عیدکے نام پر شہریوں سے دہشت گردی!

عیدکے نام پر شہریوں سے دہشت گردی!
 عیدکے نام پر شہریوں سے دہشت گردی!

  

یہ معمول اور قاعدے کی بات ہے اور ہمارے میڈیا والے بھائی ہر افسوسناک سانحہ یا حادثے کے بعد ہائی الرٹ کی خبر چلا اور لگا دیتے ہیں، جیسے لاہور کے کسی ایک حصے میں بارش ہو تو بارش کی خبر کے ساتھ ہی موسم خوشگوار ہو نے کی اطلاع دیتے ہیں، حالانکہ آج کے موسم کی یہ بارش جو ایک حصے میں ہوتی ہے حبس کا باعث بن جاتی ہے، اسی طرح مہنگائی کی خبریں تحقیق کے بغیر چلائی جاتی اور نرخ کہیں سے کہیں پہنچا دیئے جاتے ہیں۔ ہمارے یہ برخوردار تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ کرائمز کے متعلق ٹیلی فون پر خبریں حاصل کرنے کے رجحان کی طرح یہاں بھی ہوا میں تیر چلائے جاتے ہیں۔پشاور کا افسوسناک سانحہ ہوا، اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اور کوئیک رسپانس فورس کی جوابی کارروائی میں دہشت گردوں کا بچ کر نہ جانا بھی ایک مثال ہے، اس میں شہادت پانے والے اور دہشت گردوں کا صفایا کرنے والے ایک جیسے داد کے مستحق ہیں تاہم اس سانحے سے جو سوال اٹھتے ہیں ان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

آپریشن ضربِ عضب جو تسلسل ،جرأت اور دانش مندی سے مختلف شعبوں کے درمیان یکجہتی اور تعاون کے ساتھ شروع ہوا، اس نے کامیابیاں بھی حاصل کیں اور دہشت گردوں کو اپنے ٹھکانے چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے، آپریشن کے نگران حکمت عملی والے اس آپریشن کے تمام تر پہلوؤں پر نظر رکھتے ہیں اور نگرانی بھی کرتے ہیں، تو ان کے علم میں یہ بھی ہے کہ بھاگتا ہوا، شکست خوردہ دشمن ان حالات میں کیا کرے گا، دہشت گرد جب کوئی واردات کرتے ہیں ،تو وہ بھی اپنی جان پہلے ہی سے گنوا کر آتے ہیں، آپ جو بھی کہیں خود کش حملہ آور اس کی مثال ہیں۔ یہ تو ہمارا (مراد قوم، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے) فرض ہے کہ ہم جوابی وار کے لئے چوکس رہیں۔ آرمی سکول پر حملے کے بعد حفاظتی انتظامات میں جو تبدیلیاں کی گئیں وہ ہر جگہ ہونا چاہئیں، اس لئے بڈھ بیر کے اس سانحہ کے بارے میں بھی تمام پہلوؤں پر غور اور یہ معلوم کرنا ہو گا کہ کمی کہاں رہی۔

اس سلسلے میں پہلی مرتبہ آئی ایس پی آر کی طرف سے بہت واضح طور پر بتا دیا گیا کہ حملہ آور پشتو اور فارسی بولتے، یہ افغانستان سے آئے اور افغانستان ہی سے ان کو ہدایات مل رہی تھیں۔ ہمارے خیال میں اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ آپ کنٹرول لائن پر بھارت کی مسلسل چھیڑ چھاڑ اور فائرنگ کا مقصد جان لیں کہ افغانستان میں بھارتی قونصل خانوں میں ’’را‘‘ کے حضرات کے تعاون سے جو کچھ ہو رہا ہے یہ اسی کا ایک عکس ہے، اِس لئے اب اگر اقوام متحدہ میں بات کرنے کا فیصلہ ہو چکا تو بات پورے شواہد اور پورے ثبوتوں کے ساتھ زور سے ہونا چاہئے۔

