نندی پور سمیت کسی بھی منصوبے کی شفاقیت پر سمجھوتہ نہیں کرینگے: احسن اقبال

نندی پور سمیت کسی بھی منصوبے کی شفاقیت پر سمجھوتہ نہیں کرینگے: احسن اقبال

لاہور( نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت نندی پور سمیت کسی بھی منصوبے کی شفافیت پر سمجھوتہ نہیں کرے گی اسی لئے نندی پور منصوبہ پر بھی وزیراعظم انکوائری کا حکم دے چکے ہیں، نندی پور منصوبے پر شوروغل ہماری کامیابیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ وہ گزشتہ روز لاہور میں کریسنٹ ماڈل ہائر سیکنڈری سکول کی سالانہ تقریب تقسیم انعامات کے موقع پر خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کلاس ون سے کلاس دہم تک کے پوزیشن ہولڈرز طلبا ء وطالبات میں میڈلز ،سرٹیفکیٹس سمیت دیگرانعامات بھی تقسیم کئے۔اس دوران اول آنے والے طالب علم واصف علی عون کو گولڈ میڈل دیا گیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اب میچور ہو جانا چاہئے عوام ان کی منفی باتوں کو پسند نہیں کرتے انہیں اگر ہمارا مقابلہ کرنا ہے تو خیبر پختونخواہ میں منصوبے بنائیں اور کارکردگی کی بنیاد پر ہمارا مقابلہ کریں وہ اپنی منفی سیاست کے ذریعے دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے کچھ وقت درکار ہے لیکن یہ جنگ حتمی کامیابی تک جاری رہے گی، پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لئے دہشت گردی ہمسایہ ممالک سے منظم ہو کر آتے ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ پہلے دہشت گردی کے واقعات ہفتے میں دو بار ہوتے تھے لیکن اب ان میں نمایاں کمی آئی ہے اور دہشت گردی کے واقعات کا دورانیہ بہت بڑھ گیا ہے جو دہشت گردی کے خلاف ہماری کامیابی کی واضح دلیل ہے جبکہ چند برس قبل ریاست دہشت گردوں کے محاصرے میں تھی اب دہشت گرد ریاست کے محاصرے میں ہیں یہ شکست خوردہ عناصر ہیں جن کا جلد خاتمہ کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کراچی کی صورتحال پہلے سے بہت بہتر ہو چکی ہے،2015ء میں 2013ء والا بلوچستان نہیں ہے یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہمیں اتفاق ٗ اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرنا ہے اور اس اتفاق و اتحاد کو آگے بڑھانا ہے اس کے ذریعے ہی دہشت گردی کی جنگ کو جیت سکتے ہیں۔ واپڈا کی نجکاری سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم لائن لاسز میں کمی کیلئے کر رہے ہیں فی الحال ایک دو کمپنیوں کو پرائیویٹ کرنے کا منصوبہ ہے جن میں حکومت بھی سرمایہ کاری کرے گی، بہتر گورننس کے ذریعے ہی لائن لاسز میں کمی کی جا سکتی ہے۔

مزید : صفحہ آخر