فرزندان اسلام عزم محکم سے کام لے کر قبلہ اول کو آزاد کراسکتے ہیں، شیخ صالح بن حمید

فرزندان اسلام عزم محکم سے کام لے کر قبلہ اول کو آزاد کراسکتے ہیں، شیخ صالح بن ...

مکہ مکرمہ (محمد اکرم اسد / بیورو چیف) مسجد الحرام کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر صالح بن حمیدنے واضح کیا ہے کہ فرزندان اسلام عزم محکم سے کام لے کر قبلہ اول مسجد اقصیٰ کو آزاد کراسکتے ہیں، آزاد کرانا مشکل نہیں ہوگا۔ مسجد نبویؐ کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی نے خبردار کیا کہ مسجد اقصیٰ کو بڑا خطرہ لاحق ہے اور پوری دنیا خواب غفلت میں پڑی ہوئی ہے ، امام حرم نے ذوالحجہ کے پہلے جمعہ مبارک کے موقع پر لاکھوں فرزندان توحید کو ایمان افروز خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ صہیونی امت مسلمہ کو درپیش بحرانوں کا ناجائز فائدہ اٹھارہے ہیں وہ مسلم ممالک میں فرقہ وارانہ جھگڑوں، دہشتگردانہ کارروائیوں، خود کش حملوں، تفرقہ و انتشار کے معاملوں اور نفرت و کدورت کی بلا خیز ہواؤں سے پورا پورا فائدہ اٹھارہے ہیں۔ امام حرم نے توجہ دلائی کہ ایک طرف حرمین شریفین امن وامان اور سکون و اطمینان کے ماحول سے مالا مال ہیں۔ دنیا بھر سے اہل اسلام حرم شریف کا رخ کرکے فریضہ حج کی سعادت حاصل کرنے کیلئے پہنچ رہے ہیں۔ دوسری جانب حرمین شریفین کی پاسبان ریاست پڑوس ملک یمن میں اپنے بھائیوں کے لئے امید کی بحالی کی خاطر فیصلہ کن جنگ میں مصروف ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے سعودی عرب کو بہت سارے انتظامات اور بہت ساری احتیاطی تدابیر کرنی پڑ رہی ہیں، امام حرم نے مسجد اقصیٰ کے اسلامی تشخص کے خلاف اسرائیلی حکام کے اعلان جنگ اور وہاں نمازیوں پر حملوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی مقبوضہ فلسطین پر غاصبانہ قبضے کے تحت قبلہ اول کو اپنے مذموم عزائم کا ہدف بنارہے ہیں، امام حرم نے یہ بھی کہا کہ مسجد اقصیٰ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ مسلمانوں کی آنکھیں کھول رہا ہے۔ مسجد اقصیٰ وہ مقام ہے جس کے تقدس پر دنیا بھر کے مسلمان اپنی فرقہ وارانہ و ملکی و نظریاتی وابستگیوں کے باوجود پوری طرح متفاق ہیں۔امام صالح حمید نے زور دے کر کہا کہ مسلمانوں کو عموماً اور فلسطینیوں کو خصوصاً مسجد اقصیٰ کی خاطر اپنے اختلافات ترک کرنا ہوں گے۔دوسری طرف مسجد نبوی شریف کے امام ڈاکٹر علی الحذیفی نے توجہ دلائی کہ حج پر عازمین کی اذیت کے لئے آنا کسی طرح درست نہیں۔ ایسے مقاصد کی تکمیل کیلئے جنہیں اسلام نے مقرر نہ کیا ہو ارض مقدس میں آنا کسی طرح جائز نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حرم شریف میں حادثے سے جو لوگ جاں بحق ہوئے وہ نوشتہ تقدیر تھا۔

مزید : صفحہ آخر