نیویارک حملے میں پریشر ککر بم استعمال ہونے کا انکشاف

نیویارک حملے میں پریشر ککر بم استعمال ہونے کا انکشاف

  

نیو یارک (آن لائن) امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نیویارک میں ہونے والے دھماکے اور قریب سے ہی ملنے والے ایک اور آلے دونوں ہی میں لوہے کے ٹکڑوں بھرے پریشر ککر کا استعمال کیا گیا جبکہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی نے اس حملے میں ملوث ہونے کے شک میں پانچ افراد کو حراست میں لینے کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔ امریکی شہر نیویارک میں ہفتیکی رات ہونے والے دھماکے اور قریب سے ہی ملنے والے ایک اور آلے دونوں ہی میں لوہے کے ٹکڑوں بھرے پریشر ککر کا استعمال کیا گیا۔حکام کے مطابق یہ بم سنہ 2013 میں بوسٹن میراتھن کے موقعے پر کیے دھماکوں میں استعمال کیے گئے بموں سے مشابہت رکھتے ہیں۔شہر میں قانون نافذ کرنے والے اعلی حکام کے کا کہنا ہے کہ دونوں دھماکہ خیز آلات میں فلپ فونز اور کرسمس لائٹس کا استمعال کیا گیا تاکہ دھماکہ کیا جا سکے۔ دھماکے میں کم سے کم 29 افراد زخمی ہوئے تھے۔

امریکی ریاست نیویارک کے گورنر اینڈیو کومو کا کہنا ہے کہ نیویارک شہر میں ہونے والا دھماکہ دہشت گردی کی کارروائی تھا تاہم تاحال اس میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے، دھماکے سے واضح نقصان ہوا ہے اور ’ہم خوش قسمت ہیں کہ کوئی جان ضائع نہیں ہوئی اورشہر کے اہم مقامات پر ایک ہزار اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جس کسی نے بھی یہ بم رکھے ہیں، ہم انھیں ڈھونڈ لیں گے اور انھیں انصاف کے کٹہرے تک پہنچایا جائے گا۔‘اس سے قبل نیویارک کے میئر نے اسے ’دانستہ کارروائی‘ سے تعبیر کیا تھا۔نیویارک کے میئر بل دا بلیسیو کا کہنا تھا کہ ’نیو یارک کے علاقے چیلسی میں ہونے والا دھماکہ دانستہ کارروائی تھا۔‘ تاہم انھوں نے کہا ہے کہ اس کا یا پھر اس سے قبل پڑوسی نیو جرسی میں ہونے والے دھماکے کا کسی دہشت گرد گروپ سے کوئی تعلق نہیں۔‘ واضح رہے کہ نیوجرسی میں ہونے والا دھماکہ ایک فوجی خیر سگالی کے سلسلے میں منعقد کی گئی ایک ریس کے متعین راستے پر ہوا تھا۔

مزید :

عالمی منظر -