جمع جتھا ہاتھ میں آتے ہی اس کا خوف دور ہوگیا

 جمع جتھا ہاتھ میں آتے ہی اس کا خوف دور ہوگیا
 جمع جتھا ہاتھ میں آتے ہی اس کا خوف دور ہوگیا

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:52

اگلی صبح کل سے بھی زیادہ لوگ آگئے اور ساتھ ہی مزید پولیس والے بھی۔ماریا جیسے تیسے ڈٹی رہی اور آخر سہ پہر کے وقت وہ بینک میں داخل ہوئی اور اپنی ساری پونجی وصول کرلی، بڑے چاندی کے ڈالروں سے اس کا رومال بھر گیا۔ جمع جتھا ہاتھ میں آتے ہی اس کا خوف دور ہوگیا اور اس کا دل چاہا کہ انہیں دوبارہ جمع کروا دے لیکن کھڑکی کے پار بیٹھا آدمی بہت تند خُو تھا۔ اس نے صاف کہَہ دیا کہ وہ پیسے نکلوانے والے لوگوں میں سے کسی کا ایک پیسا بھی جمع نہیں کرے گا۔ پس بے چاری ماریا پیسے رومال میں باندھے، ہر لمحہ لُٹنے کے خوف سے دائیں بائیں دیکھتی گھر آگئی۔ گھر پہنچ کر اس کی جان میں جان آئی۔ اگلا بینک دیکھنے تک سوائے اس کے اور کوئی راہ نہیں تھی کہ وہ یہ پیسے اپنے کپڑوں میں سی لے۔ لہٰذا ماریا ایک ہفتے سے زیادہ پیسوں سے لدی پھرتی رہی۔ اسے تو گلی پار کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا تھا کیوں کہ یورگس نے اسے تنبیہ کی تھی کہ اتنے بوجھ کے ساتھ وہ کیچڑ میں غرق بھی ہوسکتی ہے۔ یوں ہی لدی پھندی وہ یارڈز کی طرف گئی تاکہ دیکھے کہ اس کی جگہ پر کسی اور کو تو نہیں رکھ لیا گیا۔ لیکن خوش بختی سے پیکنگ ٹاؤن کے 10 فیصد مزدور بینک کے کھاتے دار تھے اور اتنے لوگوں کو بہ یک وقت نوکری سے نکالنا مشکل تھا۔اس سارے خوف اور وحشت کی وجہ یہ بنی تھی کہ بینک کے قریب ہی ایک سیلون کے دروازے پر کسی پولیس والے نے ایک شرابی کو گرفتار کرنا چاہاتھا جس سے وہاں لوگوں کی بھیڑ لگ گئی۔ اس وقت لوگ اپنے اپنے کام پر جارہے تھے اس بِھیڑ سے کسی کے دل میں خیال آیا کہ بینک کنگال ہو گیا ہے اور بس۔

انہی دنوں یورگس اور اونا نے بھی بینک اکاؤنٹ کھلوا لیا۔ یونس اور ماریا کا قرض ادا کرنے کے علاوہ انھوں نے فرنیچر کا قرض بھی تقریباً اتار دیا تھا اور اب کچھ پیسے بچانے لگے تھے۔ جب تک ان میں سے ہر ایک ہفتے کے نو، دس ڈالر کما کر گھر لا سکتا تھا تب تک گزارا ٹھیک چل رہا تھا۔ اسی دوران دوبارہ انتخابات آئے تو یورگس نے ان سے بھی آدھے ہفتے کے برابر کمائی کر لی، خالص منافع۔ اس سال انتخابات میں مقابلہ بہت سخت تھا اور جنگ کی گونج پیکنگ ٹاؤن تک پہنچ رہی تھی۔ حریف ٹھگوں نے ہال کرائے پر لے کر خوب آتش بازی کی اور لوگوں کی توجہ حا صل کرنے کےلئے لچھے دار تقریریں کیں۔ یورگس کو ان کی باتیں تو سمجھ نہیں آئیں لیکن اتنی سمجھ آگئی کہ ان کے بقول ووٹ بیچنا بری بات ہے لیکن وہاں سبھی یہی کرتے تھے اور صرف اس کے انکار سے نتائج پر کوئی فرق پڑنے والا نہیں تھا۔ اسے تو یہ خیال ہی عجیب سے لگا۔

ٹھنڈی ہواؤں اور چھوٹے پڑتے دنوں نے انہیں متنبہ کیا کہ سردیاں آرہی ہیں۔ انہیں لگا جیسے گرمیاں بہت مختصر رہی تھیں اور ابھی وہ اس موسم کےلئے تیار نہیں ہوئے تھے۔ لیکن اس کے باوجود سرما اپنی ساری بے رحمی کے ساتھ آن موجود ہوا۔ سٹینس کی آنکھوں میں خوف واضح تھا۔ یورگس کے دل میں بھی خوف تھا کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ اونا ابھی سردی اور برف کا سامنا کرنے کےلئے تیار نہیں تھی۔ فرض کیا کسی دن بہت برف پڑے، گاڑیاں بند ہوجائیں، اونا کام پر نہ جاسکے اور اگلے دن پتا چلے کہ اس کی جگہ کسی ایسے مزدور کو رکھ لیا گیا ہے جو فیکٹری کے پاس رہتا تھا اور قابل ِ بھروسا تھا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -