شہادت کی نئی تاریخ رقم کرنے والا فضائی مجاہد

شہادت کی نئی تاریخ رقم کرنے والا فضائی مجاہد
 شہادت کی نئی تاریخ رقم کرنے والا فضائی مجاہد

  

زیر نظر کالم میں پائلٹ افسر راشد منہاس کا ذکر کر رہے ہیں، جنہیں غیر معمولی کارنامہ سرانجام دینے پر حکومت پاکستان نے ’’نشانِ حیدر‘‘ جیسے بڑے فوجی اعزاز سے نوازا۔ راشد منہاس نے جو کارنامہ سرانجام دیا، اُس کی مثال دنیا کی پوری فضائی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ راشد منہاس کا تعلق راجپوت خاندان سے تھا۔ یہ خاندان جموں و کشمیر میں آباد ہوا اور یہیں مشرف بہ اسلام ہوا۔ چار گاؤں کی ملکیت کے ساتھ یہ خاندان سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی کا مالک تھا، لیکن اللہ اور اُس کے رسولؐ پر ایمان لاتے ہی اپنے علاقے کے ہندوؤں کی بربریت اور وحشت کا شکار ہو گیا اور قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی طرح اس خاندان کے افراد توحید کے نشے میں اپنا سب کچھ لُٹا کر گرد اسپور ہجرت کر گئے۔ کچھ عرصہ یہاں قیام کرنے کے بعد ضلع سیالکوٹ میں مقیم ہو گئے۔

راشد منہاس کے دادا عبداللہ منہاس پابندِ صوم و صلوٰۃ اور تہجد گزار بزرگ تھے۔ وہ بڑے فیاض اور عاشقِ رسولؐ تھے اور اس عشق کو اپنے لئے سرمایۂ افتخار سمجھتے تھے۔ عبداللہ منہاس سیالکوٹ میں بک بائنڈنگ کا کام کرتے تھے اور اپنی روایتی ایمانداری اور نیک نیتی کی وجہ سے انہوں نے بہت ترقی کی۔ یہی اوصاف اُن کی اولاد میں بھی تھے۔ ان کے نو بیٹے تھے۔ وہ سب کے سب نیک اور باکمال تھے۔ راشد منہاس کے والد عبدالمجید منہاس نے میٹرک کا امتحان پسرور سے نمایاں پوزیشن میں پاس کیا۔ بعدازاں مرے کالج سیالکوٹ میں داخل ہوئے اور انٹر پاس کرنے کے بعد لاہور چلے آئے اور یہاں اسلامیہ کالج میں تعلیم حاصل کرنے لگے۔ راشد کے تایا عبداللطیف منہاس اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ وہ قانون گو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے، جبکہ دیگر لوگ بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔

راشد منہاس شہید 17فروری 1951ء میں کراچی میں فضائیہ ہسپتال میں پیدا ہوئے۔ گویا زندگی کی ابتدا میں ہی فضائیہ سے تعلق قائم ہوا۔ دبلے پتلے، لیکن چست اور پھرتیلے تھے۔ کتابوں، رسالوں اور اخبارات میں صرف جہازوں کی تصاویر دیکھنا پسند کرتے۔ وہ دوسرے بہن بھائیوں میں منفرد تھے۔ مذہب سے خاص لگاؤ تھا۔ راشد نے اپنی والدہ محترمہ سے بہت کچھ سیکھا ،جو عملی زندگی میں اُن کے بہت کام آیا۔ سینئر کیمبرج کے امتحان کے بعد ابھی نتیجہ بھی نہیں نکلا تھا کہ انہوں نے ایئر فورس میں اپلائی کر دیا۔ والد کی خواہش تھی کہ راشد اُن کی طرح انجینئر بنیں، لیکن اُن کے ذہن میں کچھ اور ہی سمایا ہوا تھا۔ تاہم وہ اس بات سے قطعی بے خبر تھے کہ آگے چل کر انہیں کیا رتبہ، عزت اور مقام ملنے والا ہے۔ ایئر فورس میں اپلائی کر نے کے بعد جب اُن کا انٹرویو ہوا تو اُن کی پوزیشن دوسرے لڑکوں میں نمایاں تھا۔ وہ انٹرویو میں کامیاب ہوئے ۔ اس طرح ایئر فورس کے لئے بحیثیت پائلٹ منتخب ہو گئے۔ 1968ء میں تربیت کے لئے کوہاٹ چلے گئے۔ ان کی بہترین کارکردگی پر انہیں مزید تربیت کے لئے رسالپور بھیجا گیا۔ یہاں پاکستان ایئر فورس اکیڈمی سے فلائٹ کیڈٹ کی ٹریننگ حاصل کی۔ 15اگست 1971ء کو وہ پائلٹ افسر بن گئے۔

