مانگا منڈی ، عید قریب آتے ہی ڈاکوؤں کی لوٹ مار پولیس ناکوں پر ’’عیدی مہم‘‘ شروع

مانگا منڈی ، عید قریب آتے ہی ڈاکوؤں کی لوٹ مار پولیس ناکوں پر ’’عیدی مہم‘‘ ...

مانگا منڈی (نمائندہ خصوصی)مانگا منڈی عید کے قریب آتے ہی تھانہ مانگامنڈی کے پولیس اہلکار ناکے لگا کر زبردستی راہ گیروں سے عید وصول کر رہے ہیں تفصیلات کے مطابق تھانہ مانگا منڈی کے انچارج میاں عطاء اللہ نے ڈکیتی ،چوری،راہزنی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر قابو پانے کے پولیس اہلکاروں کو اکٹھا کرکے ٹولیوں کی صورت میں ناکے لگوارکھے ہیں ۔ تھانہ مانگا منڈی کے اہلکار ملتان روڈ ہنڈا فیکٹری کے سامنے ملتان روڈ شامکی بھٹیاں کے قریب رائیونڈ روڈپر راکو فیکٹری کے قریب اور کماس روڈ پر ناکے لگا کر چیکنگ کرنے کے بہانے موٹر سائیکلوں سواروں ،ٹریکٹر ٹرالیوں والوں کو روک کر ایک سو روپے سے لیکر تین سو روپے تک وصول کر رہے ہیں۔عوام کی شکایت پر مقامی پریس کلب کے نمائندہ نے اہلکاروں سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ کاکام ہیں خبریں شائع کرنا آپ کریں ہمارا کا م عید وصول کرنا ہم کر رہے ہیں ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے ہم اپنے انچارج عطاء اللہ کے حکم پر کھڑے ہیں ان کے حکم پر کام کر رہے ہیں۔ مانگامنڈی کے شہریوں محمد اسلم،تنویر احمد،محمد اعظم،عبدالحمید نے بتایا کہ ناکے پر کھڑے اہلکار شہریوں سے بدتمیزی کرکے عید وصول کر رہے ہیں۔شہریوں اور راہ گیروں نے سی سی پی او لاہور ڈی آئی جی سے مطالبہ کیا ہے کہ زبردستی عید وصول کرنے والوں اور شہریوں کو تنگ کرنے والوں اہلکاروں کے خلاف فوری کاروائی کی جائے۔ ادھرمانگا منڈی چاہ تمولی گاؤں کوجانے والے راستہ پر پولیس کا ناکہ ختم ڈاکوؤں نے ناکہ لگا کر لوٹ مار شروع کر رکھی دوکانداروں سے ہزاروں روپے نقدی موبائل فون چھین کر فرار تفصیلات کے مطابق چاہ تمولی کے دوکاندار اکثر فجر کی نماز کے بعد مانگا منڈی شہر سے سبزی منڈی سودا سلف خریدنے کیلئے آتے ہیں نہر پل کے قریب آئے اسلحہ سے مسلح موٹرسا ئیکل سوار ڈاکو ؤں نے گن پوانٹ پر روک کرامانت علی گل سے 5ہزار روپے نقدی موبائل فون،ملک مہنگا ،محمد ارشد ،محمد شکیل ،ولی محمد،محمد شریف وغیرہ دوکانداروں کی جیبوں سے ہزاروں روپے نقدی اور ضروری کاغذات موبائل فون وغیرہ چھین کر فرار ہو گئے۔ دوکانداروں نے پولیس کے خلاف بڑھتی ہوئی ڈکیتی کی وارداتوں پرشدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ پولیس کی لاپرواہی کی وجہ سے ہو رہا ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

مزید : علاقائی