مغرب کو ’روحانیت‘ کی تلاش

مغرب کو ’روحانیت‘ کی تلاش
مغرب کو ’روحانیت‘ کی تلاش

  

بچپن سے ہی سنا تھا کہ مغرب بالعموم اور امریکی عوام بالخصوص مادی زندگی گزارتے ہیں اور وہ اس طرح کی زندگی سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔ یہ بھی سن رکھا تھا کہ وہ روحانیت کی طرف مائل ہوچکے ہیں۔ یہ تمام باتیں سننے کے بعد یہ بھی سوچتا تھا کہ اگر ایسا ہے تو پھر کیوں نہیںلاکھوں کی تعداد میں لوگ پاکستان یا سعودی عرب جاتے جہاں روحانیت اور مذہبی سکون عروج پر ہے۔ یہ سوچ لے کر جب میں امریکہ پہنچا تو ذہن میں تھا کہ ضرور لوگوں کی اس محرومی اور تلاش پر بات کروں گا۔ اگلی ہی صبح میں نیویارک کے ایک پارک میں چلا گیا جہاں ایک درمیانی عمر کا امریکی جوڑا سیر کرنے کے بعد بینچ پر بیٹھ کر باتیں کررہا تھا۔ گڈ مارننگ کے تبادلے کے بعد میں ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا اور گھما پھرا کر انہیں اپنے موضوع پر لے آیا۔ کیا آپ موجودہ مادی زندگی سے تنگ ہیں؟ میرا سوال سن کو دونوں میاں بیوی نے مثبت  جواب دیا۔ میرا پہلا تیر ٹھکانے پر لگنے کے بعد دوسرا پھینکا ’تو پھر آپ لوگ کیوں نہیں روحانی زندگی کی تلاش میں پاکستان جاتے جہاں آپ کو بہت سکون ملے گا‘۔لیکن ان کے جواب نے میرے چاروں طبق روشن کردئیے، ’کیوں جناب، ہمیں اپنی زندگی عزیز ہے‘، خیر میں بھی ہار ماننے والا نہ تھا اوراگلا سوال کردیا ’عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب میں آپ کو سکون مل سکتا ہے ‘لیکن ان کے جواب پر مجھے شدید غصہ آیا۔ دونوں میاں بیوی بیک زبان بولے ’ہمیں اپنے حقوق جان سے بھی زیادہ پیارے ہیں،ہم ایسے ملک میں کیوں جائیں جہاں غیر ملکیوں کے لئے قوانین ہی مختلف ہیں‘۔

اپنا پہلاوار ناکام ہونے کے بعد میں نے دوسرے کا سوچا اور پھر میں نے انہیں کہا کہ آپ لوگ یہاں اکیلے بیٹھے ہوئے ہیں۔ کیا آپ کے بچے نہیں ہیں جو آپ کو سنبھال سکیں، میرے اس سوال پر انہوں نے میری طرف عجیب نظر سے دیکھا اور جواب دیا کہ وہ اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہیں اور ہم کیوں ان پر بوجھ بنیں۔ میں نے انہیں کہا کہ یہ تو بہت ہی غلط بات ہے کیونکہ اولاد کو تو والدین کا بڑھاپے کا سہارا بننا ہوتا ہے لہٰذا انہوں نے آپ کو تنہا چھوڑ کر اچھا نہ کیا۔ میرا خیال تھا کہ میرے اس ہمدردانہ لیکچر پر ضرور یہ جوڑا میری تعریف کرے گا لیکن انہوں نے کہا کہ ہماری ریاست ہی ہماری محافظ اور دیکھ بھال کے لئے کافی ہے اور ہمیں کسی کی ہمدردی کی ضرورت نہیں۔

 ان دونوں جوڑوں کو قائل نہ کرنے کے بعد میں واپس اپنے اپارٹمنٹ کی طرف یہ سوچتا روانہ ہوگیا کہ یہ لوگ بہت ہی ’بدقسمت‘ ہیں اور صرف اپنی زندگی اور حقوق سے پیار کرتے ہیں اور یقینا یہ موجودہ زندگی کو حقیقی سمجھ بیٹھے ہیں لیکن انہیں کیا معلوم کہ مسلمانوں کے لئے تو بعد کی زندگی اہم ہے، چاہے اس زندگی میں انہیں حقوق یا قانون کی حکمرانی نہ بھی ملے تو یہ کون سی اتنی بڑی بات ہے۔

مزید :

بلاگ -