مرشد سائیں یہ کیا ہو گیا؟

مرشد سائیں یہ کیا ہو گیا؟

  

کیا معاملہ اتنا ہی آسان تھا؟....دو سال سے زائد عرصے سے ملک میں برپا طوفان کا اصل نشانہ کوئی اور نہیں تھا صرف اور صرف یوسف رضا گیلانی.... خط کسی صورت میں نہیں لکھا جا سکتا۔ قبروں کا ٹرائیل نہیں ہونے دیا جائے گا....یہ سب کیا تھا؟ کیا معاملہ اتنا ہی سادہ تھا، جتنا راجہ پرویز اشرف نے 18 ستمبر کو عدالت کے سامنے بیان کیا۔ سابقہ اٹارنی جنرل ملک قیوم کی جانب سے لکھے گئے خط کی تنسیخ حکومت کو منظور ہے اور بطور وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے عدالت عظمیٰ کے سامنے اس بات کا اعلان کر دیا کہ وزیر قانون کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے اور اس حوالے سے خط بہت جلد عدالت کے حکم کے مطابق تحریر کر دیا جائے گا۔

مرشد سائیں آپ تو کہتے تھے کہ....Every day is not sunday ....تو پھر یہ کیا ہو گیا؟ ساری تذلیل اور بد نامی آپ کا مقدر کیوں ٹھہری؟ آپ کو تو سیاست کے علاوہ اور کچھ آتا بھی نہیں اور سیاست پر لگ گئی پابندی تو آپ اس بھری جوانی میں اور کیا کریں گے؟ ویسے مرشد سائیں نواز شریف کی طرح آپ بھی قبلہ زرداری صاحب کی سیاست کو سمجھنے میں غلطی کھا گئے۔ زرداری صاحب تو آپ سے جان چھڑانا چاہتے تھے، خط تو صرف ایک بہانہ تھا۔ اب تو اپنے بحریہ ٹاﺅن والے ملک ریاض کی گواہی بھی آگئی ہے، جس کی تصدیق آپ کے سابقہ دوست شہباز شریف بھی کر چکے ہیں کہ آپ کا معاملہ تو 2010ءمیں ہی ختم ہو گیا تھا۔ باقی مدت تو میاں برادران کی ”غیر مفاہمتی“ سیاست کی بدولت آپ کو حاصل ہو گئی۔ سپریم کورٹ میں اس سارے ڈرامے کا ڈراپ سین تو آپ نے بھی مویشی فارم کے پڑوس میں واقع اپنی صدارتی محل والی رہائش گاہ میں ٹی وی سکرین پر دیکھ لیا ہو گا....اگر آپ اس موقع پر اپنی لاہور میں واقع پُرتعیش رہائش گاہ میں موجود تھے تو آپ کو زیادہ حیرانی ہو رہی ہو گی آپ کا ملتانی قلعہ تو پہلے ہی ویران ہو چکا تھا، اب تو اس کے آباد ہونے میں اور بھی زمانے لگ جائیں گے۔

مرشد سائیں یہ مانگے کا اقتدار بھی بڑا ظالم ہوتا ہے۔ جب مل رہا ہوتا ہے تو تمام لوگ اسے آپ کا حق اور آپ کے انتخاب کو بہترین انتخاب قرار دے رہے ہوتے ہیں، لیکن جب بخشش کرنے والے اپنا دان واپس لے لیتے ہیں تو وہی لوگ آپ کی حماقتوں اور غلط فیصلوں کو بطور دلیل پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ اب تو آپ کی ساری سیاست سرائیکی صوبے سے ہی جڑی ہے، لیکن کیا آپ نے غور کیا ہے کہ اتنی محنت اور منصوبہ بندی کے ساتھ زرداری صاحب نے آپ سے جان چھڑائی ہے، کیا اب سرائیکی صوبہ بنا کر آپ کو دوبارہ ہیرو بنا دیا جائے۔ کیا معاملہ اتنا ہی سادہ ہے؟ ویسے اب آپ جتنی جلدی مویشی فارم کے پڑوس سے نکل آئیں، اتنا ہی آپ کو فائدہ ہو گا، کیونکہ آپ تو زرداری صاحب کی اس ”فراخدلانہ“ دعوت کو لوگوں کے سامنے اپنی اہمیت اور پارٹی میں اپنے مقام کے حوالے سے پیش کر رہے تھے، یہاں تو سارا معاملہ ہی اُلٹ ہو گیا، پارٹی تو ایسی احسان فراموش نکلی کہ پارٹی عہدیدار اور پارٹی کے ممبران اسمبلی تو اب آپ کے سائے سے بھی دور بھاگ رہے ہیں۔ باقی رہ گئیں پارٹی میٹنگز تو وہ اسلام آباد میں ہوں یا لاہور کراچی میں، آپ تو کہیں بھی نہیں نظر آرہے۔

