”شہید ہوجائوں تو میرے دونوں بیٹوں کو ضرور فوجی بنانا“ٹیکنیشن محمد افضل کی حملے کے وقت اپنے بھائی کو فون پر وصیت

”شہید ہوجائوں تو میرے دونوں بیٹوں کو ضرور فوجی بنانا“ٹیکنیشن محمد افضل کی ...
”شہید ہوجائوں تو میرے دونوں بیٹوں کو ضرور فوجی بنانا“ٹیکنیشن محمد افضل کی حملے کے وقت اپنے بھائی کو فون پر وصیت

  

پشاور (ویب ڈیسک) بڈھ بیر میں دہشت گردوں کے حملہ میں شہید ہونیوالے محمد افضل کا تعلق ضلع ملتان کے گاﺅں مبارک پور سے ہے۔ والد محمد نواز اور بھائی محمد اجمل کا پیشہ مزدوری ہے۔ شہید محمد افضل کے چار بچے ہیں۔ بیٹیاں، صبا افضل، اقصیٰ افضل، بیٹے جبران افضل اور احسان افضل ہیں۔ بھائی محمد اجمل نے کہا ہے کہ شہید محمد افضل نے جان کا نذرانہ دیکر اپنے وطن کا نام روشن کر دیا ہے۔ ہماری برادری میں پہلا شخص ہے جو ائیرفورس میں تھا۔ 2002ءمیں ائیرفورس میں شمولیت اختیار کی۔ شروع میں کراچی میں تھے، دعوتِ اسلامی سے تعلق تھا، محلے کی مسجد کے رکن بھی تھے۔ دین کے کاموں میں کافی دلچسپی لیتے تھے، نرم مزاج اور خوش اخلاق انسان تھے۔ محمد اجمل نے کہا کہ حملے کے دوران میری بھائی سے 8 بجے فون پر بات ہوئی۔وہ کہہ رہا تھا کہ دہشت گردوں نے حملہ کردیا ہے، میں اس وقت کیمپ میں ہوں، کوئی پتہ نہیں کیا ہو جائے میں شہید ہو جاﺅں یا بچ جاﺅں، میرے ساتھ وعدہ کرو کہ اگر شہید ہوجاﺅں تو میرے دونوں بیٹوں کو وردی پہناﺅ گے، انہیں ضرور فوجی بنانا، انکا اچھا مستقبل بنانا اور انکا خیال رکھنا۔ سب گھر والوں کا خیال رکھنا۔ یہ شہید کے آخری الفاظ تھے۔

مزید : پشاور