کوٹ ادو، آراو پلانٹ دو سال سے بند،مشینری زنگ آلود

کوٹ ادو، آراو پلانٹ دو سال سے بند،مشینری زنگ آلود

  

کوٹ ادو(تحصیل رپورٹر) 12سال قبل 2010 میں آنے والے بدترین سیلاب کے بعد مختلف این جی اوز اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے تحصیل کوٹ ادو میں مختلف مقامات پر واٹر فلٹریشن پلانٹ لگائے گئے تھے،جبکہ انٹرنیشنل فلاحی تنظیم التوصیف انٹرپرائزز کی جانب سے کروڑوں کی لاگت سے کوٹ ادو شہر کے قریب بستی پتل کے مقام پر لگنے والا بڑا آر او پلانٹ(بقیہ نمبر14صفحہ6پر)

(ریورس اوسموس پلانٹ)بھی شامل تھاجس کے متعلق دعوی کیا گیا کہ یہ ضلع مظفرگڑھ کا سب سے بڑا آر او پلانٹ ہے جوکہ گذشتہ 2سال سے مکمل طور پر بند ہے،اس حوالے سے اہل علاقہ فاروق احمد رڈ، حاجی مشتاق، خالد چوہان، عباس چوہان، پرویز اقبال سیال، مرید حسین،ملک مظہر پتل، اختر پتل،محسن پتل، غلام رسول چوہان، اللہ بخش منجوھٹہ، اللہ بخش کمہار،یوسف کھوسہ، حافظ الہی بخش، ڈاکٹر ظفر اقبال، مختیار احمد گورمانی، ڈاکٹر عمران و دیگر نے احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے سابقہ دور میں 8سال قبل التوصیف انٹرپرائزز کمپنی نے 2010 کے بدترین سیلاب میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی بستی پتل جو کہ 35 ہزار نفوس پر مشتمل ہے صاف پانی پینے کے لئے آر،اوپلانٹ لگایا تھا،حالیہ آنے والی طوفانی بارشوں اور طوفانی آندھی سے ار،او پلانٹ کے کمرے کی چھت گر گئی جس سیپلانٹ کھلے آسمان تلے پڑا ہے جس سے اس کی مشینری زنگ آلود ہو رہی ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -