فوج ہو یا سول، ترقی پانے کی اہلیت ہی کافی نہیں ہوتی

فوج ہو یا سول، ترقی پانے کی اہلیت ہی کافی نہیں ہوتی
فوج ہو یا سول، ترقی پانے کی اہلیت ہی کافی نہیں ہوتی

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:26 

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے انسان کا جو ان سے عداوت رکھتا تھا انہی کا اعلیٰ افسر بن جانا یقینا اہم تبدیلی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے فوج میںترقی کے نظام پر ہلکی سی تنقید کی ہے اور اپنے محکمے کے ایک افسر کا ذکر کیا ہے جو صرف 2 سال میں میجر سے بریگیڈئر بن گئے تھے اس کے مقابلے میں وہ اپنی ترقی کی رفتار کو مایوسانہ انداز میں دیکھتے ہیں کہ1970ءمیں میجر بننے کے7 سال بعد وہ لیفٹیننٹ کرنل اور پھر8 سال بعد بریگیڈئر بنے۔ افسر کے مقابلے میں ان کی ترقی کی رفتار بہت سست تھی اس پر لکھتے ہیں:

”بات رینک کی نہیں قسمت کی ہے کیونکہ فوج ہو یا سول، ترقی پانے کی اہلیت ہی کافی نہیں ہوتی دیگر عوامل بھی کار فرما ہوتے ہیں جن میں قسمت سر فہرست ہے۔“

اس کے بعد سالک نے ضیاءالحق کی شخصیت کے اچھے پہلوﺅں پر روشنی ڈالی ہے کہ وہ بحیثیت انسان بہت اچھے تھے اور انسانوں سے ادنیٰ و اعلیٰ کی تمیز کے بغیر یکساں محبت سے ملتے تھے۔ اس مدح سرائی میں سالک کا انداز فطری ہے انہوں نے مبالغے سے کام نہیں لیا۔ انہوں نے ضیاءالحق کی شخصی خوبیوں کی تعریف کی ہے نظریات کی نہیں۔

اس کے بعد صدیق سالک نے قومی ‘سیاسی حکومتی اور فوجی مسائل پر بات کرتے کرتے اچانک اپنی بیرون ملک چھٹیوں کا قصہ چھیڑدیا ہے جو بظاہر بڑا غیر متعلقہ لیکن درحقیقت بہت ہی متعلقہ ہے۔ سالک نے یکم جولائی 1977ءسے 1 ماہ کےلئے بیرون ملک رخصت لے رکھی تھی 5 جولائی کی صبح انہوں نے اپنے سیاحتی سفر پر کابل روانہ ہونا تھا لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا 4 جولائی کی شب وہ سوئے تو رات کے1 بجے جنرل محمد ضیاءالحق کے پرائیویٹ سیکرٹری نے انھیں فون کر کے جی ایچ کیو آنے کو کہا۔سالک کے بقول:

”سچی بات یہ ہے کہ مجھے تو کیا میرے فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی کہ میری پہلی غیر ملکی چھٹی کو کھٹائی میں ڈالنے کے لیے کسی نے تیسرا مارشل لاءلگایا ہے۔“

سالک کو صدر کی قوم کے نام پہلی تقریر لکھنے کے لیے بلایا گیا تھا مذکورہ تقریر انگریزی میں تیار ہوئی تھی جنرل عارف نے سالک سے کہا کہ اس کا اردو ترجمہ کرو تو انہوں نے آدھ گھنٹے میں بمشکل ایک صفحے کا ترجمہ کیا۔ ضیاءالحق نے یہ صورتحال دیکھ کر سالک سے کہا کہ ترجمے کو چھوڑ و اور خود تقریر لکھو۔سالک نے عرض کی کہ کبھی تقریر نہیں لکھی تو جنرل محمد ضیاءالحق نے کہا :

”جو شخص 300صفحے کی ”ہمہ یاراں دوزخ“ لکھ سکتا ہے وہ آدھ گھنٹے کی تقریر بھی لکھ سکتا ہے “ 

اس ترغیب بھرے حکم پر سالک نے تقریر لکھی جس میں الیکشن سے متعلق حصے کو مختصر بحث کے بعد اپنا لیا گیا۔ اس دن یعنی 5 جولائی 1977ءسے یکم جولائی1985ءتک صدیق سالک مارشل لا ءڈیوٹی پر ”سی ایم ایل اے سیکرٹریٹ میں متعین رہے اس دور کی روداد سالک نے رقم نہیں کی اس کے متعلق صرف اتنا کہہ کر بات ختم کر دی ہے: 

”ان 8 برسوں کی روداد ایک الگ کتاب کا موضوع ہے۔“ 

اس جملے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بہت اہم دور تھا لیکن فی الوقت سالک اس پر لکھنا نہیں چاہتے تھے یا اس کی اجازت نہیں تھی اس کا اس جملے سے اندازہ نہیں ہوتا لیکن اپنی عسکری زندگی کی یادداشتیں لکھتے ہوئے ان اہم 8 برسوں کو نظر انداز کرنے میں یقینا سرکاری پابندیاں حائل ہوں گی ہو سکتا ہے کہ یہ کتاب سالک ریٹائرمنٹ کے بعد لکھتے لیکن فرشتۂ اجل نے اس کی مہلت ہی نہ دی۔ سالک کے صاحبزادے سرمد سالک کے مطابق اس دور کی روداد وہ لکھ رہے تھے لیکن وہ کاغذات ان کے ساتھ ہی ختم ہو گئے کیونکہ وہ ان کے بریف کیس میں تھے اس لیے اس دور کی روداد کبھی منظر عام پر نہ آسکی۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -