نوازشریف کی واپسی

       نوازشریف کی واپسی
       نوازشریف کی واپسی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  پی ٹی آئی کے حامی حلقوں کو اعتراض ہے کہ میاں صاحب مجرم ہیں، سزا یافتہ ہیں....ملزم نہیں ہیں اس لئے انہیں بغیر جیل جائے ضمانت نہیں مل سکتی، جبکہ نون لیگ ان کے مجرم پن کو ملزم پن سے گڈ مڈ کررہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ خالی نون لیگ یہ گڈ مڈ کا کھیل کھیل رہی ہے، خود پی ٹی آئی بھی راہداری ضمانت کو پکی ضمانت سے گڈ مڈ کر کے کنفیوژن پھیلانا چاہتی ہے لیکن قانون ایسے گڈ مڈ والے تاثر کو نہیں مانتا  اور اپنا راستہ خود بناتا ہے۔ 

دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب عمران خان نے نوازشریف کو علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی تو کیا انہوں نے سوچا تھا کہ اور کتنے سزایافتہ مجرموں کو بیرون ملک علاج کی اجازت ملتی ہے۔ کیا تب میاں صاحب مجرم نہیں تھے؟ سزایافتہ نہیں تھے؟ اگر یہ حقیقت ہے تو آج اگر وہ وطن واپسی پر اپنے آپ کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لئے راہداری ضمانت چاہتے ہیں تو کون سی قیامت آگئی؟ ہماری استدعا ہوگی کہ پی ٹی آئی والے نواز شریف کے غضب کو آواز نہ دیں، انہوں نے تو تب پنجاب میں اپنی اکثریت ثابت کردی تھی جب راولپنڈی سے لے کر واشنگٹن تک ہر کوئی عمران خان کے ساتھ سیم پیج پر تھا۔ 

یوں بھی جب سے سے اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچا ہے اور 9مئی عمران خانکے گلے پڑگیا ہے تب سے پی ٹی آئی کی جانب سے میاں صاحب کی مخالفت نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہورہی ہے جو کتنی ہی مدھر کیوں نہ ہو، کسی کو سنائی نہیں دے رہی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ پراپیگنڈہ بھی تبھی چلتا ہے جب اسے کوئی بیرونی سپورٹ حاصل ہو وگرنہ بقول محسن نقوی کے

کب تک تو اونچی آواز میں بولے گا

تیری  خاطر کون  دریچہ کھولے گا

والا معاملہ بن کر رہ جاتا ہے!

نواز شریف جب ملک سے گئے تھے تو قانون ان کے خلاف ہو نہ ہو، جج ضرور خلاف تھے اور آج جب نواز شریف واپس آرہے ہیں تو جج عمران خان کے خلاف ہوں نہ ہوں، قانون ضرور عمران خان کے خلاف کھڑا ہے۔ نواز شریف کو بھگوڑا کہہ کر دل کی بھڑاس نکالنے والوں اور انہیں ڈیل کا طعنہ دینے والوں کو شرم کرنی چاہئے کیونکہ جب عمران خان سیم پیج پر تھے تو انہیں کوئی تکلیف نہ تھی۔ آج یہ حلقے نواز شریف کے خلاف ڈیل کا پراپیگنڈہ کرکے وہ دراصل فوج کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کر رہے ہیں جس کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ ریاست کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کر رہے ہیں، ہم نے کئی نام نہاد دانشوروں کو فرط جذبات یہ بھی کہتے سنا ہے کہ بھارت کو پاکستان پر حملہ کردینا چاہئے وغیرہ وغیرہ! نواز شریف کے حوالے سے ہر طرح کی بحث ہو رہی ہے۔ بحث جس طرح کی بھی ہو رہی ہو یہ بات طے ہے کہ نواز شریف زیر بحث ہے وگرنہ ایک وقت وہ تھا جب کہا جاتا تھا کہ نوا ز شریف پاکستانی سیاست میں غیرضروری شے ہو گئے ہیں، انہیں ڈسکس کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ زیادہ دور کی بات نہیں ہے جب کہا جاتا تھا کہ نواز شریف کبھی واپس نہیں آئے گا اور شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ کا تارا ہیں۔ اب یہ کہنے والے اپنے زخم چاٹ رہے ہیں اور اوا توا بول رہے ہیں۔ 