مرشد سائیں آپ تو پاکستان بھر میں بالعموم اور جنوبی پنجاب میں بالخصوص اپنے دوستوں کو پیپلز پارٹی کے ٹکٹ بانٹ رہے تھے، اب تو صدارتی محل سے الیکشن لڑنے کے خواہشمندوں کو باقاعدہ پیغامات بھجوائے جا رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کا ٹکٹ عطاءکرنا چیئر مین بلاول زرداری اور شریک چیئر مین جناب آصف زرداری کے ساتھ ان کی ہمشیرہ محترمہ فریال تالپور کا اختیار ہے۔ گیلانی صاحب اور ان کے خاندان میں کس کس کو ٹکٹ دیا جائے گا، ابھی تو اس کا فیصلہ بھی نہیںہوا تو گیلانی صاحب کیسے پارٹی کا ٹکٹ کسی کو دے سکتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے آپ کے دو قریبی اور دیرینہ ساتھی جاوید علی شاہ اور دیوان عاشق بخاری نے اپنے نئے سیاسی سفر کے لئے نئے ساتھی تلاش کر لئے ہیں، کیونکہ آپ کی موجودہ صورت حال میں آپ پر تکیہ کرنا سیاسی حماقت ہو گی۔

مرشد سائیں جیل سے نکل کر سیدھے وزیراعظم ہاﺅس میں پہنچے تو ایسا لگتا تھا کہ سیاست میں ہر قدم پر خوش قسمتی آپ کے انتظار میں تھی، ہر دن عید اور ہر رات شب برا¿ت.... چار سال کس طرح گزر گئے، پتہ ہی نہیں چلا۔ دنیا بھر کے سیر سپاٹے، اعلیٰ سے اعلیٰ برانڈ کے ملبوسات اور دنیا بھر کے اعلیٰ ترین سٹورز پر آپ کی اور آپ کے خاندان کی شاپنگ کے قصے سب کے سب یکدم خواب ہو گئے، ویسے آپس کی بات کہ کیا آپ نے کبھی سوچا تھا کہ یہ ہنسنے اور کھیلنے کے دن رات یوں اچانک ختم ہو جائیں گے؟ یقینا نہیں، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو آپ ہر قسم کے میڈیا میں اپنے اور اپنے اہل خانہ کے حوالے سے سامنے آنے والے سکینڈلز پر کچھ غور فرماتے ، لیکن آپ تو اس طرح کے ہر سکینڈل کے جواب میں سوال کرنے والوں کو عدالت جانے کا مشورہ دیتے تھے اور اب جب معاملات عدالتوں میں جا پہنچے ہیں تو آپ انتقامی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔ آپ سرائیکی وسیب کے بھولے عوام کو کہہ رہے ہیں کہ یہ سب سرائیکی صوبے کے مطالبے کے باعث ہو رہا ہے۔ نہیں مرشد سائیں ایسا نہیں ہے، اگر ایسا ہوتا تو پھر سب سے زیادہ انتقامی کارروائی فیصل کنڈی اور جمشید دستی کے خلاف ہونی چاہئے تھی۔ جمشید دستی تو سرائیکی صوبہ بزور بندوق حاصل کرنے کے نعرے لگا رہے ہیں، اس کے باوجود اس کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہو رہی، حالانکہ اس کے خلاف تو مظفر گڑھ کے ڈاکٹروں نے اقدام قتل کا مقدمہ بھی درج کرا دیا ہے۔

ایک اور بات آپ کے دونوں ولی عہدوں کے خلاف حج سکینڈل، نیشنل انشورنس اور اب ایفی ڈرین کیس کے تمام مقدمات تو وفاقی حکومت اور اپنے رحمن ملک کے محکمے ایف آئی اے نے بنائے ہیں تو پھر انتقامی کارروائی کون کر رہا ہے؟ تھوڑا سا غور کریں، یاد کریں کہ اپنے رحمن ملک اور آپ کے رحمن بابا آپ کی کابینہ میں بھی آپ کے کنٹرول میں نہیں تھے۔ جیسے دن بدل گئے ہیں، کہیں رحمن بابا بھی بدل تو نہیں گئے اور آپ نے سن تو لیا ہو گا کہ اپنے قبلہ حامد سعید کاظمی بھی ضمانت پر رہا ہونے کے بعد آہستہ آہستہ زبان کھول رہے ہیں۔ ان کے بقول ان (کاظمی صاحب) کے خلاف سازش کرنے والوں کو آدھی سزا مل گئی ہے اور جلد ہی باقی سزا بھی مل جائے گی۔ محترم کاظمی صاحب کا اشارہ کس کی طرف ہے؟ آپ کو بات سمجھ آئی یا نہیں، لیکن ملتان میں سب لوگ بات سمجھ گئے ہیں اور آخری بات مرشد سائیں آپ نے اور موسیٰ گیلانی نے ٹھیک فیصلہ کیا کہ موسیٰ گیلانی ضمانت پر رہائی کے فوراً بعد لندن چلا گیا، ورنہ 25 ستمبر کو کہیں ضمانت منسوخ ہونے پر اے این ایف کے ہاتھوں حقیقتاً گرفتاری کافی مہنگی پڑ جاتی، لیکن 25 ستمبر کو جب وکیل صاحب نئی تاریخ مانگیں گے تو معاملہ تو کھل ہی جائے گا، پھر کیا ہو گا 25 ستمبر کوئی زیادہ دُور تو نہیں۔

بے شک اللہ رب ذوالجلال انسانوں کے درمیان دنوں کو پھیرتا رہتا ہے۔ اچھے دنوں کے بعد برے دن اور آخر کار ہر چیز نے فنا ہو جانا ہے باقی صرف رب تعالیٰ کا نام رہے گا تکبر اور کبریائی صرف اور صرف اسی ذات باری تعالیٰ کا حق ہے جو مالک مطلق اور خالق عظیم ہے۔ ٭

مزید :

کالم -