الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے سربراہوں، آئینی عہدیداروں کےالیکشن مہم میں حصہ لینے پر دوبارہ پابندی لگا دی، نیا نوٹیفکیشن جاری ، پی ٹی آئی کا ہائیکورٹ میں جانے کا اعلان

الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے سربراہوں، آئینی عہدیداروں کےالیکشن مہم میں ...
الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے سربراہوں، آئینی عہدیداروں کےالیکشن مہم میں حصہ لینے پر دوبارہ پابندی لگا دی، نیا نوٹیفکیشن جاری ، پی ٹی آئی کا ہائیکورٹ میں جانے کا اعلان

  

   لاہور   (سعید چودھری ) الیکشن کمیشن پاکستان نے حلقہ این اے 122 ،154 اور پی پی 147 کے ضمنی انتخابات کے ضابطہ اخلاق کا نیا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے  جس کے تحت ان حلقوں میں سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور آئینی عہدیداروں بشمول وزیراعظم، وزراء،وزیر اعلٰی اور مشیروں کو امیدواروں کی انتخابی مہم میں حصّہ لینے سے ایک مرتبہ پھر روک دیا گیا ہے.

پاکستان تحریک انصاف نے اس نئے نوٹیفکیشن کو ہائی  کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے. اس سے قبل الیکشن کمیشن نے 5 مئی کو ضمنی انتخابات کا ضابطہ اخلاق جاری کیا تھا جو لاہور ہائیکورٹ نے کالعدم کردیا تھا اور یہ معاملہ اب سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے. تحریک انصاف کے رہنما حامد خان نے روزنامہ پاکستان کو بتایا ہے کہ 5 مئی کے نوٹیفکیشن  میں حلقہ این اے 122، 154 اور پی پی 147 کا ذکر نہیں تھا اب ان حلقوں کے لئے نیا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے جو بدنیتی پر مبنی ہے. ہائیکورٹ پہلے بھی ایسی پابندیوں کو کالعدم کر چکی ہے. پی ٹی آئی نئے نوٹیفکیشن کو بھی ہائیکورٹ میں  چیلنج کرے گی.

مذکورہ عہدیداروں کےالیکشن مہم میں حصہ لینے پر پابندی کا مئی  میں جاری ہونے والا نوٹیفیکیشن این اے 108،پی پی 196 اور پی کے 56 کے حلقوں کا احاطہ کرتا تھا جسے لاہور ہائیکورٹ نے کالعدم کر دیا تھا اور اس فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہےجبکہ نیا نوٹیفکیشن این اے 122، این اے 154 ، پی پی 147 اور پی پی 16 کے ضمنی انتخابات سے متعلق ہے. ان نوٹیفکیشنز کے تحت مذکورہ عہدیداروں کے ساتھ ساتھ ارکان اسمبلی اور سینیٹرز بھی الیکشن مہم میں حصہ نہیں لے سکتے

مزید : لاہور