ایران نے القاعدہ کے 5 سینئر ترین رہنماﺅں کو آزاد کر دیا، ایسا کیوں کرنا پڑا؟ تشویشناک وجہ بھی سامنے آ گئی

ایران نے القاعدہ کے 5 سینئر ترین رہنماﺅں کو آزاد کر دیا، ایسا کیوں کرنا پڑا؟ ...
ایران نے القاعدہ کے 5 سینئر ترین رہنماﺅں کو آزاد کر دیا، ایسا کیوں کرنا پڑا؟ تشویشناک وجہ بھی سامنے آ گئی

  

تہران (نیوز ڈیسک) مغربی میڈیا نے ایک تہلکہ خیز دعویٰ کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے رواں سال کے آغاز میں القاعدہ کے پانچ سینئر رہنماﺅں کو القاعدہ کی یمنی شاخ کے حوالے کردیا ہے اور اس کے بدلے میں اپنے ایک سفارتکار کو رہا کروایا ہے۔

ایک موبائل ایپ جو آپ کو بڑے دھوکے سے بچا سکتی ہے

نیوز سائٹ nytimes.com کے مطابق ایرانی سفارتکار نور احمد نیک بخت کو یمنی دارالحکومت صنعاءمیں جولائی 2013ءمیں القاعدہ نے اغواءکرلیا تھا۔ نیوز سائٹ کے مطابق اس سفارتکار کی رہائی کی کوششیں ایک عرصہ سے جاری تھیں اور بالآخر ایران کی تحویل میں موجود القاعدہ کے انتہائی سینئر ارکان کو رہا کرکے سفارتکار کی رہائی ممکن بنائی گئی ہے۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ رہا کئے جانے والے القاعدہ رہنماﺅں میں سیف العدل بھی شامل ہے جو 2011ءمیں اسامہ بن لادن کی موت کے بعد عبوری طور پر القاعدہ کی سربراہی کرتے رہے۔ وہ القاعدہ کی شوریٰ کے سینئر رکن رہے اور امریکا نے ان کے سر کی قیمت 50 لاکھ ڈالر (تقریباً 50 کروڑ روپے) مقرر کررکھی تھی۔

جعلی ائیرپورٹ جسے 24 ارب روپے میں بیچ دیا گیا، تاریخ کے بڑے فراڈ کی عقل کو دنگ کر دینے والی داستان

جمعرات کے روز ایرانی حکومت نے امریکی ٹی وی ’سکائی نیوز‘ کی رپورٹ کی تردید کی جس میں القاعدہ رہنماﺅں کی رہائی کا دعویٰ کیاگیا تھا۔ دوسری جانب مغربی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ایک سینئر امریکی افسر نے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے کہ ایران نے پانچ القاعدہ رہنماﺅں کے بدلے اپنے سفارتکار کو رہا کروایا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ القاعدہ کے سینئر رہنما سیف العدل القاعدہ میں شمولیت سے پہلے مصری فوج میں کرنل کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ باقی چار القاعدہ رہنماﺅں کے نام عبدالخیرالمصری، اردن کے عبدالقاسم، صاری شباب اور ابو محمد المصری بتائے گئے ہیں۔ یہ خیال بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ القاعدہ کے یہ پانچوں رہنما ستمبر 2001ءمیں امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملوں کے واقعے کے بعد ایران منتقل ہوگئے تھے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس