پاکستان کڈنی اینڈلیور انسٹیٹیوٹ، جگر اور گردے کی پیوندکاری کے لئے پہلا قدم

پاکستان کڈنی اینڈلیور انسٹیٹیوٹ، جگر اور گردے کی پیوندکاری کے لئے پہلا قدم

  

 اس میں شک نہیں کہ پاکستان عبدالستار ایدھی جیسے عظیم انسان سے محروم ہو چکا ہے جنھوں نے ساری زندگی خدمت خلق کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ پاکستان میں بہت سے افراد موجود ہیں جو انتہائی خاموشی کے ساتھ خلق خدا کی خدمت کو اپنا مشن بنائے ہوئے ہیں اور خدائے بزرگ و برتر ان کی رہنمائی کرتے ہوئے امکانات کے در وا کرتا جا رہاہے۔

ڈاکٹر سعید اختر پاکستانی معاشرے کا ایک ایسا ہی درخشندہ ستارہ ہیں جو خدمت خلق کا استعارہ بن چکے ہیں اور میڈیکل کے محاذ پر پاکستان میں وہ کارنامہ سرانجام دینے کے قریب ہیں جس کے لئے پاکستانی قوم آنے والی کئی دہائیوں تک ان کی احسان مند رہے گی۔ وہ پاکستان میں پہلا کڈنی اینڈ لیورانسٹیٹیوٹ قائم کرنے جا رہے ہیں تاکہ ارض پاک پر گردے اور جگر کے امراض میں مبتلا ہزار ہا پاکستانیوں کو علاج میسر آ سکے۔

ڈاکٹر سعید اختر خداخوفی سے بھرپور شخصیت ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹری کو پیسہ بنانے کی مشین کے طور پر استعمال نہیں کیا ۔اس کے برعکس وہ اپنا کل اثاثہ اٹھا کر خلق خدا کی خدمت کے لئے سرگرم ہو گئے ہیں۔ وہ امریکہ جیسے ملک کی پرآسائش زندگی کو خیر باد کہہ کر وطن واپس آئے اور انہوں نے مٹی کی محبت کے سارے قرض اتارنے کی ٹھان لی ہے۔ اسلام آباد کے ایک بڑے نجی ہسپتال الشفا ٹرسٹ میں گردے اور جگر کے مریضوں کے مفت علاج کی طرح ڈالتے ہوئے آج ڈاکٹر سعید اختر لاہور میں پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ کی بنیاد رکھ چکے ہیں اور اس بڑے ادارے کو اپنی مدد آپ کے تحت چلانے کا عزم رکھتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے ان کے پراجیکٹ کو حکومت پنجاب کی سرپرستی دے دی ہے لیکن اس کے باوجود ڈاکٹر سعید اختر اس ادارے کو سرکاری ادارہ بنانا چاہتے ہیں نہ نجی ، بلکہ خدمت خلق کے تحت اسے مستحق مریضوں کے علاج کے لئے مختص کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ مخیر حضرات اس نیک کام میں ان کا ہاتھ ضرور بٹائیں گے۔ وہ اپنے ادارے کو کل کی ہارورڈ یونیورسٹی بنانے کا منصوبہ رکھتے ہیں تاکہ پاکستا ن میں بھی شعبہ طب میں تحقیق کا کام شروع ہو سکے۔ ان کے ارادے بلند بھی ہیں اور نیک بھی ، یہی وجہ ہے کہ انہیں پاکستانی قوم کی سپورٹ حاصل ہے۔

قومی ڈائجسٹ نے ڈاکٹر سعید اختر کے ماضی ، حال اور مستقبل پر ایک نظر ڈالنے کی کوشش کی ہے تاکہ اپنے قارئین کو ایک اور خادمِ خلق سے متعارف کروایا جا سکے ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے بارے میں کیا بتاتے ہیں۔

سوال: آپ کی تعلیم کہاں سے ہے؟

جواب: میں نے کراچی سے ایم بی بی ایس کیا۔ جب میں نے کیا اس زمانے میں کراچی کے اندر دو میڈیکل کالجز تھے: ڈاؤ میڈیکل کالج اور سندھ میڈیکل کالج۔ میں نے 1983ء میں سندھ میڈیکل کالج سے گریجوایشن کی۔ جناح ہسپتال سندھ میڈیکل کالج کا حصہ تھا جس کا پاکستان کے پرانے اور معتبر ہسپتالوں میں شمار ہوتا ہے۔ میری ابتدائی ٹریننگ وہاں پر ہوئی اور الحمد للہ میں نے ڈاؤ اور سندھ میڈیکل کالجز کے 900 طلباء و طالبات میں سے پہلی پوزیشن حاصل کی۔

سوال: آپ کہاں پیدا ہوئے تھے ؟

جواب: میں خانیوال میں پیدا ہوا تھا۔ میرے والد صاحب کی کچھ زمینیں سندھ میں تھیں ، اس لئے وہاں چلے گئے۔ میرے بڑے بھائی ایئرفورس میں تھے اور کراچی میں تعینات تھے۔ چنانچہ میں بھی ان کے پاس کراچی چلا گیا اور وہیں پر میڈیکل کی تعلیم حاصل کی۔ جب میڈکل کرلیا تو جینیوا میں قائم آغا خان فاؤنڈیشن نے مجھے ایک انٹرنیشنل میرٹ سکالرشپ دیااور میں 1985میں امریکہ کی Yale یونیورسٹی میں ایم پی ایچ کرنے چلا گیا۔ اس یونیورسٹی میں قیام کے دوران میری سوچ کا دھارا تبدیل ہو گیا۔ امریکہ میں Harvardاور Yale یونیورسٹیوں کے مابین سخت مقابلے کی فضا ہوتی ہے۔ چنانچہ Yaleمیں قطعی طور پر پڑھائی لکھائی کا ماحول تھاجو میرے لئے ایک نئی دنیا تھی۔ مجھے سمجھ آئی کہ کس طرح ان یونیورسٹیوں نے تعلیم کے شعبے میں دنیا بھر میں نام کمایا ہے۔ دراصل انہوں نے آپس میں مسابقت اور مقابلے کی اس طرح کی فضا قائم کر رکھی تھی کہ وہاں وہی تعلیم جاری رکھ سکتا تھا جو کچھ کردکھانے کا عزم رکھتا ہو۔وگرنہ اگر وہ misfit ہوا تو خود بخود وہاں سے بوریا بستر لپیٹ لے گا۔ یونیورسٹی میں ہر جگہ پر سیمینار ہورہے ہوتے تھے، علمی بحثیں ہورہی ہوتی تھیں، راہداریوں میں بھی نئی فلموں پر بات کی بجائے مختلف ریسرچوں پر گفتگو ہوتی نظر آتی تھی۔ Yaleیونیورسٹی میں پوری دنیا سے طالبعلم جمع ہوئے ہوتے تھے ۔وہاں پر ایک علمی اور تحقیقی ماحول کا دھارا بہتا تھا ، کوئی بتا رہا ہوتا کہ وہ جاپان کوئی کانفرنس اٹینڈ کرنے جا رہا ہے تو کوئی بتا رہا ہوتا کہ وہ کون سی کانفرنس اٹینڈ کرکے واپس آیا ہے۔ اس سے وہاں ایک اعلیٰ معیار کا تعلیمی ماحول قائم ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی میں نوبل انعام یافتہ افراد بھی ملتے تھے۔ اس زمانے میں لگ بھگ چھ نوبل انعام یافتہ افراد سٹیشن تھے۔ ان کے لیکچر سننے کے لئے پورے ملک اور پوری دنیا سے لوگ آتے تھے اور یوں آپ ایک ایسی فضا میں سانس لے رہے ہوتے کہ آپ کے اندر کچھ کرنے کا جذبہ پیدا ہو نا فطرتی امر تھا۔ یہی نہیں یونیورسٹی بھی آپ کو سپورٹ کرتی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ہاں بھی ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے جوہمارا فتخار بن سکے۔

سوال: آپ1985ء میں Yaleیونیورسٹی میں تھے ، اب 2016ہے ۔ کیا اب بھی وہاں ایسی ہی صورت حال ہوگی؟