چونکہ پاکستان کے عوام بالعموم اور پنجاب کے عوام بالخصوص نواز شریف کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، ہر طرح کا سردوگرم موسم انہوں نے برداشت کیا ہے اس لئے بالآخر اسٹیبلشمنٹ کو ہار ماننا پڑی ہے، پیچھے ہٹنا پڑا ہے اور جو پیچھے نہیں ہٹے آج کورٹ مارشل کا ایندھن بنے ہیں یا پھر جیل کی کال کوٹھڑیوں میں پڑے ہیں۔ جبکہ نواز شریف جہاں کھڑا تھا، وہیں کھڑا ہے۔ان کا ’ووٹ کو عزت دو‘کا بیانیہ نیا نہیں، بہت پرانا ہے۔ اس کا آغاز تب ہوا تھا جب انہوں نے ’ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘کا اعلان کیا تھا۔ 

یوں بھی نواز شریف کی کیا ضرورت تھی اگر باقیوں میں اتنا دم خم ہوتا کہ ملک سنبھال لیتے۔ پیپلز پارٹی کا حال تو یہ تھا کہ جب حکومت میں تھی ایسے تھی کہ جیسے مرسڈیز میں بیٹھی ہو اور خالی ہینڈل کو گھما گھما کر منہ سے گھوں گھوں کی آوازیں نکال کر خوش ہو رہی ہو اور جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے تو انہیں تو یہ سمجھ نہ آسکی کہ وہ مرغیاں اور بکریاں پالنے کی سکیم متعارف کروانے آئے ہیں یا آلو پیاز کی قیمت مقرر کروانے آئے ہیں۔

عام آدمی اس ملک میں جینوئین قیادت چاہتا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ ملک ریاض اچھی ہاؤسنگ سوسائٹیاں تو بنااور چلا سکتے ہیں لیکن ملک چلانے کی اہلیت اور صلاحیت ان میں نہیں ہے، وگرنہ ان کے پاس جتنی دولت ہے، چاہتے تو کب کے وزارت عظمیٰ کے پیسے دے کر خرید چکے ہوتے۔ چونکہ عوام کی اکثریت انہیں اس روپ میں دیکھنے اور پرفارم کرنے کے اہل نہیں سمجھتی ہے اس لئے خواہش کے باوجود بھی عوام انہیں ایوان اقتدار میں لے جانے کے لئے تیار نہیں۔ کچھ یہی مثال علامہ طاہرالقادری کی ہے جو ریاست نہیں سیاست بچاتے بچاتے حماقت کر بیٹھے اور اب ان کا پاکستانی سیاست میں رہا سہا کردار بھی ختم ہو گیا ہے اور ان کا امام خمینی بن کر لوٹنے کا خواب شیخ چلی کا خواب ثابت ہوا ہے۔ 

یہ بات بھی اہم ہے کہ ملک میں کبھی لیڈر شپ کا خلا پیدا نہیں ہوتا، ہر وقت کسی نہ کسی شکل میں لیڈرشپ موجود ہوتی ہے اور اس سے بڑھ کر دلچسپ بات یہ ہے کہ عوام اس کا ادراک کر لیتی ہے۔ اب اگر لوگ نواز شریف کو لیڈر مانتے ہیں اور ان کا استقبال کرنا چاہتے ہیں تو وہ تو کر یں گے، مخالفین کے سینے پر دال مونگیں گے، چاہے وہ ہر شام سات سے نو بجے تک اپنا ساڑھ پھکتے رہیں۔ 

تمھارے گھر پلٹتے ہی مقدر پھر سے  چمکا ہے 

دلوں میں ولولے جاگے امیدیں لوٹ آئی ہیں 

مزید :

رائے -کالم -