مرے لہو میں ابھی حوصلہ سلامت ہے

مرے لہو میں ابھی حوصلہ سلامت ہے
مرے لہو میں ابھی حوصلہ سلامت ہے

  

مَیں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارا دشمن شکست کھا چکا ہے۔ ایسے بہت سے عوامل موجود ہیں، جن کی بنیاد پر اس دعوے کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ یہ درست ہے کہ دہشت گردی کے واقعات اب بھی ہو رہے ہیں، مگر صاف لگ رہا ہے کہ دشمن اب آخری سانسیں لے رہا ہے۔ اس کی کارروائیوں میں کوئی ربط ہے اور نہ ہدف تک پہنچنے کی صلاحیت، وہ راستے ہی میں کہیں ادھ موا ہوکر گرتا ہے اور پھر عبرت کا نشان بن جاتا ہے۔ پشاور کا واقعہ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ اس واقعہ میں ایک درجن سے زائد دہشت گرد اپنے ہدف تک پہنچنے کی بجائے راستے ہی میں مارے گئے۔ قیمتی انسانی جانیں ضرور ضائع ہوئیں،مگر جس سرعت کے ساتھ سیکیورٹی فورسز نے ان کا خاتمہ کیا، وہ اس امر کی گواہی ہے کہ دہشت گردوں کے پاس اب وہ صلاحیت نہیں رہی جو ماضی میں ہمیں بڑے نقصانات سے دوچار کرتی رہی ہے۔ اس واقعہ میں تشویش کا ایک پہلو ضرور موجود ہے۔ دہشت گردوں کا افغانستان سے نکل کر پشاور کے حساس ترین علاقے تک پہنچ جانا، ایک بہت بڑی ناکامی ہے، مگر جیسا کہ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا، 25لاکھ افغان مہاجرین کی موجودگی اور ایک ہزار کلومیٹر پر محیط سرحد کے باعث افغانستان سے آنے والے ہر شخص کو چیک نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات اہم ضرور ہے، لیکن اسے بنیاد بنا کر اس کمزوری کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا جو سیکیورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کے حوالے سے پشاور کے اس واقعہ کی بنیاد بنی۔

آپریشن ضرب عضب نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے۔ ان کا نیٹ ورک ،تسلسل سے کئے جانے والے حملے، دہشت گردی کے بعد بلند بانگ دعوے اب خواب و خیال بن چکے ہیں۔دہشت گردوں کی سب سے بڑی شکست یہ ہے کہ پاکستان میں ان کی حمایت میں اب ایک آواز بھی نہیں اٹھتی۔ انہیں متفقہ طور انسانیت کے دشمن تسلیم کر لیا گیا ہے۔ وہ تقسیم جو اس حوالے سے قبل ازیں موجود تھی اور جس کا فائدہ اٹھا کر یہ دہشت گرد خود کو اسلامی مجاہد قرار دیتے تھے، اب باقی نہیں رہی۔ملک کی تمام دینی جماعتیں بھی دہشت گردوں کو صرف دہشت گرد سمجھتی ہیں، انہیں مختلف خانوں میں نہیں رکھتیں، نہ ہی انہیں اسلام کے مجاہد قرار دیتی ہیں۔اس صورت حال نے قوم کو متحدہ کر دیا ہے۔ قوم کا اتحاد ایک نئے عزم و حوصلے کی بنیاد بنا ہے اور اب دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہو تو قوم کا اعتماد متزلزل نہیں ہوتا، بلکہ مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ یہ دہشت گردوں کی سب سے بڑی شکست ہے۔ اس شکست کا سہرا ان معصوم شہیدوں کے سر جاتا ہے، جو آرمی پبلک سکول پشاور کے سانحے میں دنیا سے چلے گئے۔ ان کی قربانی نے قوم کو متحد کر دیا، دہشت گردوں کا چہرہ بے نقاب ہوگیا۔۔۔ دہشت گردوں کا مقصد کسی علاقے کو فتح کرنا نہیں ہوتا، کیونکہ وہ ایسا کربھی نہیں سکتے، ان کا اول و آخر مشن یہ ہوتا ہے کہ لوگوں میں خوف و ہراس پھیلایا جائے، عدم استحکام پیدا کیا جائے اور لوگ اس نکتے پر تقسیم ہو جائیں کہ ہمیں دہشت گردوں سے جنگ کرنی چاہیے یا مذاکرات کرکے ان سے رحم کی بھیک مانگنی چاہیے؟ دہشت گرد اب ان تمام مقاصد میں ناکام نظر آتے ہیں ۔ دہشت گردی کا ہر نیا واقعہ قوم کے عزم و حوصلے کو نئی زندگی دے جاتا ہے، شجاعت و بہادری کی کچھ نئی داستانیں رقم ہوجاتی ہیں اور دہشت گردوں اور ملک دشمنوں کے خلاف قوم مزید متحد ہو جاتی ہے۔

