نیوٹن کی کامیابی حیران کن حد تک مکمل تھی

 نیوٹن کی کامیابی حیران کن حد تک مکمل تھی
 نیوٹن کی کامیابی حیران کن حد تک مکمل تھی

  

تحریر: ظفر سپل

قسط:9

نیوٹن (Newton: 1642-1727) 

ہاں تو اب نیوٹن (Newton: 1642-1727) آیا۔ اگرچہ وہ اپنے کشش ثقل کے اصول (Law of Universal Gravitation) کے حوالے سے سب کو یاد ہے (جس کی وضاحت نیوٹن کے سر پر گرنے والے سیب کی مزیدار کہانی سے کی جاتی ہے) لیکن اس کی اصل کامیابی ”حرکت کے 3قوانین“ (3 Laws of Motion) کو کامیابی سے پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہے۔ بلاشبہ ان میں سے پہلے 2 قوانین کےلئے گلیلیو نہایت قابل قدر نشانات چھوڑ چکا تھا مگر نیوٹن کی کامیابی اس قدر حیران کن حد تک مکمل تھی کہ سائنس کی تاریخ اس خطرے سے دوچار ہوگئی کہ کہیں وہ ارسطو کی طرح اس دیوتا کی شکل نہ اختیار کر لے جس سے اختلاف کرنا گناہ سمجھا جاتا ہے مگر اب تبدیلی آچکی تھی اور لوگ دیوتاﺅں سے انکار کا ہنر سیکھ گئے تھے مگر پھر بھی اس نے اگلے 100 سال تک انگلستان کے لوگوں کے دلوں پر بلاشرکت غیر حکومت کی۔

نیوٹن کی کتاب ”پرنسپیا“ (Principia) 1687ءمیں شائع ہوئی اور اس میں بیان کردہ حرکت کے پہلے قانون نے ہر چیز کو بدل کر رکھ دیا۔ حرکت کا پہلا قانون یہ کہتا تھا کہ اگر کسی بے جان چیز کو قوت (Energy) دے کر متحرک کر دیا جائے تو وہ ہمیشہ حرکت کرتا رہے گا، تاآنکہ اسے کسی بیرونی مداخلت سے روک نہ دیا جائے۔ یہی بات نظام شمسی (اور تمام کائنات) میں موجود سیاروں کے متعلق درست تھی کہ وہ قانون حرکت اور قانون ثقل کے تحت اپنی ہی قوت (Momentum) کی وجہ سے اپنے مداروں میں گھوم رہے ہیں۔ گویا نیوٹن یہ کہہ رہا تھا کہ خدا نے ستاروں کو ایک بار بنانے کے بعد اپنے ہاتھ سے لڑھکا دیا اور پھر ان پر قانون حرکت اور قانون ثقل لاگو کرکے خوداس سے علیٰحدہ ہو گیا۔ یہ بات اس راسخ الاعتقاد کےلئے ایک دھچکا تھی جس کے مطابق خدا اپنی کائنات کے کاروبار میں ہر آن دخیل اور ہر لمحے کرشمہ ساز تھا۔ اب تک کی سائنس کی ترقی نے یہ انکشاف کرکے پہلے ہی ایک اور جذباتی مسئلہ پیدا کر دیا تھا کہ زمین کائنات کا مرکز نہیں ہے۔ اب ایک اور مسئلہ آن کھڑا ہوا تھا… اب تک زمین اور زمین پر بسنے والا انسان مرکز نگاہ تھا، مگر نیوٹن کی دنیا میں کائنات بہت وسیع تھی اور فلکیاتی فاصلے اتنے زیادہ تھے کہ زمین ایک حقیر سے ذرے کی شکل اختیار کر گئی تھی اور اب یہ کہنا مشکل ہو گیا تھا کہ اتنی بڑی کائنات کی تشکیل زمین کو مرکزِ نگاہ بنا کر کی گئی تھی۔

سب کچھ ختم ہو جاتا اور انسان کی بے چارگی اور تنہائی کا کوئی جواب نہ ہوتا، اگر سائنس کی کامیابیاں اور فتوحات اس کے غرورکو آسرا فراہم نہ کرتیں۔ اب قطب نما، دوربین، آتشیں اسلحہ اور چھاپہ خانہ کی صورت میں ہر روز نت نئی ایجادات ہو رہی تھیں۔ قطب نمانے جہاز رانی کی صورت میں دریافت کے سفر کو آسان کر دیا تھا۔ اسلحے نے یورپ کو ایک قوت کی حیثیت دے دی تھی۔ چھاپہ خانہ خیالات اور دریافتوں کو تیزی سے پھیلانے میں مدد دے رہا تھا۔ یورپ کی حکومتیں دوسری دنیاﺅں پر قبضے کر رہی تھیں اور لوگ تیزی سے امیر ہو رہے تھے… سو، کائنات میں زمین کی نئی حیثیت، انسان اور خدا کے نئے تعلق اور سائنس کے دیوتا سے ہر دکھ کے علاج کی امید نے اس ”نئی مذہبیت“ (New Religiosity) کو جنم دیا، جس کی روح آج بھی ترقی یافتہ یورپ اور امریکہ پر سایہ کیے ہوئے ہے۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -