ایٹمی پروگرام گیا تو ہمارا حال بھی یوکرائن جیساہو گا!

ایٹمی پروگرام گیا تو ہمارا حال بھی یوکرائن جیساہو گا!
ایٹمی پروگرام گیا تو ہمارا حال بھی یوکرائن جیساہو گا!

  

 ابھی دو روز پہلے چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان نے ایک پریس کانفرنس میں امریکی صدر بائیڈن کے اس بیان پر کہ پاکستان کے جوہری پروگرام میں کوئی ربط و ضبط نہیں ہے اور پاکستان ایک خطرناک ترین ملک ہے، تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر ہمارا ایٹمی پروگرام گیا تو ہمارا حال بھی یوکرائن جیسا ہوگا“۔ اگرچہ یہ فقرہ خان صاحب کی زبان سے اضطراری طور پر نکل گیا لیکن اس میں حقیقت کا پورا ایک جہان آباد ہے۔

بائیڈن نے گزشتہ ہفتے کانگریشنل کمیٹی کے ایک استقبالئے میں تقریر کرتے وہی کچھ فرمایا تھا جس کا ذکر سطورِ بالا میں کیا گیا ہے۔ جہاں تک پاکستان کے خطرناک ترین ملک ہونے کا ذکر ہے تو یہ امریکیوں کا ایک پرانا فقرہ اور وتیرہ ہے لیکن آج تک کسی امریکی صدر نے یہ الفاظ نہیں کہے تھے اور نہ ہی گزشتہ 24برسوں (1998ء تا حال)میں کسی نے پاکستانی جوہری پروگرام کو بے ربط کہا تھا۔ نجانے بائیڈن کے ذہن میں without cohesion کا مطلب کیا تھا۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے فوراً امریکی سفیر کو طلب کیا اور اسے حسبِ ضابطہ ایک ”ڈی مارچ“ تھما دیا لیکن کمان سے نکلا ہوا تیر اور زبان سے نکلا ہوا لفظ تو واپس نہیں آتا۔ یہ تبصرہ، امریکی صدر کے دل کی آواز تھا۔ اس پر پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن نے اپنے اپنے انداز میں امریکی صدر کو جواب دے دیا ہے۔

ہمارے جوہری ہتھیاروں میں نظم و ضبط کا جو معیار ہے اس پر یورپ اور امریکہ سمیت تمام دنیا نے بارہا تبصرہ کیا ہے اور اسے محفوظ ٹھہرایا ہے۔ بندہ پوچھے کہ صدر امریکہ کے پیٹ میں یکایک ہمارے جوہری اثاثوں کے غیر مربوط ہونے کا مروڑ کیوں جاگا؟ لیکن دو دن بعد امریکیوں نے ’یوٹرن‘ لیا اور پاکستان کے جوہری وارہیڈز کو محفوظ قرار دے دیا، اللہ اللہ خیر سلّا…… دنیا کی واحد سپرپاور کا صدر ہونے کے ناتے پہلے بائیڈن کا یہ تبصرہ اور پھر ایک دم چھلانگ لگا کر اکھاڑے سے باہر نکل جانا ناقابلِ یقین حد تک حیران کن ہے۔

بائیڈن کی عمر متلّون مزاج ہونے کی نہیں۔ اس قسم کی تقریبات میں ایک ایک لفظ نہائت سوچ بچار کے بعد بولا جاتا ہے۔ ان کی تقریر کے اور پہلو بھی تھے جن میں چین، روس اور انڈیا کا ذکر کیا گیا تھا۔ لیکن چونکہ یہ پالیسی خطاب نہیں تھا اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ ایک خیراتی ادارے کی تقریب میں اس طرح کے تبصراتی جملے بلکہ پیراگراف ارتجالاً بھی زبان سے پھسل جاتے ہیں اور یہ پھسلاؤ امریکیوں کے لئے نیا نہیں۔ ان کی تاریخ یہی ہے۔

بائیڈن کے بیان پر عمران خان کا تبصرہ البتہ ایک تلخ حقیقت کی خبر دیتا ہے۔ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اگر پاکستان کے پاس آج جوہری ہتھیار (بم اور میزائل) نہ ہوتے تو ہمارا حال کس طرح یوکرائن جیسا ہوتا۔ اگرچہ اس کا کوئی کھلا ثبوت موجود نہیں لیکن کہا جاتا ہے کہ پاکستان، درپردہ یوکرائن کی مدد کررہا ہے۔ اسلام آباد اگرچہ اس قابل نہیں کہ کیف کو کوئی ایسے جدید ہتھیار دے سکے جو دوسرے یورپی اور امریکی ممالک دے رہے ہیں لیکن افواہیں تو چلتی رہتی ہیں، ان کو روکا نہیں جا سکتا۔ آیئے ایک مختصر سا جائزہ اس امر کا لیتے ہیں کہ پاکستان کے پاس اگر جوہری اثاثے نہ ہوتے تو وہ کس طرح یوکرائن کی ”ہمسری“ کر سکتا تھا…… میرے نزدیک اس فقرے کے دو پہلو قابلِ غور ہیں …… ایک یہ کہ یوکرائن کا وہ حالِ زار کیا ہے جس کی طرف خان صاحب نے اشارہ کیا ہے اور جوہری اثاثوں کے منضبط ہونے یا نہ ہونے کا یوکرائینی بیک گراؤنڈ کیا ہے…… موخر الذکر پہلو کا ذکر پہلے کر لیتے ہیں ……

1991ء میں جب سوویت یونین تحلیل ہوا تھا تو آزاد ہونے والی 15ریاستوں میں یوکرائن بھی شامل تھا۔ یوکرائن ایک بڑا ملک ہے اور دو باتوں کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ایک یہ کہ اس کی دفاعی ساز و سامان کی پروڈکشن کا سکیل بے محابا ہے اور دوسرے یہ ملک آدھی دنیا کو گندم دینے والا واحد یورپی ملک ہے۔ خود پاکستان بھی ایک طویل عرصے سے یوکرائنی گندم کا خریدار ہے۔ آزادی سے پہلے 1990ء تک یوکرائن میں سوویت یونین نے جوہری وار ہیڈز کا ایک بڑا ذخیرہ سٹور کر رکھا تھا۔ لیکن آزادی دینے سے پہلے روسیوں نے ان جوہری بموں کو واپس لے لیا۔ اگر آج یوکرائن کے پاس وہ بم ہوتے تو ماسکو، کیف پر تابڑ توڑ حملے نہ کرتا…… عمران خان نے اسی یوکرائنی بے بسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔

اور جہاں تک روس۔ یوکرائن کی باہمی جنگ کی صورتِ حال کا تعلق ہے تو باوجود اس کے کہ سارا مغربی یورپی اور امریکہ یوکرائن کو جدید ترین اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کررہا ہے لیکن پھر بھی یوکرائنی باشندے دن رات لرزہ براندام رہتے ہیں کہ نجانے ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ ابھی دو روز پہلے روس کی طرف سے ڈرون حملوں کے نتیجے میں دارالحکومت کیف اور اس کے نواحی علاقوں میں ہولناک بربادی کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ یوکرائن کی آبادی انہی روسی حملوں کے خوف سے لرزتی رہتی ہے…… اور اس کی ایک حالیہ وجہ اور بھی ہے۔

وہ یہ ہے کہ جزیرہ نمائے کریمیا 2014ء تک یوکرائن کا حصہ تھا۔ لیکن وہاں کی غالب آبادی روسی زبان بولتی تھی اور روس نے 1990ء میں اپنے سقوط کے بعد اسے اپنا حصہ قرار دیا تھا جبکہ یوکرائن کا دعویٰ تھا کہ یہ صوبہ اس کا حصہ ہے۔ 2014ء کو بالآخر روس نے اس پر حملہ کر دیا اور اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ یوکرائن کے چار مشرقی حصے (نام لکھنے کی ضرورت نہیں کہ یہ بہت نامانوس سے نام ہیں) اب حالیہ ریفرنڈم کے بعد باقاعدہ روس کا حصہ بن چکے ہیں۔ کریمیا سے ان حصوں کو ملانے کے لئے روس نے 18کلومیٹر طویل پل تعمیر کر دیا تھا جسے آبنائے کرچ (Kerch)کا پل بھی کہا جاتا ہے۔ کچھ روز پہلے 8 اکتوبر کو یوکرائن نے اس پل پر میزائل حملہ کر دیا اور اس کا ایک حصہ منہدم ہو گیا۔ اب کریمیا کو رشیا سے ملانے والا کوئی زمینی راستہ نہیں۔ یہ ایک کرٹیکل اہمیت کا پل تھا۔ اس یوکرائنی حملے کا روسی صدر پوٹن نے سخت نوٹس لیا ہے اور بارِ دگر جوہری حملے کی دھمکی دی ہے۔ اس دھمکی کو عملی جامہ پہنانے کا وقت شاید ابھی کچھ فاصلے پر ہے۔ لیکن یوکرائن کا ہر شہری خوفزدہ ہے، اسے راتوں کو نیند نہیں آتی، اس نے اپنے گھر کے تہہ خانے (Basement) میں وہ اشیاء جمع کر رکھی ہیں جو جوہری حملے اور تابکاری اثرات سے بچاؤ کے لئے ضروری سمجھی جاتی ہیں مثلاً فلیش لائٹس، بیٹریاں، چاقو، ویڈیو، چھوٹے سائز کے چولہے، ضروری اشیائے خوردنی اور پاور بینک (جس سے ہم اپنے موبائل کی بیٹری چارج کرتے ہیں)۔

