مولانا مسعود بیگ کی شہادت، ریاست کا امتحان

مولانا مسعود بیگ کی شہادت، ریاست کا امتحان

  

تنہائی کا احساس شدید ہوتا جاتا ہے۔ دوست احباب ساتھی اور بزرگ اٹھتے جاتے ہیں۔ ذہن پراگندہ ہے کیسی کیسی نادر و نایاب شخصیتیں اس د نیا سے چلی گئیں، جن کی یاد دل میں نیزے کی انی کی طرح پیوست ہے، ہر چند کہ موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے، جس سے مفر نہیں تاہم اپنے چاہنے والوں کی دائمی جدائی مثاق تو گزرتی ہے، آنکھیں نم تو ہوتی ہیں اور دل سے یہ صدا تو آتی ہے کہ کاش ایسا نہ ہوتا اس سے بھی زیادہ دُکھ حادثاتی موت کا شکار ہونے والے کا ہوتا ہے۔ انسانی ذہن جو قدرت کے فیصلوں میں مصلحت کا ادراک کئے بغیر یہ سوچتا ہے کہ انسانی زندگی کو ارزں سمجھنے والے ظلم نہ کرتے تو یہ نابغہ شخصیت اور جی سکتی تھی کہ صحت و تندرستی اور ذہنی قوت شباب پر تھی، ان کے چاہنے والوں کے ذہن میں ان کی جدائی کا شائبہ تک نہ تھا۔

کچھ ایسے بھی اُٹھ جائیں گے اس بزم سے جن کو

تم ڈھونڈنے نکلو گے مگر پا نہ سکو گے

تاہم انسانی ذہن کو قدرت نے ایسی نعمت سے بھی نوازا ہے کہ پیہم رواں ہر دم جواں ہے زندگی! کسی ایک نقطہ پر منجمد ہونا اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں اور پھر موت کی سچائی کو تسلیم کرنے کے سوا چارہ بھی کیا ہے۔ جب احمد مرسل نہ رہے کون رہے گا، بس عافیت اسی میں ہے کہ سرکار دو عالم کے لائے ہوئے نظام زندگی کی پیروی کی جہد میں زندگی بسر کی جائے اور جو اللہ کے مقرب بندے باعمل زندگی گزارتے ہیں، انسانی قدروں کی پاسبانی اور حکم حق بلند کرنے کے سلسلے میں شہادت پاتے ہیں ان اقوال اور کردار کو حرزِجاں بنانا لازم قرار دینا چاہئے۔ یہ عافیت اور فلاح کا راستہ ہے۔ جامعہ بنوریہ سائٹ کے مہتمم اعلیٰ جناب مفتی نعیم کے داماد اور جامعہ بنوریہ کے استاد، کراچی یونیورسٹی کے لیکچرار مولانا مسعود بیگ صاحب شہید ایسی ہی مجسم حق گوئی اور بے باکی اور بے خوفی کی تصویر تھے، جنہیں ظالموں نے ہم سے چھین لیا تاہم یہ قربانی ان کے پرستاروں اور ان کی تقلید کرنے والوں کے حوصلے کمزور نہ کر سکے گی۔

ہم لوگ ہیں پابند وفا ہم سے تو پوچھو!

کچھ در محبت کا پتہ ہم سے تو پوچھ!

ہمارے قبیلے کی کئی نابغہ روز شخصیتوں کو موت ہم سے چھین کرلے گئی۔ بہت سے طبعی موت کا شکار ہوئے اور چند حادثاتی موت کے ہاتھوں دنیا سے اٹھا لئے گئے اور اپنے محترم بزرگوں جیسے دوست جناب مولانا مسعود بیگ صاحب کی شہادت نے ذہن میں ایک فلم سی چلا دی۔ کراچی میں امن و امان کی ابتر صورت حال کا اندازہ صرف اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ پہلے صرف عام شہری ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن رہے تھے، لیکن اب مذہبی اداروں کے ذمہ داروں کو بھی ہلاک کیا جا رہا ہے۔ بدامنی کے اس ماحول میں صوبائی حکومت بالکل بے بس ہے۔ زندگی کے کسی شعبے میں اس کی کارکردگی نظر نہیں آتی۔ حکومت کی ناکامی کے لئے ثبوت و شواہد یا کسی کی تصدیق و تردید کی ضرورت نہیں ہے۔ پیپلزپارٹی کے پچھلے دورِ حکومت سے آج تک چھ سال سے زائد کے عرصے میں قائم علی شاہ سندھ کے وزیراعلیٰ ہیں۔ اس پیرانہ سالی میں وہ ملک و قوم یا کم از کم اپنے صوبہ کی بھی خدمت کے قابل نہیں، لیکن ان میں پیپلزپارٹی کی قیادت کو نہ جانے کیا اہلیت، صلاحیت نظر آتی ہے کہ پارٹی سندھ کی قیادت کے لئے کسی اور شخص کو تلاش کرتی ہے، نہ اعتماد کرتی ہے۔ یہ عمر قائم علی شاہ کے لئے آرام کرنے کی ہے، لیکن اقتدار میں کوئی ایسا نشہ ہے کہ وہ خود بھی اقتدار چھوڑنے کے بجائے اس سے آخر وقت تک چمٹے رہنا چاہتے ہیں۔

