہ امیدوار،کارکن اور مقامی قیادت انتخابی مہم سے مرکزی قیادت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے بھی خاصے غصے میں ہیں،لیگی امیدواروں کے حق میں شریف خاندان باہر ہی نہیں نکلا،شہباز شریف تو وزیر اعظم کی حیثیت سے انتخابی مہم میں براہ راست شرکت نہ کر سکتے تھے مگر مریم نواز پارٹی کو لاوارث چھوڑ کر پاسپورٹ ملتے ہی لندن روانہ ہو گئیں اور حمزہ شہباز گھر سے ہی نہیں نکلے،اس کے بر عکس عمران خان نے  بہت شدو مد سے انتخابی مہم چلائی،نیا بیانیہ دیا،عوام میں نئی روح پھونکی،کارکنوں کو متحد اور پر جوش رکھا،نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ غیر فطری اتحاد ہے،جس میں سیاسی،اخلاقی،مذہبی یکسانیت کا فقدان ہے،جے یو آئی خالص مذہبی جماعت ہے،اے این پی،پختون قوم پرست جماعت ہے،جے یو پی بھی مذہبی جماعت ہے مگر اس میں سارے لیڈر ہیں کاکن کہیں دکھائی نہیں دیتے،جمیعت اہل حدیث نواز شریف کی ہمیشہ سے طفیلی رہی،بلوچ قوم پرست جماعتیں سیاسی جماعت کے اصول پر پورا نہیں اترتیں،آ جا کے رہ جاتی ہیں پیپلز پارٹی اور ن لیگ،سیاسی کارکن ان کی تین دہائیوں پر مشتمل دشمنی کو ابھی بھول نہیں پائے،ان کی سیاست کی ابتدا اور انتہا ایک دوسرے کو نیچا دکھانا،الزامات لگانا،جھوٹے سچے مقدمات قائم کرنا رہا،مگر جب ایک تیسری سیاسی قوت عمران خان کی شکل میں سامنے آئی اور دونوں کو للکارا،ان کے طرز سیاست کی مخالفت کی،ان کے قول و فعل کا موازنہ عوام کے سامنے کھول کر رکھا تو یہ دونوں جو پہلے میثاق جمہوریت کے نام پر مشرف کیخلاف متحد ہوئے اور دونوں نے وطن واپسی کے راستے ہموار کئے واپس آکر پھر دشمنی کی وہی راہ اختیار کی،اب اقتدار کیلئے دونوں پھر اکٹھے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -