جب انگریز سرکار کےخلاف تحریک پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں پھیل گئی

جب انگریز سرکار کےخلاف تحریک پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں پھیل گئی
جب انگریز سرکار کےخلاف تحریک پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں پھیل گئی

  

مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:80

پنجاب کے دیگر شہروں میں تحریک:

حکومت کے خلاف تحریک پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں پھیل گئی۔ انہی دنوں گوجرانوالہ سے نکلنے والے ہفت روزہ ”انڈیا“ کے ایڈیٹر لالہ پنڈی داس نے ہندوستانی فوجیوں کے نام کسی کا خط شائع کر دیا۔ اس خط میں ہندوستانی سپاہیوں کو ملنے والی تنخواہوں اور دیگر سہولتوں کا انگریز فوجیوں کو ملنے والی تنحواہوں اور سہولتوں سے موازنہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ایک ہندوستانی سپاہی کو صرف9روپے ماہوار تنخواہ ملتی ہے جبکہ انگریز سپاہی کو مفت یونیفارم اور کھانے کے علاوہ 15روپے تنخواہ دی جاتی ہے۔ اس ہفت روزہ میں شائع ہونے والے خط کی نقلیں مردان میں متعین فوجیوں سے برآمد ہوئیں۔ لالہ پنڈی داس کو گرفتار کر لیا۔ اسے بغاوت کے جرم میں 5سال کی سزا دی گئی ، رسالہ کاڈیکلیریشن منسوخ اور پریس ضبط کر لیا گیا۔

انگریز حکومت کے خلاف یہ تحریک پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں چل نکلی ، یکم مارچ سے یکم مئی تک راولپنڈی ، لاہور ، لائلپور ، فیروزپور ، امرتسر ، بٹالہ اور دوسرے بڑے شہروں میں تقریباً 28 اجتماع ہوئے۔ ان میں لالہ لاجپت رائے اور اجیت سنگھ نے ایک ساتھ یا علیٰحدہ علیٰحدہ تقریریں کیں۔ 

تحریک سے جلد ہی حکومتی حلقوں میں سراسیمگی پھیل گئی۔ انگریزی اخبار ”سول ملٹری گزٹ لاہور“ نے بھی ایک مضمون میں لکھا کہ 10 مئی کو لالہ لاجپت رائے1 لاکھ افراد کے ساتھ لاہور قلعہ پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔ ”ڈیلی میل“ نے الزام لگایا کہ لالہ لاجپت رائے بغاوت کے بعد پنجاب کا راجہ بننا چاہتا ہے۔”ایوننگ سٹینڈرڈ“ نے یہ افواہ پھیلائی کہ مال روڈ پر نصب ملکہ وکٹوریہ کے بت کا تاج لوگوں نے اتار کر غائب کر دیا ہے اور مشنری ادارے سے تعلق رکھنے والی عورتوں کو بے عزت کیا ہے۔ ”لندن ٹائمز“ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے یہ سوال کیا کہ ہند سرکار اس بحران سے عہدہ برآمد ہونے کےلئے تیار ہے بھی یا نہیں ؟ ہر ایک کو یہ فکر کھائے جارہی تھی کہ 1907ء میں چونکہ 1857 ءکی جنگ آزادی کے 50 سال پورے ہو رہے تھے اس لیے اس موقع پر یقیناً کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔ 

پنجاب حکومت کی ایک خفیہ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں ہر واقعہ کو حکومت کے خلاف نفرت میں اضافہ کرنے کےلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر سکھ جاٹوں کو حکومت کے خلاف اکسایا جارہا ہے۔ جو پولیس ملازم اس تحریک کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں عوام دشمن اور غدار قرار دیا جاتا ہے۔ یہ طعنے اس لیے دیئے جاتے ہیں کہ وہ تنگ آکر ملازمت چھوڑ دیں۔ ہندوستانی فوجیوں کو بھی وردی اتار پھننکنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ اس تحریک کی قیادت کرنے والے بعض لیڈر انگریزوں کو ملک سے نکال باہر کرنے کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔انہیں اس سے غرض نہیں کہ اس مقصد کا حصول طاقت کے زور پر حاصل کیا جائے یا پرامن طریقے سے۔ حکومت کو ناکام بنانے کےلئے جھوٹ اور نفرت پھیلائے جارہے ہیں“۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -