سیکرٹری صحت کی سیٹ بیوروکریسی کے لئے کانٹوں کی سیج بن گئی، 5 برسوں میں 6 سیکرٹریوں کو عہدے سے ہٹایا گیا

سیکرٹری صحت کی سیٹ بیوروکریسی کے لئے کانٹوں کی سیج بن گئی، 5 برسوں میں 6 ...
سیکرٹری صحت کی سیٹ بیوروکریسی کے لئے کانٹوں کی سیج بن گئی، 5 برسوں میں 6 سیکرٹریوں کو عہدے سے ہٹایا گیا

  

لاہور (ویب ڈیسک) سیکرٹری صحت کی سیٹ بیورو کریسی کے لئے کانٹوں کی سیج بن کررہ گئی ہے۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ناقص ادویات سے ہلاکتوں، ینگ ڈاکٹرزکا احتجاج، خسرہ اور ڈینگی سے ہلاکتوں کے باعث گزشتہ 5 سالوں میں محکمہ صحت کے 6 سیکرٹریوں کو عہدے سے ہٹادیا گیا۔

بیوروکریٹس اس پوسٹ پر تعینات ہونے کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں۔ حکومت کی جانب سے گریڈ 19 کے فواد حسن فواد کو فروری 2010ءمیں سیکرٹری صحت تعینات کیا گیا جن کے دور میں ینگ ڈاکٹرز نے تنخواہوں میں اضافے کے لئے 37 روز تک ہسپتالوں میں ہڑتال کی اور کئی روز تک ایمرجنسی وارڈز کا بھی بائیکاٹ کیا کہ جس دوران کئی مریضوں کی ہلاکت بھی ہوئی اس واقعے کی وجہ سے فواد حسن فواد کو اپریل 2011ءمیں عہدے سے ہٹادیاگیا۔ ان کے بعد موجودہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری انرجی جہانزیب خان کو اپریل 2011ءمیں سیکرٹری صحت کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔

دسمبر 2012ءمیں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زہریلی دوائی کے استعمال سے 213 افراد کی ہلاکت واقعے ہوئی جس کے بعد سیکرٹری صحت جہانزیب خان کو جنوری 2012ءمیں عہدے سے ہٹادیا گیا۔ ان کے بعد کیپٹن (ر) عارف ندیم کو جنوری 2012ءمیں سیکرٹری صحت تعینات کیا گیا ان کے دورمیں بھی ینگ ڈاکٹرز نے سروس سٹریکچر کے لئے ایک ماہ تک احتجاج کیا۔

مزید : لاہور