جواب: بالکل، بلکہ مزید بہتر ہوئی ہے۔ Harvard سکول کو چار سو سال ہو گئے ہیں۔ Yale تقریباً دو سو سال پرانا ادارہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے سسٹم بنائے ہیں۔ جب وزیر اعلیٰ پنجاب سے میری پہلی ملاقات ہوئی تو میں نے کہا کہ میں یہاں کوئی ہسپتال بنانے نہیں آیا بلکہ میں Harvardاور Yaleجیسا ادارہ بنانا چاہتا ہوں۔ میں نے مانا کہ میری زندگی میں نہیں ہوگا، اس کو بھی چار پانچ سو سال لگیں گے لیکن کہیں سے تو آغاز کرنا ہوگا۔ ہم بھی ایک سسٹم بنائیں گے اور اس میں بہتری کا سامان کریں گے۔ بلاشبہ ہم نے ہسپتال کی عمارت کو خوبصورت طریقے سے ڈئزائن کیا ہے جس کا مقصد یہاں پر اچھے لوگوں کو آنے کی ترغیب دینا ہے۔ مثال کے طور پر اگر مجھ سے کہا جاتا کہ میو ہسپتال ہی میں ریسرچ سنٹر بنالیں تو کبھی نہ بناتاکیونکہ جن خصوصیات اور صلاحیتوں والے افراد کو میں پاکستان لانا چاہتا ہوں ، ان کے لئے ایک اچھا، خوبصورت اور آرام دہ ماحول کی اشد ضرورت ہے۔ میں پاکستان کے ساتھ ساتھ امریکہ میں بھی پریکٹس کرتا ہوں اس لئے میں جانتا ہوں کہ اچھا ماحول کیا ہوتا ہے۔ میری زندگی کا نچوڑ ہے کہ کسی بھی شے کو شاندار بنانے کیلئے تین اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں سب سے پہلا نمبر انفراسٹرکچر کا ہے ۔ اگر انفراسٹرکچر بہترین ہوگا، گرین ہوگا، آپ کی فیسیلیٹی پر خوب پھول لگے ہوں گے، بطخیں تیر رہی ہوں گی ، جیسا کہ میڈیکل سائنس نے ثابت کیا ہے کہ enabling environmentآپ کی پرفارمنس کو ڈبل سے ٹرپل کردیتا ہے ۔ امریکہ وغیرہ میں انٹیرئیر ڈیزائننگ ایک بھرپور شعبہ ہے جس کے تحت ماحول کو بہترین بنایا جاتا ہے۔انفراسٹرکچر بہتر نہ ہوا تو آنے والے تیسرے دن بھاگ جائیں گے۔ امریکہ سے واپسی کے بعد میں نے پندرہ سال شفاء ہسپتال اسلام آباد میں کام کیا۔ اس دوران میں ہر سال امریکہ جا کر بھی کام کرتا ہوں۔ ان پندرہ سالوں میں ہم نے بہت سیکھا ہے۔ ہزاروں ڈاکٹر امریکہ سے آئے اور واپس چلے گئے ۔ کچھ کی بیویاں یہاں رہنے کو تیار نہ تھیں ، کچھ کے بچے ناراض تھے۔ کچھ کو ماحول پسند نہ آیا اور کچھ کو ہم نے وہ نہ دیا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ کسی بھی پروفیشنل کے لئے سب سے ضروری چیز enabling environment ہوتا ہے۔ کسی بھی ادارے کو چلانے کے لئے دوسری اہم چیز Human resource ہوتا ہے۔ آپ کو بہترین لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی بہت اچھے لوگ ہیں، یہاں بھی بڑے محنتی ، وژنری اور دھن کے پکے لوگ ہیں۔ ہم لوگوں کے انتخاب میں بے حد محتاط ہوں گے۔ ابھی تک امریکہ سے پچیس لوگوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ پاکستان واپس آکر ہمارے ساتھ کام کریں گے۔ امریکہ سے بہترین ڈاکٹر وں کو پاکستان واپس لے آنا ہی میری کامیابی ہوگی۔ بہترین سے مراد یہ ہے کہ اسے قابل ہونا چاہئے، تجربہ کار ہونا چاہئے اور جن کے دماغ میں ایک کیڑا ہو۔ ہر آدمی کے دماغ میں کیڑا نہیں ہوتا۔ میرے لئے ایسے لوگ بیکار ہیں جن کو کام کے ساتھ پاگل پن کی حد تک محبت نہ ہو۔ ان میں ایک جذبہ اور امنگ ہونی چاہئے کہ انہوں نے جو سیکھا ہے اسے لوگوں کی بھلائی کے لئے استعمال میں لا سکیں۔ مجھے ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں کہ وہ ملین ڈالرز کمارہے ہیں لیکن صرف اپنے لئے کما رہے ہیں۔ ہم ان لوگوں کو لائیں گے جن کے دل میں انسانیت سے ہمدردی کا جذبہ ہو۔ ایسے لوگ بہت ہیں۔ جب آپ ملک کے اندرہوتے ہیں تو آپ اور طرح سے سوچ رہے ہوتے ہیں۔ جب آپ باہر چلے جاتے ہیں تو ایک مرحلہ آتا ہے جب آپ کا جذبہ حب الوطنی سر اٹھاتا ہے اور وطن کی محبت آپ کو تنگ کرتی ہے۔ تیسری اہم چیز ہوتی ہے سسٹم۔۔۔ پاکستان میں بدقسمتی سے بہت کم ادارے ہیں جہاں سسٹمز بنے ہوئے ہیں۔ ایک مثال ہے شوکت خانم کینسر ہسپتال کی جہاں سسٹم بنے ہوئے ہیں۔ آغا خان ہسپتال دوسرا ایسا ادارہ ہے جہاں سسٹم ہے۔ شفا انٹرنیشنل تیسرا ایساادارہ ہے جہاں سسٹم ہے۔ آغا خان کی ساری انتظامیہ شروع میں امریکیوں کی تھی ، شفا اور شوکت خانم میں امریکہ سے تربیت لے کر آنے والوں نے یقینی بنایا کہ جو سہولت امریکہ میں دی جاتی ہے وہی پاکستان میں دی جائے گی۔ انہوں نے سب سے پہلے سسٹم بنایا۔ دوسری جانب حکومتی سرپرستی میں چلنے والے اداروں میں سارا سسٹم فرد واحد کے گرد گھومتا ہے۔ادارے کا سربراہ اچھا آگیاتو ادارہ سنور گیا ۔ آج میں جناح ہسپتال میں ہو کر آیا ہوں ، وہاں بہت اچھا کام ہو رہا ہے لیکن حکومتی اداروں میں Islands of Excellence بنے ہوئے ہیں۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ مغرب کی کامیابی کا راز کیا ہے تو میرا جواب ہوگا کہ مغرب میں سسٹم ہے۔

سوال:Yaleسے تعلیم مکمل کرنے کے بعد کیا کیا؟

جواب:Yaleسے میں ماسٹرز ان پبلک ہیلتھ کیا۔ اس کے بعد نیویارک میں چھ سال سرجیکل ٹریننگ کی۔ وہیں ٹرانسپلانٹ کی ٹریننگ بھی لی۔ اس کے نتیجے میں میں ڈپلومیٹ آف امریکن نیورولوجی اور فیلو آٖف امریکن کالج آف سرجنز بن گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکن ٹرانسپلانٹ سوسائٹی کا رکن بھی بن گیا۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ میں نے Pakistan Kidney and Liver Institute (PKLI)کا منصوبہ ایک رات میں نہیں بنایا بلکہ جس دن میں نے امریکہ میں لینڈ کیا اسی دن سے سوچنا شروع کردیا کہ اگر اللہ نے موقع دیا تو پاکستان جا کر پاکستانیوں کی خدمت کروں گا۔ چنانچہ میں نے امریکہ میں جس جگہ بھی نوکری کی یا جیسے میں نے سرجیکل ٹریننگ کے دوران تین ماہ کا ایک کورس ہارورڈ سے بھی کیااور یوں اس کا سسٹم سمجھنے کی کوشش کی۔ بالآخر میں نے امریکہ کے شہر ٹیکسز میں سکونت اختیار کرلی۔اس سے قبل میں درجنوں جگہ گیا ہوں گا جہاں میں نے سمجھنے کی کوشش کی ان لوگوں کی اچھائی کیا ہے، برائی کیا ہے۔ یوں میں نے اپنے وژن کو سنوارنا شروع کیااور منصوبہ بندی کرتا رہا کہ کس طرح میں پاکستان واپس جا کر اپنے ملک کی خدمت کر سکتا ہوں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ صرف میری سوچ نہیں ہے۔ ہم پاکستان میں بستے ہیں جبکہ باہر رہنے والوں کے دل میں پاکستان بستا ہے۔ وہ ہمیشہ سوچتے رہتے ہیں کہ کس طرح سے پاکستان کی خدمت کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے وہ گہری سوچ بچار کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ میں کوئی استثناء نہیں ہوں بلکہ میرے ساتھ امریکہ میں رہنے والے تمام پاکستانی ایسے ہی سوچتے ہیں اور میں ان سب کو واپس لے کر آؤں گا، انشاء اللہ! یہ ٹھیک ہے کہ سب نہیں آئیں گے لیکن اس لئے نہیں کہ وہ آنا نہیں چاہتے بلکہ ان کی کچھ مجبوریاں بن جاتی ہیں۔ کسی نے گوری سے شادی کرلی تو وہ بیوی نہیں آئے گی، کسی کے بچے بڑے ہو گئے لیکن اس کے باوجود اس کے اندر پاکستانیت کا جذبہ بہرحال موجزن رہتا ہے۔

سوال: ٹیکسز جا کر کیا کیا؟

جواب: وہاں میں ٹیکسز ٹیک یونیورسٹی کو بطور اسسٹنٹ پروفیسر جوائن کرلیا۔ وہاں اکثر یونیورسٹیاں Techیونیورسٹیاں کہلاتی ہیں۔ ان میں صرف ٹیکنیکل کام نہیں بلکہ ڈاکٹری بھی ہوتی ہے ، لاء بھی پڑھایا جاتا ہے جیسے ہمارے ہاں ایم آئی ٹی ہے۔ اس یونیورسٹی میں سب سے جونیئر تھالیکن جوائننگ کے چار سال کے اندر اندریونیورسٹی کے Dean نے مجھے بلایا اور چیئرمین آف ڈیپارٹمنٹ کے عہدے کی پیشکش کی۔مجھ سے پہلے ہمارا ڈیپارٹمنٹ مالی اعتبار سے خسارے میں تھا۔ میں نے ایم پی ایچ کے دوران میڈیسن پڑھنے کے ساتھ ساتھ ہاسپٹل ڈیزائننگ، پلاننگ اور مینجمنٹ کو پڑھا تھا۔ امریکہ کی یہ ایک اور خوبصورتی ہے کہ وہاں ڈیپارٹمنٹ کا چیئرمین بننے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ آپ معمر ترین شخص ہوں۔میں نے کچھ وقت غور کرنے کے لئے مانگا اور ڈیٹا کی سٹڈی کے لئے وقت مانگا۔ ایک ہفتے کے بعد میں نے رضامندی دے دی اور شرائط کے ساتھ عہدہ قبول کرلیا اور الحمدللہ چھ ماہ کے اندر اندر ہمارا ڈیپارٹمنٹ تمام قرضے ادا کرکے منافع میں آگیا۔

سوال: آپ کس عمر میں چیئرمین بنے؟

جواب: میں36برس کی عمر میں اپنے ڈیپارٹمنٹ کا چیئرمین بنااور میرے نیچے دو پروفیسرز، دو ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور ایک اسسٹنٹ پروفیسر کام کر رہے تھے۔ اس وقت میں خود اسسٹنٹ پروفیسر تھا ، پھر انہوں نے مجھے ایسوسی ایٹ پروفیسر بنا دیا۔ یہ اللہ کا احسان ہے۔یہ امریکہ کی خوبصورتی ہے کہ اگر آپ اپنی صلاحیتوں کو منوالیں تو آپ کو سراہا جاتا ہے ، اگرچہ ایک حد تک وہاں بھی تعصبات ہیں۔

سوال: اور اس وقت تک وہاں ٹرمپ بھی نہیں آیا ہوگا؟

جواب: جی، ٹرمپ بھی نہیں تھا اور 9/11 بھی نہیں ہوا تھا۔ میں نوے کی دہائی کی بات کر رہاہوں۔ہر آدمی کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں کہ اس کی سوچ تبدیل ہو جاتی ہے ۔ وہ لمحات اس آدمی کی زندگی کو defineکرتے ہیں اور یہ لمحات ہر آدمی کی زندگی میں آتے ہیں۔ کسی کی زندگی میں جلدی آجاتے ہیں اور کسی کی زندگی میں دیر سے آتے ہیں۔ ٹیکساس جانے سے پہلے تک میں کچھ زیادہ مذہبی نہ تھا۔ بہت زیادہ تیر مارا تو جمعے کی نماز پڑھ لیتا تھا۔ ٹیکساس قیام کے دوران مجھے قرآن مجید پڑھنے اور سننے کا موقع ملا۔ میں نے اسلام کو سمجھنا شروع کردیا۔ قرآن کو نہ سمجھنا ہمارے ملک کا بہت بڑا المیہ ہے ۔ وہ کتاب اتنی پاورفل ہے کہ جس دل میں اترجائے ،اسے تبدیل کردیتی ہے۔ جن دنوں میں قرآن سمجھ رہا تھا تو ایک دلچسپ واقعہ ہوا۔ ہمارے شہر سے پچاس میل دور امریکی ایئرفورس کی بیس تھی جس کا نام کینن ایئرفورس بیس تھا۔ وہاں کام کرنے والے جمعے کے روز نماز کی ادائیگی کے لئے ہماری مسجد میں آتے تھے۔ 1992میں بش سنیئر کے زمانے میں جب گلف وار ہوئی تو اچانک کینن ایئرفورس بیس سے بہت سے لوگ گلف میں ڈپیوٹ ہوئے ہوں گے۔ تعیناتی کے دوران امریکی سپاہیوں کی بڑی تعداد میں مسلمان ہوئی۔ اس سے قبل ہماری مسجد میں اکا دکا گورے یا کالے نظر آتے تھے، اچانک چالیس پچاس انگریز نمازیوں نے آنا شروع کردیا۔ ان سے ملاقات میں مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ان کے مقابلے میں میرے اندر کوئی بہت بڑی کجی ہے۔ میں نے تجزیہ شروع کیا تو پتا چلا کہ میں اپنے باپ کی وجہ سے مسلمان پیدا ہوا تھا جبکہ انہوں نے اسلام کو سمجھ کر قبول کیا ۔ اس لئے اسلام کی جانب ان کے اور میرے رجحان میں فرق تھا۔ وہ بات کے سچے ، قول کے پکے، مہربان اور رحمدل تھے۔ ان میں صحابہ کرام کی خوبیاں تھیں۔ میرے اندر تبدیلی کا عمل شروع ہوگیا۔ میرے دل میں احساس پیدا ہونے لگا کہ قرآن کی بنیادی روح یہ ہے کہ زندگی بہت مختصر ہے اور قرآن نے اس بات کو واضح کرنے پر بہت زور دیا ہے۔ قرآن مثال دیتا ہے کہ یہ ایسے ہی ہے کہ پانی برسا، زمین پر پھوار پڑی، کھیتی ہوگئی ، کسان کو بھلی لگی، پھر وہ زرد ہوکر چورہ ہوگئی اور ہوائیں اس کو اڑا کر لے گئیں۔ قرآن نے اس مثال کو بہت دفعہ بیان کیا ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ اس زندگی کا ایک ہی مقصد ہے کہ آنے والی زندگی کی تیاری کرو جو دارالاصل ہے۔ اسلام بہت خوبصورت مذہب ہے ۔ لوگ اسے غربت اور پریشانی سے ملاتے ہیں جو درست نہیں۔ آپ امیر ترین ہو سکتے ہیں اور بہترین مسلمان بھی ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ ان انگریز فوجیوں کو دیکھ کر اور قرآن کو پڑھ کر سمجھ آیا کہ یہ زندگی ہمارے تصور سے کہیں زیادہ مختصر ہے ، بالآخر ہمیں واپس جانا ہے ۔ تو کیا ہم اس کے لئے تیار ہیں؟ اللہ نے سو چیزوں کو حلا ل کرکے ایک کو حرام کیا۔ ہم پھر بھی حرام کی طرف بھاگتے ہیں۔ اللہ بڑا fairہے ۔ وہ ہم سے چاہتا ہے کہ ہم اس کی اطاعت کریں اور جو وہ کہتا ہے وہ کریں ، جس سے منع کریں منع ہو جائیں۔ غلطی ہو جائے تو توبہ کرلیں۔ اللہ توبہ کرنے اور واپس آنے کو اتنا پسند کرتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال دی کہ اس کی مثال اس بدو کی ہے جو صحرا میں جائے اور آرام کے لئے سو جائے تو اس کا اونٹ بھاگ جائے۔ اس کی آنکھ کھلتی ہے اور اونٹ کو ڈھونڈتا ہے لیکن کہیں نہیں ملتا۔ بالآخر وہ امید چھوڑ دیتا ہے اور ادھ موا ہو کر گر جاتا ہے، جاگتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اونٹ دوبارہ سے اس کے پاس کھڑا ہے تو جتنی خوشی اس بدو کو ہوتی ہے اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے اور واپس آنیوالے کو پسند کرتا ہے۔ اللہ نے ہمیں بھلے برے کی تمیز دے دی، ایک لائن کھینچ دی اور اگر اس کو کراس کرلو تو توبہ کرلو، پھر کرلو۔ چنانچہ جب آپ کی لائف میں turning pointآتا ہے تو آپ اپنا جائزہ لینا شروع کردیتے ہیں کہ آپ کیاکر سکتے ہیں ، آپ کس قدر ذہین ہیں، پھر آپ اپنے ماسٹر کی طرف رجوع کرتے ہیں، سوچتے ہیں کہ آپ اس دنیا میں کیوں آئے ، آنے کا مقصد کیا تھا، آپ کتنا عرصہ یہاں رہیں گے اور آخرت کی کیا کمائی ہو سکتی ہے ، بد عقیدہ لوگ کہتے ہیں کہ بس یہی دنیا ہی سب کچھ ہے ، جو عیاشی کرنی ہے کرلو،جبکہ اہل ایمان اس کو درست نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ ہر بات کا بدلہ دے گا۔اس زندگی کے مقابلے میں آگے کی زندگی کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔ اس زندگی کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے آپ لاہور سے کراچی جا رہے ہوں اور راستے میں کسی ریستوران پر کھانے کے لئے رکے ہوں۔ اگلی زندگی ابد ہے ، موجودہ فانی ہے۔ دونوں میں کوئی مقابلہ نہیں ہوسکتا۔ کسی کو معلوم ہی نہیں ہے اگلی زندگی کیا ہے ، ہمارے اختیار میں بس اس زندگی کے لئے تیاری ہے۔ چنانچہ انہی خیالات کے تابع میں نے اپنی زندگی کو بامعنی بنانے کا تہیہ کیااور پاکستان واپس آکر لوگوں کی خدمت کی ٹھانی۔ اللہ کی مخلوق کی خدمت میرے لئے عبادت ہے۔ اللہ کو خوش کرنے کا بہترین طریقہ اس کی مخلوق کی خدمت ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے یہ بات ثابت ہوتی ہے۔

