سگریٹ سازی کی صنعت سے مزید 60ارب روپے تک ٹیکس وصولی کی گنجائش موجود: ایف بی آر 

سگریٹ سازی کی صنعت سے مزید 60ارب روپے تک ٹیکس وصولی کی گنجائش موجود: ایف بی آر 

  

ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک)پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے درآمدی سگریٹس پر ٹیکس بڑھانے کی سفارش کر دی۔ پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئر مین نور عالم خان کی زیر صدارت ہوا جس میں متعلقہ حکام نے بریفنگ دی۔چیئرمین ایف (بقیہ نمبر45صفحہ6پر)

بی آر نے بریفنگ میں بتایا تمباکو سیکٹر سے سالانہ 160ارب روپے ٹیکس حاصل ہو تا ہے، 157 ارب روپے یعنی 98 فیصد ٹیکس دو ملٹی نیشنل کمپنیاں دے رہی ہیں، 20 دیگر کمپنیوں سے صرف 3 ارب روپے ٹیکس حاصل ہورہا ہے۔ سگریٹ سازی کی صنعت سے مزید60ارب روپے تک ٹیکس وصولی کی گنجائش ہے، مقامی اور درآمدی سگریٹس پر 17 فیصد جی ایس ٹی لاگو ہے، اسکے علاوہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وصول کی جارہی ہے۔ بر یفنگ میں بتایا گیا ٹیئر ون سگریٹ پر فی ایک ہزار اسٹک 6500 روپے ٹیکس ہے، ٹیئر 2 سگریٹ پر فی ایک ہزار اسٹک 2050 روپے ٹیکس ہے، درآمدی سگریٹ کے فی پیکٹ پر 65 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ہے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے درآمدی سگریٹس پر ٹیکس بڑھانے کی سفارش کر دی اور کہا درآمدی سگریٹس پر ٹیکس بڑھانے سے 300 ارب روپے اضافی ریونیو جمع ہوسکتا ہے، مقامی اور درآمدی سگریٹ پیکٹ پر ٹیکس 41 روپے وصول کیا جارہا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے بتایا درآمدی سگریٹ پر ٹیکس مزید بڑھانے سے ریونیو بڑھے گا۔

ایف بی آر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -