غریب اور نادار طبقے کو انصاف کیلئے طویل انتظار کرناپڑتا ہے،چیف جسٹس انور ظہیرجمالی

غریب اور نادار طبقے کو انصاف کیلئے طویل انتظار کرناپڑتا ہے،چیف جسٹس انور ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس انورظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ انصاف کی فراہمی کوبہتر بنانا اس تقریب کا بنیادی مقصد ہے ۔ خوش قسمتی ہے کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جمہوری ڈھانچہ ایسا ہو جہاں اقتدارعوام کے منتخب کردہ افراد کے ہاتھوں میں ہو۔کسی بھی ادارے کو اپنی حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔انتظامیہ عدلیہ اور مقننہ کو خصوصی اختیارات تفویض کیئے گئے ہیں ،عدلیہ کی کوشش ہے کہ ایسے احکامات دے جن سے غیرقانونی اقدامات کی تصیحح ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ تقسیم اختیارات کاحصول اور اداروں کے مابین آرٹیکل 209 کے تحت درخواستوں کونمٹایاجائے گا ۔انہوں نے کہا کہ غریب اور نادار طبقے کو انصاف کیلئے طویل انتظار کرناپڑتا ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد میں دھرنے کے باعث عدالتی کارروائی میں خلل پڑا ۔چھٹیوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں چھٹیوں کا نظام تقسیم پاک و ہند سے چلا آرہا ہے ،ان تعطیلات کا مقصدقانون فہمی سے ،متعلق کتب کا مطالعہ بھی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ2 ججز کی سیٹیں خالی پڑئی ہیں کوشش ہے انہیں جلد پر کر لیا جائے ۔

مزید : جرم و انصاف