راشد منہاس بچپن ہی سے غیر معمولی صلاحیت اور ذہانت کے مالک تھے۔ عسکری خیالات انہیں خدا نے بچپن ہی سے ودیعت کر رکھے تھے۔ وہ جہازوں اور ان کی مشینری سے خاص رغبت رکھتے تھے۔ یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ انہوں نے جب بھی بچپن میں اپنے لئے کھلونوں کا انتخاب کیا۔ ہمیشہ جہازوں کو پسند کیا۔۔۔ راشد منہاس بچپن ہی سے بہت حاضر جواب، قدرے شریر اور ظریفانہ طبیعت کے حامل تھے۔ ایک بار وہ اپنے کتے کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ان کے والد مجید منہاس نے دیکھا تو کہا کتے کوہاتھ نہیں لگانا چاہیے۔ وہ پلید اور نجس ہے۔ چند دن گزر گئے۔ ایک دن راشد کے والد نے دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھ پیچھے باندھے کتے سے کھیل رہے ہیں۔ ان کے والد کو اِس منظر پر بڑی حیرت ہوئی۔ ابھی وہ کچھ کہنے کا سوچ ہی رہے تھے کہ راشد نے معصومیت سے کہا ’’مَیں کتے کو ہاتھ نہیں لگا رہا۔ اب تو میرے ہاتھ پلید نہیں ہوں گے‘‘۔

راشد منہاس ایک جگہ زندگی کی بے ثباتی کو زیر بحث لاتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’انسان فانی ہے اور موت برحق ہے۔ اسے ایک نہ ایک روز ضرورجانا ہے۔ کوئی شخص ابد تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس لئے انسان کو چاہئے کہ اپنی مختصر زندگی میں کوئی اچھا کارنامہ سرانجام دے۔ اگر ممکن ہو تو عمر مُلک و ملت کی خدمت میں گزار کر نیک نامی حاصل کرے ‘‘۔ انہوں نے اپنی ڈائری میں امریکی صدر ابراہام لنکن، سابق صدر ایوب خاں، ہٹلر اور پیٹرک ہنری کے قول بھی لکھ رکھے تھے۔ ایوب خاں کا یہ قول انہیں بے حد پسند تھا ’’آگے بڑھو اور دشمن پر ٹوٹ پڑو‘‘۔

راشد منہاس 20اگست 1971ء کو اپنے بنگالی انسٹرکٹر مطیع الرحمن کے ساتھ معمول کی تربیتی پرواز پر تھے۔ اس غدارِ وطن انسٹرکٹر نے جہاز کو بدنیتی سے اغوا کر کے انڈیا لے جانا چاہا اور اس مقصد کے لیے پرواز بھی شروع کر دی۔ راشد منہاس نے جب دیکھا کہ بنگالی انسٹرکٹر کے عزائم ٹھیک نہیں اور وہ جہاز کو انڈیا لے جا رہا ہے تو انہوں نے کاک پٹ میں اپنے انسٹرکٹر سے شدید مزاحمت کے بعد جہاز کی کمان چھین لی اور بنگالی انسٹرکٹر کی اس کوشش کوناکام بنانے کے لیے جہاز کو زمین سے ٹکرا دیا۔ اس واقعہ میں غدار بنگالی انسٹرکٹر تو جہنم واصل ہوا ہی، راشد منہاس نے بھی جامِ شہادت نوش کیا۔ اس غیر معمولی کارنامے پر حکومت پاکستان نے انہیں نشان حیدر جیسے بڑے فوجی اعزاز سے نوازا۔ گھر والوں کو اپنے سب سے چہیتے بیٹے کی شہادت کی اطلاع ملی تو اُن کی آنکھیں ضرور نم اور سوگوار ہوئیں، لیکن سینے فخر سے تن گئے۔ راشد منہاس آج ہم میں نہیں، لیکن راشد حوصلے، بہادری و جرأت اور وطن سے محبت کی ایسی داستان رقم کر گئے جو کبھی بُھلائی نہیں جا سکے گی۔ ہمیں فخر ہے راشد منہاس ایسی قوم کا بیٹا ہے، جس کی فوج کی تاریخ دلیری کے ایسے کئی کارناموں اور شہادتوں سے بھری پڑی ہے۔

مزید : کالم