حال ہی میں کیف کی میونسپل انتطامیہ نے لوگوں میں پوٹاشیم آیو ڈائڈ نام کی گولیاں مفت تقسیم کی ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ان گولیوں کی بڑی تعداد شہر کے میڈیکل سٹوروں پر بھی قیمتاً دستیاب ہے۔ یہ پوٹاشیم آیوڈائڈ (Potassium Iodide) انسانی جسم کی رگوں اور وریدوں کی اوپری تہہ میں ایک لیپ سا کر دیتی ہے۔ ایٹمی حملے کی صورت میں جب آپ سانس لیتے ہیں تو یہ دوائی تابکاری کو جذب کرکے اسے فوراً باہر نکال دیتی ہے اور اس طرح آپ کی رگیں نسبتاً محفوظ رہتی ہیں اور ان پر جوہری تابکاری کا اثر بہت کم پڑتا ہے۔ 1986ء میں چرنوبل کے حادثے میں اس کا تجربہ کیا گیا تھا جو بڑی حد تک کامیاب ثابت ہوا تھا۔ چرنوبل،یوکرائنی دارالحکومت کیف سے زیادہ دور نہیں اور وہ ہوائیں جو جنوب میں بحیرۂ اسود (Black Sea) سے اٹھتی اور شمال میں کیف سے ہو کر بیلاروس کی طرف جاتی ہیں، ان کا زور آج کل زیادہ ہے۔ یوکرائن کا خیال ہے کہ اگر پوٹن نے چھوٹے یا بڑے پیمانے کے جوہری بم کیف اور اس کے نواحی علاقوں میں گرائے تو یہ ہوائیں تابکار جراثیم کو شمالی علاقوں میں لے جائیں گی اور ان کا اثر یوکرائن کے شہریوں پر کم کم پڑے گا…… مجھے خیال آ رہا ہے کہ ہمارے شعراء کو یہ شعور کہاں سے آ گیا تھا کہ غم و آلام کے اثرات، انسانی رگ و پے میں سرائیت کرکے اسے مار ڈالتے ہیں …… غالب کا مشہور شہر ہے:اسے ہو سکے تو ضرور پڑھیے۔ 

رگ و پے میں جب اترے زہرِ غم تب دیکھئے کیا ہو

ابھی تو تلخیء کام و دہن کی آزمائش ہے

17اکتوبر کو شائع ہونے والے ایک معروف امریکی اخبار ”دی نیویارک ٹائمز“ نے اپنے صفحہ نمبر4 پر ایک تجزیہ شائع کیا ہے جس میں روس کی طرف سے جوہری حملے کی صورت میں یوکرائن کے حالِ زبوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جس میں یوکرائنی عوام پر جو کیفیت آج کل گزر رہی ہے، اس کی کچھ تفصیل درج ہے…… ویسے تو امریکہ، یوکرائنی عوام اور فوج کو ہلہ شیری بھی دے رہا ہے اور جدید ترین اسلحہ جات بھی وہاں سمگل کر رہا ہے لیکن بعض اوقات امریکیوں کے منہ سے سچی بات بھی نکل جاتی ہے…… اسی بات کا ذکر عمران خان نے کیا تھا کہ: ”اگر ہمارا جوہری پروگرام گیا تو ہمارا حال بھی یوکرائن جیسا ہوگا“۔

مزید :

رائے -کالم -