عوامی ریلیف میں خوش آئند پیش رفت

       عوامی ریلیف میں خوش آئند پیش رفت
       عوامی ریلیف میں خوش آئند پیش رفت

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اللہ نے قرآن کریم کی شکل میں دستور حیات اور نبی مہرباں صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے اسوہ حسنہ کو ہمارے لئے بہترین نمونہ قرار دے کر آخرت کی کامیابیوں کا زینہ فراہم کر دیا ہے۔ نبی مہرباں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چوری کے ملزم کے لئے اس وقت کے چوہدری حضرات کی سفارشوں اور دباؤ کو پیش پیش ڈالتے ہوئے فرمایا تھاکہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرنے کی مرتکب ہوتی تو میں اس کے ہاتھ کاٹنے سے بھی دریغ نہ کرتا دوجہانوں کے سردار نے اپنی زبان سے ایسے الفاظ ادا کر کے رہتی دنیا کی عدلیہ اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں کو مکمل لائحہ عمل فراہم کر دیا ہے قیام پاکستان کے 76سال بعد بھی ہمارا المیہ رہا ہے عوام جمہوریت کے علمدار سیاستدانوں کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں عدالتوں کے انصاف، پولیس کے نظام اور احتساب کے اداروں سے مطمئن نہیں ہے اس کی بنیادی وجہ کیا ہے ہر فرد دوسرے پر الزام لگاتا۔

(1) دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتا نظر آتا ہے شاید انہی حالات کے حوالے سے سید مودودی رحمتہ اللہ نے فرمایا تھا ہمارا المیہ یہی ہے پاکستان میں ہر فرد چاہتا ہے اسلام نافذ ہو جائے ہر فرد ایماندار ہو جائے مگر دوسرے پر الزام مسلط کرنا دوسرے کو ایماندار دیکھنا دوسرے کی طرف انگلی اٹھانا ایسی روایت بن چکا ہے کسی کو اپنی طرف دیکھنا اپنے گریبان میں جھانکنا کا وقت ہی نہیں مل رہا۔ ہمارے وطن عزیز کا بھی یہی حال ہے ہماری سیاست اور ہماری عبادت کا محور اپنے آپ کو صحیح اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے پر محیط ہے۔ یہی وجہ ہے تین تین اور چار چار دفعہ اقتدار کے مزے لوٹنے والے بھی کام نہ کر دینے کا گلہ کرتے اور عوام کو دوبارہ موقع فراہم کرنے کی صورت میں سب کچھ ٹھیک کرنے کا نعرہ لگاتے نظر آتے ہیں 2018ء سے پہلے کے دور اقتدار اور تحریک انصاف کے ساڑھے تین سال اور پھر ملک بھر کی 14 جماعتوں کے پی ڈی ایم کی حکومت کے شب روز ان کے دعوے اور عمل نے اہل پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا ہے اس کی بنیادی وجہ ان کے قول و فعل کا تضاد ہے جو کھل کر سامنے آیا ہے رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے ان کی زندگیوں کے نشیب و فراز بے نقاب کر کے پوری کر دی ہے آج کے کالم میں سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی کارکردگی زیر بحث لانا مقصود نہیں ہے سب اپنے عمل سے ثابت کر چکے ہیں ان کو عوام سے زیادہ اقتدار پیارا ہے اس کے لئے ان کے ملک بچانے کے لئے سیاست قربان کرنے کے نعرے عملاً اپنی سیاست بچانے کے لئے عوام کو قربان کرنے تک محدود ہیں تمہید میں بات دوسری طرف چلی گئی پی ڈی ایم کی جمہوری حکومت مکمل ہونے کے بعد نگران حکومت کے قیام میں ریاستی اداروں کا کردار بالخصوص اور آرمی چیف کے اقدامات بالخصوص مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کے لئے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ثابت ہوتے ہیں۔1947ء سے 2018ء تک اور نگران حکومت کے قیام تک جو کچھ وطن عزیز کے ساتھ سیاسی پنڈتوں نے کہا ہے اس کا خمیازہ عوام نے کس طرح بھگتا ہے اس کا اندازہ عوام کی حالت زار کو دیکھ کر کیا جا سکتا ہے۔ جمہوریت سے عملداروں نے جو حالت حکومتی اداروں کی بنا دی ہے عدلیہ کا حلیہ جس انداز میں بگاڑہ ہے میڈیا کو ٹکے ٹوکری کیا ہے کسی سے کچھ ڈھکا چھپا ہوا نہیں ہے اندھیر نگری نہیں تو اور کیا ہے 27ہزار گاڑیاں روزانہ ایران سے پٹرول سمگل کر کے پاکستان میں داخل ہوتی رہی ہیں۔ کرنسی ایکسچینج نے ڈالر کی سمگلنگ کے چور راستے نکالے ہوئے ہیں سن کر سر شرم سے جھک جاتے ہیں حوالہ اور ہنڈی سے  جس انداز میں ملک کی معیشت کو کھوکھلا کیا ہے اس پر بھی رونے کو دل کرتا ہے میری زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے تحریر کی گئی باتوں سے میرے احباب کا ایک حلقہ مجھ سے گلا کرے گا آپ جمہوریت کے خلاف ہیں ہرگز نہیں۔ میں جمہوریت کے آج خلاف ہو ں کل خلاف تھا مگر جو گند ہمارے سیاستدانوں نے ڈالا ہے اس پر میں سوشل میڈیا جس کا میں کبھی حامی نہیں رہا اس کو سلام کرنے کو دل کرتا ہے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے جو ملکی معیشت کی ڈوبتی ناؤ کو بچانے کے لئے (SIFC) کے ذریعے اقدامات کئے اسی کا نتیجہ ہے ڈالر کو بیک گیر لگا ہوا ہے ہر روز ملک سے محبت کرنے والوں کو نئی نوید مل رہی ہے اور ذخیرہ اندازوں اور ڈالر کو سمگل کرنے اور لاکر میں رکھنے والوں کے ارمانوں کا خون ہو رہا ہے وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس مجھے اور میرے موقف کو تبدیل کرنے کے لئے کافی تھی جس میں وہ فرماتے ہیں آرمی چیف صاحب نے فرمایا ہے سمگلنگ ڈالر کی ہو یا پٹرول کی اگر کوئی فوجی بھی ملوث پایا گیا اس کا کورٹ مارشل ہو گا یہ وہی دن تھا جب پاکستان کی معیشت اور قبلہ درست ہونے کی طرف پہلا دن تھا آرمی چیف کے عمل اور دو ٹوک اعلان نے ایسا جادو کیا ہے سمگلر بھی بھاگ رہے ہیں بجلی چوری والے بھی جانیں بچا رہے ہیں حوالہ ہنڈی ذخیرہ اندوز سب کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں رہی سہی کسر غیر قانونی رہائش پذیر پٹھان ہو ں یا کوئی اور 31اکتوبر کی ڈیڈ لائن نے پوری کر دی ہے ہر طرف سے اچھی خبریں ہی آ رہی ہیں نگران حکومت سے پہلے ہمارے ملک میں پٹرول سمیت روزمرہ اشیاء کی قیمتیں جو ایک دفعہ بڑھ جائیں واپس آنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہمارے کچھ لوگ پٹرول کی قیمت 40روپے کمی کو ہمارے ملک کی انہونی قرار دے رہے ہیں ایک حلقہ آرمی چیف کے ڈنڈے کے اثرات قرار دے رہا ہے جو غلط نہیں ہے۔

