کوہِ نور پر نیا دعویٰ

کوہِ نور پر نیا دعویٰ

  

ایک پچاس سالہ سکھ جسوندر سنگھ سندھیوالیہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ملکہ برطانیہ کے تاج میں جُڑا ہُوا کوہِ نور ہیرا واپس کیا جائے، کیونکہ یہ راجہ رنجیت سنگھ سے برطانیہ نے زبردستی تحفے کے طور پر لے لیا تھا ۔ اسے واپس کیا جائے تاکہ سکھوں کے مرکزی گردوارے گولڈن ٹیمپل امرتسر میں رکھا جائے۔ کوہِ نور ہیرا ہمیشہ جھگڑے کا سبب بنا رہاہے، کئی بار ہندوستان اور پاکستان سے اس کے حوالے پر دعویٰ ہوا ہے، ہم خود اس کے طلب گار ہیں اور اسی خیال سے جب برطانیہ پہنچے تو ٹاور برج میں اس کے دیدار کو پہنچے.... وہاں اس کی کیا شان، کیا وقار ہے، کیسی جگمگاہٹ ہے۔ ہم نے اسے کئی بار لائن میں لگ کر دیکھا۔ اس کے علاوہ بھی اس جگہ بہت سے ایسے تاج موجود ہیں ، جو بادشاہوں نے تحفے میں دئیے تھے۔ وہاں وہ انتہائی حفاظت سے رکھے ہوئے ہیں اور ایک خلقت اُنہیں دیکھنے آئی ہے۔

جسوندر سنگھ کا دعویٰ کتنا سچ ہے اور اس کا کیا ہوگا؟ یہ تو ہم نہیں کہہ سکتے ، لیکن ایک بات ضرور ہے کہ کوہِ نور برطانیہ میں محفوظ ہے، اگر ہندوستان، پاکستان میں ہوتا تو کب کا ڈاکے میں جا چکا ہوتا۔ ہندوستان میں رابندر ناتھ ٹیگور کا نوبل پرائز گولڈ میڈل میوزیم سے چوری ہوگیا اور اس کا آج تک پتہ نہیں چلا۔ اب اگر کوہِ نور ہندوستان کو دے دیا گیا تو دو چار دن ہی میں چوری ہو جائے گا۔ ہندوستان کی وزیراعظم اندرا گاندھی کے زمانے میں پولیس نے گولڈن ٹیمپل پر دھاوا بولا اور خبر یہ آئی .... دروغ برگردن راوی کہ وہاں سے بہت سی چیزیں چوری ہوگئیں.... اب بھلا جسوندر سنگھ اگر کوہِ نور ہیرا لے جانے میں کامیاب ہوگئے تو گولڈن ٹیمپل بھی غیر محفوظ ہو جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اُن کے بڑے انہیں یقیناً سمجھائیں گے کہ ”جان دے کیوں مصیبت مول لیندا ہے“۔

کوہِ نور ہیرا جس وقت ملکہ وکٹوریہ کو دیا گیا تو اُس وقت لاہور ہندوستان میں تھا اور اب پاکستان میں ہے، اگر ہیرا لاہور آگیا تو کوئی فکر کی بات نہیں، ہم بڑے دل والے ہیں۔ بیساکھی کے میلے کے موقع پر سکھوں کے وفد کو دے دیں گے، جاو¿ عیش کرو۔کوہِ نور ہیرا جب تک برصغیر میں رہا ،بے وفائی کرتا رہا.... ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ اور ایک حکمران سے دوسرے کے قبضے میں گیا، لیکن جب سے برطانیہ پہنچا ہے، وہیں کا ہو رہا، اُسے وہ زمین اور ماحول راس آگیا.... ہمارے خیال میں کوہِ نور وہیں رہے تو کیا ہے۔ اگر بات برصغیر میں آزادی سے پہلے کے معاملات پر اُٹھائی گئی تو ہم بھی ، حیدر آباد دکن کا سوال کریں گے، جوناگڑھ کا معاملہ اُٹھائیں گے.... برطانیہ کے لئے تو ایک بڑا مسئلہ ہو جائے گا۔ جسوندر سنگھ جی پینڈورا باکس کھولنا چاہتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ تاریخ اور ماضی تبدیل نہیں کئے جاسکتے اور کوہِ نور ماضی کی تاریخ ہے۔

جسوندر سنگھ کا کہنا ہے کہ کوہِ نور ہیرا سکھوں کی ملکیت ہے، جو اُنہیں واپس کیا جانا چاہئے ۔ دراصل یہ بنیادی طورپر معزول افغان حکمران شاہ شجاع درانی کی ملکیت تھا، جنہوں نے اسے اپنی حمایت کے لئے راجہ رنجیت سنگھ کو دیا تھا، تاکہ وہ کابل میں دوبارہ اقتدار حاصل کرسکیں، اس مناسبت سے کوہ نور ہیرا افغانستان کو دینا چاہئے.... لیکن اس میں ایک مسئلہ یہ پیدا ہوگا کہ ہیرا طالبان کو دیں یا القاعدہ کو؟.... آج کل امریکہ بھی دعوےدار ہے، کیونکہ ان دنوں افغانستان میں اُسی کا حکم چلتا ہے۔ جسوندر سنگھ جی کیا کر رہے ہیں یہ آپ؟.... آج کل دنیا کا ہر ہیرا امریکہ کے پاس جا رہا ہے۔ کیا کوہ نور بھی امریکہ کو دے دیں گے؟....ہم تو اس بات سے خوش ہیں، کیونکہ امریکہ ایک ایسا ملک ہے، جہاں میوزیم میں چوری نہیں ہو سکتی، پھر جب ہمارا جی چاہے گا، کوہ نور کا دیدار کرلیں گے۔ کوہِ نور ہیرا جہاں ہے وہیں رکھا رہے گا، جسوندر سنگھ جی کا نام ایک زمانے میں پھیل گیا اور یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ اُن سے یا اُن کے خاندان سے کوئی شخص تحفہ نہ لے، ورنہ اُن کی اولادوں میں سے کوئی واپس مانگ لے گا۔    ٭

مزید :

کالم -