قائم علی شاہ کی آنکھوں میں تو اقتدار کے لئے دم ہو سکتا ہے، لیکن ان کے چھ سالہ دورِ حکومت میں عوام کا دم پوری طرح نکلنے اور سانس اکھڑنے لگا ہے۔ اپنی حکومت کی کارکردگی کے خلاف وزیراعلیٰ سندھ نے خود ان الفاظ میں چارج شیٹ پیش کی ہے کہ ہم نے کروڑوں روپے کے فنڈز فراہم کئے، مگر صوبے میں کوئی قابل ذکر کام نظر نہیں آتا۔ شہریوں پر مختلف پابندیوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے علاوہ اہم مذہبی شخصیات کی شہادتوں کے باوجود کراچی میں جرائم کم نہیں ہوئے۔ سالہا سال سے پولیس اور مجرموں کے درمیان آنکھ مچولی جاری ہے، تو صوبائی حکومت کو اپنی شدید ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفی ہو جانا چاہئے۔ حکومت شہریوں کی جان او مال و املاک کا تحفظ نہ کر سکے، جو اس کا بنیادی فریضہ ہے تو اسے حکمرانی کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ مولانا مسعود بیگ کا قتل شہر میں جاری فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا تسلسل بتایا جاتا ہے، جس میں اب اہم لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

چند روز قبل علامہ عباس کمیلی کے صاحبزادے علی اکبر کمیلی کا قتل بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھا، جس کا مقصد شہر میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانا ہے۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق دہشت گردوں نے شیعہ اور سنی فرقوں سے تعلق ر کھنے والے عام شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد دونوں فرقوں کی ہائی پروفائل شخصیات کو نشانہ بنانہ شروع کر دیا ہے۔ تاکہ فرقہ وارانہ دہشت گردی کو بڑے پیمانے پر ہوا دی جا سکے۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق کراچی آپریشن کے دوران گزشتہ 12ماہ میں کئی ایسی خفیہ رپورٹس صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو ارسال کی گئی ہیں، جن میں آگاہ کیا گیا کہ کراچی میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں ایسی قوت ملوث ہے، جو شہر میں بدامنی کی فضا پیدا کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت کو ناکام ثابت کرنا چاہتی ہے، حالانکہ شہر کراچی میں کئی ماہ سے پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن جاری ہے۔ کراچی کی تاریخ گواہ ہے کہ پولیس اور رینجرز سے عام قاتل اور دہشت گرد تو خوفزدہ ہو جاتے ہیں، لیکن جنہیں سیاسی جماعتوں کی سرپرستی اور پشت پناہی حاصل ہے۔

