عدالت کا عدت کی عام فہم مدت میں شادی سے متعلق ایسا منطقی فیصلہ کہ جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

عدالت کا عدت کی عام فہم مدت میں شادی سے متعلق ایسا منطقی فیصلہ کہ جان کر آپ ...
 عدالت کا عدت کی عام فہم مدت میں شادی سے متعلق ایسا منطقی فیصلہ کہ جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیاہے کہ عورت اور مرد کے درمیان بے ضابطہ شادی کے بندھن کو غیر اسلامی اور شریعت کے متصادم تصور نہ کیا جائے۔

ڈان نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں لڑکی کو طلاق کے بعد عدت مکمل ہونے سے قبل ہی اغواءکر کے شادی کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی جس دوران وکیل صفائی کا کہناتھا کہ لڑکی کو اغواءنہیں کیا گیا ،اس نے اپنی مرضی سے عدت پوری ہونے پر نکاح کیاہے۔

دونوں فریقین کا مو¿قف سننے اور دستیاب ریکارڈ کے بعد یہ بات جسٹس شاہد ندیم کے مشاہدے میں آئی کہ اسلام اور قرآن و سنت کے مطابق عدت کے ایام کے مکمل ہونے کے لئے خاتون کو 3 بار حیض ہونا ہی کافی ہے اور مطلقہ خاتون ہی اس حوالے سے بہتر جانتی ہے۔

جج نے قرآن کی سورہ بقرہ کی آیات نمبر 228 کو اس حوالے سے کافی قرار دیا۔

جج کا کہنا تھا کہ اسلامی قوانین کے مطابق خاتون کا عدت مکمل کرنے سے پہلے دوسری شادی کرنا بے ضابطگی ہے تاہم غیر قانونی نہیں۔

جسٹس نے پٹیشن کو خارج کرتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا کہ ’ایسی شادی جو کہ طلاق کے بعد حیض کے 3 مختلف مدت کے پورے ہونے پر کی جائے شریعت کے لحاظ سے درست ہے۔‘جسٹس شاہد ندیم نے خوشاب کی سیشن عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ جو شادی بے ضابطہ ہو اسے غیر قانونی شادی تصور نہ کیا جائے۔

مزید : لاہور