یوتھ کے ساتھ بزرگوں کو بھی قرضے دیئے جائیں

یوتھ کے ساتھ بزرگوں کو بھی قرضے دیئے جائیں
 یوتھ کے ساتھ بزرگوں کو بھی قرضے دیئے جائیں

  

کسانوں کو جو پیکیج ملا ہے وہ حیرت انگیز ہے اور اس کے پس منظر میں وزیراعظم محمد نوازشریف کی ٹیم کی شبانہ روز محبت رنگ لائی ہے اور پاکستان میں کتنی بڑی بدقسمتی ہے کہ غریب کسانوں کو جو پیکیج ملا ہے، اس پر حزبِاختلاف اگر خوش نہیں ہو سکتی تو کم از کم تنقید کرنے سے پہلے اس کی تفصیل تو پڑھ لیتی، لیکن ایسا کرنا کسی لیڈر کے بس کی بات اس لئے نہیں ہے کہ ان کے پاس فاسٹ فوڈ کھانے والے سپیچ رائٹرز ہیں۔

بہرکیف خوشی کی بات ہے کہ کسان پیکیج بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوا ہے اور اب پائپ لائن میں سے بہت کچھ باہر آنے والا ہے، جس کا تعلق عوام کی فلاح و بہود سے ہے۔ ماروی میمن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سربراہ ہیں اور انہوں نے جمعرات کو اپنی رپورٹ کی تقریبِ رونمائی بہت شان و شوکت سے کی۔ صدر پاکستان ممنون حسین تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سی خامیوں کے باوجود بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام لاکھوں خاندانوں کو غربت کی لکیر سے اوپر لانے میں کامیاب رہا ہے۔ اگر برصغیر پاک و ہند میں موازنہ کیا جائے تو ہندو مکاری یہاں بھی نظر آتی ہے کہ انہوں نے خط غربت کی لکیر کی خود ساختہ تعریف کرکے حقیقی خط غربت کو غائب کرکے دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ بھارتی حکومت نے راتوں رات ایسا جادو کر دیا ہے کہ بھارت میں ایک ہی دن میں لاکھوں نہیں کروڑوں افراد خطِ غربت سے اوپر آگئے ہیں، جبکہ پاکستان میں حقیقی معنوں میں غریبوں کو خطِ غربت سے اوپر لانے کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔ صدر ممنون حسین نے بہت اچھی اور موثر تقدیر کی اور بالکل صاف لفظوں میں بتایا کہ آئین کی شق 38 بی کے تحت یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے رہنے والوں کی بنیادی ضرورتیں فراہم کرے۔ اب یقیناًیہ مسلم لیگ (ن) کا کارنامہ ہے کہ پہلے اس کا بجٹ سولہ ارب تھا جو اب بڑھ کر 102 ارب ہو چکا ہے۔ امریکہ برطانیہ اور بہت سے دوسرے ترقی یافتہ ممالک نے اس منصوبے کی دل کھول کر تعریف کی ہے، بلکہ امریکہ وغیرہ نے تو اس منصوبے کو مزید وسیع کرنے کے لئے امداد بھی دی ہے۔

ماروی میمن کی بہت شدید خواہش ہے کہ وہ اس پروگرام کو مزید وسعت دیں، چنانچہ خوشی کی بات ہے کہ 32اضلاع تک اس کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے۔60لاکھ بچے سکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے میلنیم گولز میں سے ایک بڑا گول یہ بھی ہے کہ پاکستان سو فیصد خواندگی کا ہدف حاصل کرے۔ اگرچہ انہوں نے اس کے لئے 2015ء کی تاریخ دی تھی، لیکن پاکستان نے مزید وقت حاصل کرلیا ہے۔ اب اگر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو اس مقصد کے لئے بھی استعمال کیا جائے تو پورے پاکستان میں خواندگی کا ٹارگٹ حاصل کرنے میں صرف ایک سال لگے گا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایک محتاط سروے کے مطابق اس وقت پاکستان کے ناخواندہ بچوں کو پڑھانے کے لئے صرف اڑھائی لاکھ اساتذہ کی ضرورت ہے، یعنی موجودہ تعلیمی سسٹم سے باہر رہ کر اب یہ کام ماروی میمن آسانی سے انجام دینے کی پوزیشن میں ہیں۔ پھر دوسری طرف خواتین کو امپاورمنٹ دینے کے لئے انہیں چھوٹے چھوٹے کاروباروں کے لئے رقوم کی تقسیم بھی ضروری ہے، کیونکہ صرف پندرہ سو روپے سے خواتین کا مہینہ نہیں گزر سکتا۔ جہاں آٹا بارہ سو روپے کا چالیس کلو گرام ہو وہاں پندرہ سو روپے کی کیا حیثیت ہے، لیکن کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔

وزیراعظم محمد نوازشریف نے بھی شائد اس بات کو محسوس کیا اور خودروزگار سکیم کا اجلاس طلب کرکے بہت اچھی ہدایات دی ہیں۔ اس بات پر برہمی کا اظہار کیا ہے کہ نوجوانوں کو قرضے فراہم کرنے کا عمل سست کیوں کیا گیا ہے۔ سب سے خوشی کی بات یہ ہے کہ خود روزگار سکیم کے لئے شرح سود آٹھ فیصد سے کم کرکے چھ فیصد کر دی گئی ہے۔ اس کا اطلاق نئے قرضوں کے علاوہ پرانے قرضوں پر بھی یکم جولائی سے کیا جائے گا۔ وزیراعظم محمد نوازشریف کو چاہیے کہ خود روزگار سکیم کا صرف تیس فیصد حصہ ساڑھے پینسٹھ سال کے سینئر شہریوں کے لئے بھی مختص کیا جائے۔ پاکستان میں سینئر سٹیزنز کے لئے ایسی نوکریاں بہت کم ہیں جو ریٹائرمنٹ پر پنشن وغیرہ دیتی ہیں۔ ان سینئر شہریوں میں سے اکثریت کو اپنے تجربے کے مطابق کم معاوضوں پر نوکریاں ڈھونڈنی پڑتی ہیں، اگر وزیراعظم نوازشریف اس طرف توجہ دیں تو لاکھوں سینئر شہری ان کے بہت ممنوں ہوں گے جو ہاتھ پھیلانا نہیں چاہتے ، بلکہ اپنے تجربے کو بروئے کار لا کر محنت سے روزگار حاصل کرنا چاہتے ہیں، ایسے سینئر شہریوں کی واپسی سو فیصد ہوگی، کیونکہ انہوں نے اس شعبہ کے لئے قرضہ حاصل کرنا ہے، جس میں انہوں نے عمر کا ایک طویل حصہ خرچ کیا ہوگا۔

مزید : کالم