 پولیس سیاسی دباﺅ کے تحت ان کے خلاف کمزور مقدمہ قائم کر کے انہیں نچلی عدالتوں سے ضمانتیں کرانے کا موقع فراہم کر دیتی ہے۔ کمزور استغاثہ کے باعث وہ رہا ہو جائیں، تو عدالتوں کو مورد الزام قرار دیا جاتا ہے کہ ہم تو ملزموں کو پکڑتے ہیں، عدالتیں انہیں چھوڑ دیں تو ہم کیا کریں، قانون سے ناواقف عام شہری اس پروپیگنڈے کی وجہ سے صرف ماتحت عدالتوں، بلکہ اعلیٰ عدالتوں سے بھی بدظن ہونے لگتے ہیں۔ منگل کو آٹھ فراد دہشت گردی کا نشانہ بنے، پولیس کی سمجھ میں جب کچھ نہیں آتا تو وہ اکثر وارداتوں کو فرقہ وارانہ کشیدگی کا شاخسانہ قرار دے کر اپنی گلو خلاصی کر الیتی ہے۔ مفتی مسعود بیگ کو حیدری میں شہید کیا گیا، تو پولیس نے ابتدائی طور پر یہی کہا کہ فرقہ وارانہ کشیدگی اس کا سبب ہو سکتا ہے، جبکہ کراچی کے تمام علاقوں میں شیعہ سنی بھائیوں کی طرح مل جل کر رہتے ہیں۔ مولانا مسعود بیگ تو ایک بااخلاق اور باکردار غیر متنازعہ شخصیت تھے۔ ان کی عمر45سال تھی۔ جامعہ بنوریہ سائٹ منتقل ہونے سے قبل وہ عزیز آباد کے قریب شریف آباد میں اپنے والدین کے ساتھ رہتے تھے۔

 ابتدائی تعلیم کے بعد مولانا مسعود بیگ نے جامعہ بنوریہ سائٹ میں داخلہ لیا اور تقریباً نو سال قبل وہاں سے عالم کا کورس مکمل کیا، وہ بہت ذہین طالب علم تھے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد وہ جامعہ بنوریہ سائٹ میں تدریس کے شعبے سے منسلک ہو گئے اور بعد ازاں ان کی شادی مفتی نعیم صاحب کی بڑی صاحبزادی سے ہو گئی۔ اس کے بعد انہوں نے جامعہ بنوریہ میں رہائش اختیار کر لی تھی۔ مولانا مسعود بیگ صاحب جامعہ بنوریہ عالمیہ میں استاد کے علاوہ شعبہ بنات کے ناظم اعلیٰ اور جامعہ کی انتظامی شوریٰ کے رکن بھی تھے۔ مولانا مسعود بیگ دو بچوں کے باپ تھے۔ ذرائع کے مطابق مولانا مسعود بیگ مفتی نعیم صاحب کے کہنے پر پولیو مہم میں سرگرم کردار ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے پولیو مہم کے حق میں کئی پیغامات ریکارڈ کرائے تھے اور اس حوالے سے ٹی وی پروگرام بھی کئے تھے۔ مولانا مسعود بیگ کا معمول تھا کہ وہ صبح اپنی کار میں جامعہ کراچی جاتے تھے، جہاں وہ بحیثیت لیکچرار کام کرتے جامعہ کراچی سے واپس جامعہ بنوریہ آنے کے بعد وہ کھانا کھاتے اور ظہر کی نماز کے بعد کے ڈی اے چورنگی کے قریب واقع سکول سے اپنے بچوں کو لے کر آتے۔

 پولیس ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے ان کی اسی غفلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چھ دنوں تک ریکی کے بعد انہیں بآسانی نشانہ بنایا اور فرار ہو گئے۔ مولانا مسعود بیگ کو کس جرم میں شہید کیا گیا؟ اُن کا قتل ایک ناقابلِ فراموش سانحہ ہے۔ اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی کے باوجود ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ کراچی پولیس کی قیادت اور رنیجرز کو اس پر فوری توجہ دینی چاہئے، کیونکہ جب تک دہشت گردوں کو یہ خوف نہیں ہو گا کہ وہ کسی کو مار کر خود بھی نہیں بچ سکیں گے، اس وقت تک ان کے ہاتھ نہیں رکیں گے ورنہ اب تک تو آپریشن کا یہ عالم ہے کہ4ہزار سے زائد گرفتاریاں سیکیورٹی ادارے کر چکے ہیں، جن میں300 سے زائد ٹارگٹ کلرز بھی بتائے جاتے ہیں، لیکن مقدمات منطقی انجام تک پہنچانے کی صورت حال مایوس کن ہے۔ یہی چیز دہشت گردوںکے حوصلے بڑھاتی ہے، پراسیکیوشن پر حکومت کو توجہ دینی چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ اب دہشت گردوں کے سیاسی آقاﺅں پر بھی ہاتھ ڈالنے کا وقت آ گیا ہے۔ ان کے چہروں سے بھی شرافت اور سیاست کا نقاب اتارنا ہو گا اور قوم کو ان کا اصل چہرہ دکھانا ہو گا۔ ٭

مزید :

کالم -