پشاور کے اس واقعہ میں کیپٹن اسفند یار کی شہادت نے شجاعت و بہادری کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ یوں تو سبھی فوجی جوان بے جگری و بہادری سے لڑتے ہیں ،تاہم کچھ کے حصے میں ہی یہ سعادت آتی ہے کہ وہ کچھ ایسا کر جاتے ہیں کہ شجاعت و بہادری کو بھی ان پر رشک آتا ہے۔ کیپٹن اسفند یار جو فوج میں اپنے چھ سالہ کیرئیر کے دوران متعدد کارنامے سر انجام دے چکے تھے، اپنی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ سر انجام دے گئے۔ انہوں نے دہشت گردوں کو سامنے سے للکارا اور انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ وہ پہلی دیوار تھے، جو دہشت گردوں کے راستے میں آئی۔ سریع الحرکت فورس کے آنے سے پہلے کیپٹن اسفند یار اور ان کے جوانوں نے دہشت گردوں کو آگے بڑھنے سے روکے رکھا۔ اگر یہ دفاعی لائن نہ ہوتی تو شاید دہشت گرد کیمپ کے مزید اندر تک چلے جاتے اور نقصان بہت زیادہ ہوتا، لیکن اس بہادر سپوت نے کہ جس کی ماں اس کے سر پر سہرا سجانے کے خواب دیکھ رہی تھی، ملک و قوم پر قربان ہو کر ایک ایسا سہرا اپنے ماتھے پر سجایا ہے جو رہتی دنیا تک اس کی شان و شوکت بڑھاتا رہے گا۔ ایک سعادت کیپٹن اسفند یار بخاری کو ملی تو ایک قوم کے حصے میں آئی کہ اس کی تاریخ میں ایک اور روشن باب کا اضافہ ہو گیا۔

مجھے یاد ہے کہ چند برس پہلے جب دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ ہوتا تھا تو قوم مایوسی کا شکار ہو جاتی تھی۔ حکمرانوں کی مصلحت پسندی، بے تدبیری اور کم حوصلگی کی وجہ سے دہشت گرد لوگوں کو خون میں نہلا کر ٹی وی پر آتے اور یہ وارننگ دیتے کہ اگر پاکستان سے دہشت گردی ختم کرنی ہے تو ان کی حاکمیت کو تسلیم کیا جائے۔ ہر دہشت گردی کے بعد ان کے ترجمان ٹی وی پر آتے، ذمہ داری قبول کرتے اور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دیتے کہ اگر ان کا وضع کردہ اسلام نافذ نہ کیا گیا تو وہ پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ طالبان کا ملک میں اثر و نفوذ بڑھنے کے بعد عوام ایک ایسی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور کر دیئے گئے تھے، جس میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی تو در کنار انہیں دہشت گرد کہنا بھی مشکل نظر آتا تھا۔ اب یہ باتیں قصہ پارینہ نظر آتی ہیں۔ کوئی دہشت گردوں کا ترجمان ٹی وی پر آ کر ذمہ داری قبول کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا اور کوئی اسلام کا ٹھیکیدار لیکچر نہیں دے سکتا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہوگا تو اس کا ردعمل بھی آئے گا۔ جب تک دشمن کو دشمن نہ سمجھا جائے ،اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی۔

جنرل راحیل شریف کو جہاں بہت سے کریڈٹ دیئے جا سکتے ہیں، وہاں یہ کریڈٹ بھی ان کا حق ہے کہ انہوں نے سیاسی و مذہبی قوتوں کو دہشت گردی کے مسئلے پر متحد کر دیا۔ عوام کو یاد ہے کہ ضربِ عضب اور سانحہ پشاور سے پہلے کیا کچھ نہیں ہوتا رہا۔ طالبان مذاکرات کے حامی اور مخالف ایک دوسرے کے خلاف کمر بستہ تھے۔ خود حکومت کے اندر ایسے لوگوں کی کمی نہیں تھی جو طالبان کے ساتھ مذاکرات کو دہشت گردی کے مسئلے کا آخری حل سمجھتے تھے۔ یہ شخصیات اب بھی حکومت میں موجود ہیں، مگر اب ان کے خیالات بدل گئے ہیں، وہ نہ صرف جاری آپریشن کے حامی ہیں، بلکہ مستقبل میں بھی اس آپریشن کو جاری رکھنے کی حمایت کر رہے ہیں۔ مَیں سمجھتا ہوں یہ بہت بڑی کامیابی ہے جو دہشت گردوں کے خلاف قوم نے حاصل کی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا جب سے قوم کے اندر تقسیم ختم ہوئی ہے، دہشت گردوں کا خوف بھی ختم ہو گیا ہے اور عوام کے حوصلے بھی پہلے سے کہیں بڑھ گئے ہیں۔

بڈھ بیر کے حالیہ سانحہ کے بعد سول و فوجی قیادت نے جس مثالی ہم آہنگی کا اظہار کیا، وہ دہشت گردوں کو شکست دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ اچھا کیا کہ وزیر اعظم محمد نوازشریف بھی بلا تاخیر پشاور پہنچے، انہوں نے شہداء کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور سی ایم ایچ میں زخمیوں سے ملے۔ انہوں نے جنرل راحیل شریف سے ملاقات کے دوران پھر اس عزم کو دہرایا کہ دہشت گردوں کا ملک سے قلع قمع کر کے رہیں گے۔ ایک وہ دور تھا جب دہشت گردی کے واقعہ پر فوج، سیاسی قوتیں، مذہبی جماعتیں اور سول حکومت سبھی اپنی اپنی بولیاں بولتے تھے۔ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتے تھے۔ بحیثیت قوم یہ ہماری سب سے بڑی شکست تھی، جو الحمدللہ ہمارے اتحاد کی بدولت اب فتح میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس وقت قوم، حکومت اور فوج دہشت گردی کے مسئلے پر یک جان ہیں اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنی ہوئی ہیں ۔شہید کیپٹن اسفند یار کے والد ڈاکٹر فیاض بخاری کی اس بات سے مجھے سو فیصد اتفاق ہے کہ اب دہشت گردوں کے لئے پاکستان میں کوئی جائے پناہ نہیں۔ ایک شہید کا باپ جب یہ عزم ظاہر کرتا ہے تو پھر کسی شک کی گنجائش باقی رہ بھی نہیں جاتی۔

مزید : کالم