یہ تو دشمن کی دہشت گردی ہے، لیکن جس دہشت گردی سے پاکستان کے شہری آج کل دوچار ہیں یا پھر یہ شہری خود معزز اور شریف ہمسایوں کے ساتھ جس بربریت کا ثبوت دے رہے ہیں اس پر تو غور کر لیجئے۔ کیا یہ دہشت گردی نہیں کہ ایک ہفتہ پہلے علامہ اقبال ٹاؤن، مرکزی اور باغبانپورہ کی سبزی منڈیوں کے پھڑیوں (تھڑے والے پرچون فروش) کے اڈوں پر پیاز 35روپے فی کلو تھا وہ آج50روپے فی کلو ہو گیا اور جو ٹماٹر 50روپے فی کلو تھے وہ اب70روپے فی کلو ہو گئے ہیں اور ابھی آئندہ ہفتے میں جو قطعی عید کا ہے مزید مہنگائی کا اندیشہ موجود ہے۔ اگرچہ یہ خبروں والی مہنگائی نہیں تاہم خبروں کے مطابق ہو جائے گی۔ اس کا اندازہ یوں لگا لیں کہ ایل پی جی کے نرخ دوبارہ دس دس روپے فی کلو کر کے بڑھائے گئے اور اب مزید پانچ روپے فی کلو کا اضافہ کر دیا گیا ہے کیا یہ طوفان بلا کہیں رُکے گا۔

دوسرے یہ بھی تو ملاحظہ فرمائیں کہ شہروں ، بلکہ پورے مُلک میں دینی فریضے کے نام پر کیا ہو رہا ہے، ابھی سات آٹھ روز پہلے کی بات ہے کہ ہم سیر صبح سے گھر کی طرف واپس آئے تو اپنے محلے کی چھوٹی سی پارک میں دو درجن بکرے اور دو گائے دیکھیں، جن کے آگے پارک کے درختوں کی ٹہنیاں کاٹ کر رکھی ہو ئی تھیں اور وہ مزے سے کھا رہے تھے،کھڑے ہو کر متعلقہ شخص سے ذرا سختی سے کہا تو بمشکل یہ بکرے ان کی دکان کے پاس چلے گئے، صرف یہی نہیں پورے علاقے میں پہلے تو بھینسیں پارکوں اور گرین بیلٹ سے پیٹ بھرتی تھیں۔ عید کی وجہ سے بکرے بھی تشریف لے آئے، اور اب تو یہ حالت ہے کہ شہر کے ہر حصے میں چھوٹی چھوٹی منڈیاں بن چکیں اور بیوپاری بکروں سے گائے، اور اونٹ تک برسر عام گھوم رہے ہیں، ٹاؤن انتظامیہ کی موج ہے وہ ایک گروپ کو پکڑ کر لے جاتے اور پھر عیدی لے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ جانور جو قربانی کے لئے لائے اور فروخت کے لئے پیش کئے گئے ہیں، سڑکوں اور گلیوں میں گندگی کا باعث بھی بن رہے ہیں، اس کے ساتھ ہی جن صاحب استطاعت حضرات نے یہ جانور قربانی کے لئے خرید لئے ہیں وہ ان کو پارکوں میں ٹہلانے اور گلی، سڑک میں باندھتے ہیں، بیوپاری نے کہا میرے جانور لے جا کر مجھ سے عیدی وصول کی گئی، میرے ساتھ دہشت گردی ہوئی ہے، معزز محلے دار دبے الفاظ میں کہتے ہیں ہمسایوں نے گندگی پھیلا کر بھی تو دہشت گردی ہی کی ہے۔

یہ سب تو ہو ہی رہا ہے۔ ادھر سیکیورٹی بڑھانے کے نام پر لگائے گئے ناکے جو دہشت گردی کی روک تھام کے لئے ہیں، موٹر سائیکل والوں سے عیدی وصول کرتے چلے جا رہے ہیں یہ بھی تو دہشت گردی ہے۔اس سلسلے میں ڈی سی او لاہور سے پوچھا جا سکتا ہے کہ محترم! یہ سب تو ہونا ہے کیا آپ کے احکام میڈیا کی زینت کے لئے ہیں کہ ان پر عمل تو ہوا نہیں، منڈیاں بھی آباد ہیں اور شہر میں بھی منڈیاں ہی منڈیاں ہیں۔ ٹاؤں سے پی ایچ اے اور پولیس سے صفائی والوں تک کیا کر رہے ہیں؟

مزید : کالم