تحریر: ایم اے سلام پروگرام’ٹھنڈے چھاؤں‘ کی ریکارڈنگ اور ریڈیو کی افادیت

تحریر: ایم اے سلام پروگرام’ٹھنڈے چھاؤں‘ کی ریکارڈنگ اور ریڈیو کی افادیت
 تحریر: ایم اے سلام پروگرام’ٹھنڈے چھاؤں‘ کی ریکارڈنگ اور ریڈیو کی افادیت

  

پچھلے دنوں ریڈیو پاکستان لاہور سٹوڈیو میں پروگرام ’’ٹھنڈی چھاؤں‘‘ کی ریکارڈنگ ہوئی۔ اس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ ملازمین کو مدعو کیا گیا۔ پروگرام کی میزبان اور پروڈیوسر سعیدہ کرن کے زیر سایہ پروگرام ریکارڈ ہوا۔ ہم بھی وہاں موجود تھے۔ ہم نے دیکھا کہ ایک لڑکی بڑی تیز طرار کبھی ساؤنڈ سسٹم چیک کر رہی ہے کبھی مہمانوں کو ہدایت دے رہی ہے۔ اپنی خوبصورت آواز میں انہوں نے اس طرح پروگرام کا آغاز کیا، ’’میں ہوں سعیدہ کرن آپ کی میزبان پروگرام ٹھنڈی چھاؤں میں اپنے مہمانوں کے ساتھ حاضر ہوں۔‘‘ میڈم سعیدہ کرن نے اپنی فنی زندگی کا آغاز 2006ء میں ریڈیو پاکستان میں کمپیئرنگ سے کیا اور اس وقت FM93 کی میزبان اور پروڈیوسر ہیں۔ ان کے نشر ہونے والے پروگرام ہر چھوٹے بڑے لوگوں میں بہت مقبول رہے ہیں۔ خوبصورت آواز کی مالکن پاکستان ٹیلی ویژن کے کئی پروگراموں میں ڈبنگ کروا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات انجینئر نہیں ہوتے تو ساؤنڈ سسٹم میں خود ہی چلاتی ہوں سعیدہ کرن کا کہنا ہے کہ میری ترقی کے پیچھے دو لوگوں کا بہت ہاتھ ہے، ایک میڈم انیلہ بیگم سینئر پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اور دوسرے مصطفی کمال ہیں انہوں نے ہر قدم بھرپور تعاون کیا۔ مہمانوں کو مرحلہ وار مائک کے آگے اپنے خیالات کا اظہار کرنا تھا۔ سب سے پہلے صاحب مضمون کو بلایا گیا۔ انہوں نے عید قربان کے حوالے سے کہا کہ ایک تو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے قربانی کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں قربانی کا جذبہ اپنی زندگیوں میں بھی ڈھالنا ہو گا ہم میں کسی کو برداشت کرنے کی عادت نہیں ہے ۔ مثلاً اگر ہم گاڑی چلا رہے ہوں تو برداشت نہیں کرتے کہ کوئی دوسرا آگے نکل جائے۔ اگر ہم میں اتنی سمجھ ہو کہ شاید اس کو جلدی ہو اگر راستہ دے دیں تو ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے مقام پر مقررہ وقت پر پہنچ جائے یا پھر ہو سکتا ہے کہ وہ کسی کی جان بچانے کے لئے اپنی منزل پر جلدی پہنچنا چاہتا ہو۔ اس لئے ہمیں اپنے آپ کو دوسروں کا احساس کرتے ہوئے قربانی دینی ہی پڑے گی۔ دوسرے مقرر جناب توصیف خاور تھے ان کا تعلق بھی واپڈا ہی سے ہے، انہوں نے کہا کہ مسلمان ہر سال عید کا تہوار مناتے ہیں عید قربان پر ہم لوگ قربانی کرتے ہیں لیکن ہم ان لوگوں کو بھول جاتے ہیں جو زیادہ مستحق ہیں ہمیں ان کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہئے تاکہ اللہ کی خوشنودی حاصل ہو۔ صاحب استطاعت افراد کے لئے قربانی لازمی ہے۔ لیکن جو لوگ قربانی نہ کر سکتے ہوں انہیں چاہئے کہ وہ اپنی زندگیوں کو مکمل اسلام کے طریقے پر گذاریں اور کسی مسلمان کو دکھ نہ دیں یہ بھی آج کل کے دور میں بہت بڑی قربانی ہے۔ دیگر شرکاء میں انیس احمد، محمد احمد اور مقبول حسین جو کہ پاک افواج سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

یہاں میں ایک اور بات کا ذکر کرتا چلوں کہ ایسا سمجھاجا رہا ہے کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان کی نشریات ماند پڑتی جا رہی ہیں لیکن ایسا نہیں ۔ ریڈیو کی افادیت کو کسی طور پر بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔موجودہ دور میں الیکٹرانک میڈیا مکمل طور پر سیاست کا شکار ہو چکا ہے جو کہ نہ صرف ملک میں انتشار پیدا کر رہا ہے بلکہ بعض پروگرام ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہ فیملی کے ساتھ بیٹھ کردیکھے نہیں جا سکتے۔ اس کے برعکس ریڈیو کی نشریات میں ایسا نہیں ہے۔ ریڈیو پاکستان سے مذہبی اور معلوماتی پروگرام بھی نشر ہوتے ہیں ۔جب پاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہوا تو اس میں تقریباً سارے فنکار ریڈیو پاکستان ہی کے تھے جنہوں نے ٹی وی کو سنبھالا دیا ۔کوئی بھی قومی سطح کا تہوار ہو ریڈیو پاکستان بڑے اعلیٰ قسم کے معلوماتی پروگرام پیش کرتا ہے۔ شہری علاقوں میں تقریباً ہر گاڑی میں FMکی نشریات چلتی ہیں۔ لوگ بڑے شوق سے ریڈیو کو سنتے ہیں اگر شہری علاقوں سے ذرہ باہر چلے جائیں تو ریڈیو ہر گھر میں چلتا ہے۔ یہ ریڈیو پاکستان ہی تھا جس نے پاکستان کی آزادی کا اعلان کیا تھا۔65ء کی جنگ ہو یا 71ء کی جنگ جس طرح ریڈیو پاکستان نے قومی و جنگی ترانے نشر کئے میرا تو خیال ہے کہ جنگ کو جیتنے میں ریڈیو پاکستان کا بہت اہم کردار ہے۔

مزید :

کلچر -