اس میں کوئی دورائے نہیں ہے ہمارے بگاڑ کا واحد علاج ڈنڈا ہی رہ گیا ہے وزیر اعظم اور صوبائی وزرائے اعلیٰ کا پٹرول اور ڈالر کی قیمتوں میں کمی کے بعد اشیاء کی قیمتوں میں کمی لانے کی ڈیڈ لائن کے بھی مثبت اثرات آئیں گے ٹرانسپورٹر نے 15 فیصد کرایوں میں کمی کا اعلان کیا ہے جوابھی بھی  ناکافی ہے پٹرول اور ڈالر مہنگا ہونے سے روٹی سے لے کر گھی تک مہنگا کر دیا گیا ہے نگران حکومتوں کو ڈنڈا اٹھانا پڑے گا۔یم ایف بھی وزیر خزانہ کے اقدامات سے خوش ہے عدلیہ سے بھی اچھی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں البتہ الیکشن کے حوالے سے ابھی تک عوام کو یقین نہیں ہو رہا ایک حلقہ ملکی معیشت کی بہتری کے روڈ میپ پر عملدرآمد پر خوش ہے ایک حلقہ الیکشن کی بجائے عوامی ریلیف کو آگے بڑھانے پر زور دے رہا ہے البتہ پورا ملک ڈالر اور پٹرول کی سمگلنگ روکنے جیسے اقدامات کو مزید وسعت دینے کا حامی ہے ان کا موقف ہے حکمرانوں نے جس طرح ہمارے عوام کا معاشی قتل کیا ہے اور عوامی خواہشات کا کھلواڑ کیا اگر دوبارہ منتخب ہو کر وہی کرنا ہے تو ہم الیکشن کے بغیر ہی کر سکتے ہیں۔ایک مضبوط حلقہ باریاں لینے والوں کی چالاکیوں سے بھی تنگ ہے میاں نواز شریف کل آتے ہیں یا نہیں عمران خان کو سزا ہوتی ہے یا نہیں ایک مائنس ہوتا ہے یا دو مائنس ہوتے ہیں عوام ریلیف چاہتی ہے آرمی چیف کے موجود اقدامات اور کور کمانڈر کانفرنس کے فیصلوں سے خوش ہے البتہ عوام نگران حکومت سے قبلہ اول کے حوالے سے جرأت مندانہ پالیسی کی توقع کر رہی ہے آرمی چیف دو ٹوک موقف آ چکا ہے وزیر اعظم کو بھی کھل کر اظہار کرنا چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -