بڑھتی ہوئی فیسیں اور عوامی مشورہ

بڑھتی ہوئی فیسیں اور عوامی مشورہ
 بڑھتی ہوئی فیسیں اور عوامی مشورہ

  

ایک اہم قومی مسئلہ پر ذہنی الجھاؤ کو کم کرنے میں اس مرتبہ بھی روزنامہ ’ڈان‘ کا اداریہ ہی میرے کام آیا ۔ موضوع ہے پرایؤیٹ سکولوں کی بڑھتی ہوئی فیسوں پر گزشتہ ہفتے کراچی ، لاہور اور اسلام آباد میں والدین کے احتجاجی مظاہرے ۔ اخبار نے اس نازک سوال کی نشاندہی کی ہے کہ آیا پاکستان میں صحت ، امن عامہ اور تعلیم کے شعبے مملکت کی بنیادی ذمہ داری ہیں یا یہ ملک صرف ان خوشحال لوگوں کے لئے ہے جو اپنے جان و مال کی حفاظت ، علاج معالجہ اور بچوں کی تعلیم کے لئے نجی شعبہ کے منافع خوروں کی نازبرداریاں سہہ سکتے ہوں ۔ ایک ایسے شہر میں جہاں سگنل فری ٹریفک کی خاطر آجکل ہر طرف حشر بپا ہے ، میں پیدل شہریوں کو بھی محفوظ فٹ پاتھوں پہ چلتا دیکھنا چاہتا ہوں ، مگر شائد پیدل شہریوں کے ہر مسئلہ کا حل یکساں نظام تعلیم سے جڑا ہوا ہے۔عام خیال کے مطابق تعلیم کا ابتدائی مقصد شرح خواندگی اور گرد و پیش کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہے ۔اس سے آگے تحقیق اور تخلیق کے مرحلے آتے ہیں ۔ یہ ذرا اونچی سطح کی بات ہے ، ورنہ ایک ترقی پذیر معاشرے میں تعلیم کی افادیت اس لئے بھی ہے کہ اسے لوگوں کے لئے سماجی ترقی کا وسیلہ بھی ہونا چاہئیے ۔ میں نے برصغیر میں انگریز کا دور نہیں دیکھا ۔ ہاں ، اپنے بڑو ں سے ، جو سب کے سب برطانوی ایجنٹ نہیں تھے ، یہی سنا کہ دسویں جماعت پاس کرنے کی دیر ہوتی کہ اچھا خاصا معقول نوجوان ’بابو‘ بننے کے خواب دیکھنے لگتا ، بلکہ افسرانہ صلاحیت والوں کو مسلح افواج میں کمیشن بھی مل جاتا، جبکہ سول سرشتہ میں لیلائے افسری سے وصال کے لئے بی اے کی ڈگری شرط تھی ۔

اس حکمت عملی کے پیچھے نو آبادیاتی مقاصد تو ضرور ہوں گے ، مگر مقامی آبادی کو بھی اس سے نمایاں طور پہ فائدہ پہنچا ۔ جیسے فوجی میس کے لئے انڈے مرغی کی سپلائی سے لے کر رنگ روغن کرنے والوں اور ہوٹلوں ، سنیما گھروں اور ڈیپارٹمنٹل سٹورز کے مالکان تک بہت سی نئی سماجی پرتیں ہمارے سامنے آئیں ۔ براہ راست یا نچلے عہدوں سے ترقی پانے والے لاتعداد بارسوخ فوجی افسروں کا طبقہ اس کے علاوہ ہے جس کی بدولت ایک جنگ آزمودہ مصنف کے مطابق ، ہم نے سلیکشن کے وقت عزیز و اقارب کے حوالہ سے اپنے شجرہء نسب کو کھینچ تان کر اتنے صوبیدار چچاؤں اور کپتان چچا زادوں کا احاطہ کر لیا تھا کہ بورڈ کو مطمئن کرنے کے بعد بھی کچھ باقی رہ گئے ۔ پولیس ، ریلوے ، سول اور ملٹری اکاؤنٹس ، محکمہ ء انہار ، پٹوار اور کئی دیگر ’غریب پرور، محکمے اور بھی ہیں ، جنہوں نے درمیانہ طبقہ پیدا کیا ۔

مَیں نے ’ڈان‘ کے اداریہ میں نجی تعلیمی شعبے کے خلاف اپنی مرضی کا نکتہ ابھارنے کی جو کوشش کی ہے اس کے جواز میں یہ بھی ثابت کر سکتا ہوں کہ بطور طالب علم اور استاد میری وابستگی جن باضابطہ درسگاہوں سے رہی ان کی تعداد ڈیڑھ درجن سے خاصی زیادہ بنتی ہے ۔ کچھ لوگ کہیں گے ، یہ کیسے ممکن ہے کہ آ دمی فیل ہوئے بغیر اٹھارہ ، بیس سال تک درجن بھر سکولوں اور کالجوں میں پڑھتا رہا ہو ۔ اس پر مجھے مرحوم منیر نیازی کا خیال آتا ہے جن سے نامور ریڈیو ، ٹی وی پرو ڈیوسر عارف وقار نے آخری دنوں میں پوچھا ’ڈاکٹروں نے تو اب پینے پلانے سے منع کر دیا ہو گا ‘۔ ’کر دیا ہے‘ نیازی صاحب نے مخصوص لہجہ میں کہا ۔ ’پھر تو آپ بہت تنگ ہوتے ہوں گے‘ ۔ ’ہوتا ہوں‘ ۔ ’تو نیازی صاحب ، اس صورت میں کیا کرتے ہیں؟‘ ’پی لیتا ہوں‘۔ مجھے بھی کہنے دیں ’ ہاں، پڑھتا رہا ہوں۔‘

یہاں یہ راز افشا کر دینے میں کوئی حرج نہیں کہ میرے ابا اپنی چار بہنوں کے اکیلے بھائی ہیں جبکہ دادا ، جن کی دو بہنیں بھی تھیں ‘ اس لحاظ سے تنہا سمجھے گئے کہ ان کے واحد بڑے بھائی نے لالہ سائیں کے ’قلمی‘ نام سے سنیاس لے لیا تھا ۔ میرا ارادہ لالہ جی کا نام لے کر اپنی روحانی پریکٹس چمکانے کا ہر گز نہیں ۔ محض یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میری پیدائش کے بعد پوری کوشش کی گئی کہ انگریز حکمرانوں کے چلے جانے کے بعد ، مجھے بھی اس وقت کی نو زائیدہ پاکستانی مملکت کی طرح جدید تقاضوں اور ملی ضروریات سے پوری طرح ہم آہنگ کر دیا جائے ۔ اسی جدوجہد کی بدولت میں نے تیسری جماعت چوتھے سکول میں جاکر پاس کی ، مگر یکے بعد دیگرے ان سکولوں میں ماحول ، نصاب ، طرز تدریس اور ذریعہء تعلیم کے ساتھ مجھے اچھا خاصا ’چڑی چھکا‘ کھیلنا پڑا ۔

سیالکوٹ کے اولین سکول میں ، جسے لوگوں نے سٹی میموریل کی بجائے یحییٰ شاہ کا سکول ہی کہا ، مجھے آج کے گلی محلہ انگریزی میڈیم ادارے کی جھلک دکھائی دیتی ہے ۔ یحییٰ صاحب نے ، جو ابا کے دوست بھی تھے ، اپنی فیس کھری کر کے میری انگلش کتنی ’ہائی‘ کی ، کچھ یاد نہیں ۔ سوائے اس کے ایک دن ایک کمرے میں بڑی کلاس کی کچھ لڑکیاں ’وہ شمع اجالا ‘ والی نعت مل کر گارہی تھیں جو مجھے اچھی لگی ۔ اس کے بعد چھاوئی کے کنٹونمنٹ جونیئر پبلک سکول میں ، جہاں موجودہ وزیر دفاع میرے سینئر اور ہم تانگہ تھے ، ایک اور ڈرامہ ہوا ، یعنی نتیجہ نکلنے پر پتا چلا کہ جس بچے کو بصد اہتمام جماعت دوئم میں داخل کرایا گیا تھا، وہ سارا سال ایک کلاس پیچھے کے جی ٹو میں پڑھتا رہا ہے ۔ اس لئے اب اسے ترقی دے کر دوسری جماعت میں کیا گیا ہے ، تیسری میں نہیں۔

آج یہ سخت حیرت کی بات سمجھی جائے گی ، مگر انیس سو پچاس کی دہائی میں میرے داخلے کے وقت ماں اور پھوپھی دونوں کو ’بے جی‘ کے معانی تو معلوم تھے ’کے جی‘ کا کچھ پتا نہیں تھا ۔ اصل میں اس ماڈرن قسم کے سکول میں اردو کا مضمون ابھی متعارف ہی نہیں ہوا تھا اور کلاس میں ’پیٹ کین سنگ ، مدر کین سنگ‘ کے ساتھ ’کھب صورت ، کھب صورت کر کے لکھنا ‘ ہی سب کچھ تھا ۔ مجھے داخل کرانے والی پھوپھی خود ایک ہائی سکول میں پڑھاتی تھیں ، لیکن کڑے تعلیمی معیار کا حامل ان کا ادارہ ایک روایتی گرلز سکول تھا جہاں انگریزی چھٹی جماعت سے شروع ہوتی اور استانی کو ’آپا جی‘ جبکہ ہیڈ مسٹریس کو ’بڑی آپا جی‘ کہہ کر مخاطب کرتے ۔ اب اتنی اپنائیت اور ادب کی عادی آپا جی‘ کو کیا پتا کہ کنڈر گارٹن تعلیم میں جماعت شماری کا جدید نظام کیا ہے۔

میرے گھر والوں نے اپنی غلطی تو تسلیم نہ کی ، بس خفت مٹانے کے لئے میونسپل بورڈ کا ایک ایسا سکول تلاش کر لیا جس نے مجھے تین ماہ بعد تیسری میں ’چڑھا‘ دینے کی حامی بھر لی تھی ۔ ان دنوں اپنے ’کیس‘ کو مضبوط بنانے کے لئے والدین نے دو قومی نظریہ کا سہارا بھی لیا کہ بچے کے لئے انگریزی کی بجائے اردو پڑھنا اور لکھنا زیادہ مفید ہے ۔ بہر حال ، ایم ۔ بی ۔ پرائمری سکول ، اڈہ پسروریاں کے نام سے یہ ایک اور دنیا تھی ۔ مسز میسی کی جگہ آزادی کے وقت یہیں رہ جانے والے ماسٹر وزیر چند، کرسی اور ڈیسک کی بجائے گرد آلود ٹاٹ ، کاپی پنسل کو چھوڑ کر سلیٹ سلیٹی اور تختی لکھنے کے لئے دھات یا مٹی کی دوات اور بعض حالتوں میں پونڈز کریم کی متروکہ شیشی ۔

ہمارا یہ سکول ، جس میں پہلی بار الف ، ب ، ج کی صحیح پہچان ہوئی ، دو عمارتوں میں تھا ، جنہیں الگ الگ پھاٹکوں کی وجہ سے لوہے والا اور لکڑ والا سکول کہتے ۔ سکول لگتے ہی پہلے حساب ، پھر املا اور اردو کی کتاب ، جس میں ’ہمارے پیارے نبی‘ ، ’چڑیا اور جگنو‘ ، ’بہادر لڑکا‘ اور ’سلمی کی گڑیا ‘ نے خوب مزا دیا ۔ آگے چل کر ’گیت اسی کی حمد کے گائیں ‘ ، ’چاند سہانی رات میں نکلا ‘ ، ’وہ دیکھو ہوائی جہاز آ گیا ہے‘ ۔ جس چیز نے طبیعت کا ترنم سیٹ کیا وہ شمشاد بیگم اور سکھیوں کی طرح لہک لہک کر پہاڑے گانے کا عمل ہے ، جس میں باقاعدہ سر تال کے ساتھ سیالکوٹ سے وزیر آباد تک کے ریلوے اسٹیشن بھی شامل تھے ’اگوکی ، ساہووالہ ، سمبڑیال ، بیگووالہ ، گھڑتل ، سوہدرہ۔

لوہے والے سکول میں ایک سال گزرا ہو گا کہ والد کا تبادلہ واہ کینٹ ہو گیا، جہاں کنٹونمنٹ بورڈ کے پرائمری سکول میں بھولی بسری اے ، بی ، سی پھر سے یاد کرانے کی مشق شروع ہوئی ، مگر ایک مضبوط بنیاد پہلے ہی بن چکی تھی، چنانچہ آج بھی بازار میں کسی ایک آئیٹم کی قیمت پوچھ کر درجن آدھ درجن کا حساب لگاتا ہوں تو ذہن میں لوہے والے سکول کے ’بارہ چھیک بہتر ، تیرہ چھیکے اٹھہتر ، سولھو بارہیا ایک سو بانوے ‘ کا نغمہ گونجنے لگتا ہے ۔ ساتھ ہی سکول کے گیٹ پر گنڈیری کٹنے کی مہک ، نکے فالودے والے کے باہر تازہ چھڑکاؤ کے قطرے اور حسن دین کا تر تراتا ہوا حلوہ پوری۔

یہاں پہنچ کر آپ پوچھیں گے کہ بھیا ، فیسوں کے معاملہ کا حل تو بیچ میں رہ گیا ۔ میں جواب میں ’ڈان‘ کا یہ اداریہ ہی دہرا ؤں گا کہ ’ مسئلہ کا حل تو یہ ہے کہ پبلک سیکٹر کی تعلیم بحال ہو جائے ۔ اس کے لئے والدین کو یقین ہونا چاہئے کہ سرکاری سکول میں بچے کو معیاری تعلیم ملے گی اور اس کا مستقبل تباہ نہیں ہو گا ۔ سرکاری سکولوں کی موجودہ حالت کو دیکھیں تو ایسی یقین دہانی کرانا جان جوکھوں کا کام ہے ، لیکن اگر ہم والدین کو تعلیمی اداروں کی منافع خوری سے واقعی نجات دلانا چاہتے ہیں تو پھر ہمارے سامنے راستہ تو یہی ہے‘ ۔ اداریہ پڑھ کر مجھے بھی انتظار ہے کتنے والدین ، دانشور اور دینی علماء اس انسانی ، عوامی اور اسلامی مطالبہ کی حمایت کرتے ہیں۔

مزید : کالم