سوال: تو وہاں سے آپ نے طے کرلیا کہ آپ وطن واپس آئیں گے؟

جواب: جی، میں نے یہ طے کرلیا کہ میں پاکستان جاؤں گا اور باقی کی زندگی اللہ کی مخلوق کی خدمت میں گزاروں گا۔

سوال: خدمت تو امریکہ میں بیٹھ کر بھی ہو سکتی تھی۔ اس کے لئے پاکستان آنے کی کیا ضرورت تھی؟

جواب: ہو سکتی ہے لیکن اگر آپ جسمانی طور پر یہاں موجود نہ ہوں تو زمینی حقائق کو نہیں سمجھ سکتے۔ مثال کے طورپر کوئی مجھے کہے کہ خانیوال جا کر ہسپتال بنالو تو میں ایسا نہیں کروں گا۔

سوال: آپ پاکستان کب واپس آئے؟

جواب: میں 2000ء میں پاکستان واپس آیا۔

سوال: یعنی 90کی دہائی کے آغاز میں آپ کے اندر تبدیلی کا عمل شروع ہوا اور 2000کے آغاز میں آ پ نے فیصلہ کرلیا۔ یقینی طور پر یہ ایک مشکل فیصلہ ہوگا؟

جواب: جی، بہت مشکل فیصلہ تھا۔ ہر آدمی مجھے منع کرتا تھا۔ کہتے تھے، پاکستان جا کر کیا کرو گے۔ اس زمانے میں کراچی میں ڈاکٹروں کی بہت killing ہوئی۔ سب نے کہا کہ پاگل ہو کہ کراچی جاؤ گے۔ اس دوران بھی بہت زیادہ لوگ پاکستان پلٹنے کے بعد بھی امریکہ واپس چلے گئے تھے۔ میں ان سے پوچھتا کہ تھا کہ ایسا کیوں کیا تو کوئی جواب دیتا کہ بیوی خوش نہیں تھی تو کوئی کہتا کہ بچے ایڈجسٹ نہیں ہو سکے۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ پاکستان واپس آنا ہے تو بیوی بچوں کو ایک اچھا ماحول دینا ہوگاتاکہ وہ کوئی گلہ نہ کریں۔ آج میری بیوی بھی کہتی ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں سب سے اچھا فیصلہ پاکستان واپسی کا کیا ہے۔

سوال: جب امریکہ چھوڑا تو اس وقت تو وہاں آپ کی بہت اچھی پریکٹس ہوگی؟

جواب: بہت اچھی پریکٹس تھی ، بہت پیسہ تھا۔ یوینورسٹی والے مجھے بہت اچھا pay کرتے تھے۔ یہاں میں سر توڑ کوشش بھی کروں تو اس کمائی کا ایک بٹہ دس بھی نہیں کما سکتا۔ اس کے باوجود میں نے واپسی کا فیصلہ کیا۔آنے سے قبل میں نے چھ ماہ کی Mini Fellowshipکی جو بچوں کے کڈنی ٹرانسپلانٹ سے متعلق تھی۔ اس کے علاوہ ایک لبلبے کے ٹرانسپلانٹ کی فیلو شپ کی کیونکہ شوگر یہاں بہت زیاد ہ ہے۔

سوال: پاکستان آکر کہاں سے آغاز کیا؟

جواب: میں نے شفا ہاسپیٹل اسلام آباد سے آغاز کیا کیونکہ اسے امریکہ پلٹ ڈاکٹرز نے بنایا ہوا ہے۔ اس کے سسٹم امریکی سسٹم سے بہت ملتے جلتے ہیں۔میں شفا جوائن کر سکتا تھا یا پھر آغا خان ہسپتال کراچی کو جوائن کرسکتا تھا۔لیکن کراچی کے حالات بڑے خراب تھے اس لئے شفا میں آگیا۔ یہاں سب سے پہلی چیز جس نے مجھے پریشان کیاوہ یہ تھی کہ یہ ہسپتال صرف امیر لوگوں کے لئے تھا۔میر ادل کڑھتا تھا کہ میں صرف امیر لوگوں کا علاج کرنے کے لئے تو نہیں آیا ہوں۔ چنانچہ میں نے ہسپتال میں کہہ دیا کہ میرے لئے کوئی بھی مریض آئے اسے واپس نہیں بھیجنا۔ آہستہ آہستہ یہ بات عام ہوئی تو بہت سے لوگ مجھے دکھانے کے لئے آنے لگے جن سے میں ایک پیسہ بھی نہیں لیتاتھا۔ میں شفا میں بیٹھ کر یہ کر رہا تھا اور ان کا سسٹم خراب کرنے کے بجائے اس میں برکت ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ انہیں بھی اس پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی فیس ہے ، چاہے معاف کردیں، یہ آپ کا حق ہے۔ چونکہ میری پریکٹس بہت اچھی تھی اس لئے دیکھتے ہی دیکھتے بہت زیادہ انکم بھی ہوئی اور میں بہت زیادہ مصروف ہو گیا۔شفا کے بنانے والے ڈاکٹر ظہیر صاحب بھی خدا خوفی کے حامل شخص تھے، وہ میرے جذبے کو سمجھتے تھے ۔ان کی 2013میں وفات ہوئی تھی۔میں میڈیکل کا ڈاکٹر نہیں ہوں بلکہ ایک سرجن ہوں تو لا محالہ جن کامیں چیک اپ کرتا تھا ان کو سرجری کی ضرورت بھی پڑتی تھی۔ اس میں شک نہیں کہ بیماری اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا امتحان ہوتا ہے۔ آپ چاہے کروڑ پتی بھی ہوں لیکن آپ کا بچہ بیمار ہو جائے تو آپ رات کو سو نہیں سکتے۔لیکن بیماری کے ساتھ ساتھ غربت بھی ہو تو زندگی وبال جان بن جاتی ہے۔ میں نے ان ماؤں کو بھی دیکھا ہے جو غربت کی وجہ سے بچوں کے علاج کے لئے بھیک مانگتی پھرتی ہیں۔ بعض مائیں اس لئے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے اچھی جگہ سے علاج نہیں کروا سکتیں اور بیماری بگڑ جاتی ہے۔ اس صورت حال کو دیکھ کر میرا ضمیر بہت ملامت کرتا تھا، میں اپنے آپ کو بہت بوجھ محسوس کرتا تھا۔دو تین سال میں ہی میں اکتا گیا اور واپسی کا سوچنے لگا لیکن پھر میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ بھاگنا نہیں ہے، اللہ تعالیٰ راستہ ضرور نکالے گا ۔میں ڈاکٹر ظہیر کے پاس گیا اور کہا کہ مجھے ہسپتال میں چار بیڈ دے دیں جن کی cost priceمیں ہسپتال کو دے دیا کروں گا ۔ یوں 2004میں میں نے پاکستان کڈنی انسٹیٹیوٹ کی بنیاد شفا ہسپتال میں رکھی۔اس کا مقصد یہ تھا کہ جو سہولت ایک امیر کو ملتی ہے وہی سہولت ایک غریب کے لئے بھی ہو۔ آج اللہ کے فضل سے ایک لاکھ مریضوں کاکڈنی ٹرانسپلانٹ کرلیا ہے۔ بیڈ آج بھی چار ہی ہیں لیکن وہ غریب مریضوں کیلئے مختص ہیں اور اس کا علاج بھی اسی آئی سی یو میں ہوتا ہے جس میں کسی امیر ترین شخص کا ہوتا ہے۔ہسپتال میں سختی سے ہدایات دی ہوئی ہیں کہ ان مریضوں کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں برتا جائے گا۔اس حوالے سے میں بہت سختی کرتا ہوں۔ آج 2016میں ایک لاکھ سے زائد مریضوں کو دیکھ چکے ہیں۔ کم سے کم خرچے کو کیلکولیٹ کرکے ہسپتال کو پیسے دیئے۔ تین کیٹیگریزبنائیں اور ہر ایک کی استطاعت کے مطابق خرچہ لیا۔ کڈنی ٹرانسپلانٹ کا خرچہ 12لاکھ ہے، میں پانچ لاکھ میں کرتا ہوں۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ ایک بھی پیسہ نہیں دے سکتا ، تو نہیں لیتے۔ کوئی دس ہزار دے سکتا ہے تو لے لیتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ cost priceدے سکتا ہے۔ ہم اس کو پاکستان کڈنی اینڈ لور انسٹیٹیوٹ میں بھی اپلائی کریں گے۔

سوال: آپ کی اور بھارتی اداکار عامر خان کی فلم پی کے کی کہانی بہت ملتی جلتی ہے ۔ آپ اسے ضرور دیکھیں۔

جواب: بہتر، لیکن میرے پاس فلم دیکھنے کا وقت ہی نہیں ہے۔ میری سارا وقت پی کے آئی سے پی کے ایل آئی بنانے میں صرف ہو رہا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ میری زندگی کا یہی حصہ شاندار ہے ۔ اس کے پیچھے میرا تیس سال کا وژن کام کر رہا ہے۔ جب یہ سب کچھ ہوا تو مجھ پر پریشر بہت زیادہ بڑھ گیا۔ ہم نے کبھی اپنے آپ کو مشتہر کیا نہ کسی سے پیسے مانگے۔ ہر سال امریکہ جاتا تھا اور وہاں مقیم پاکستانی ڈاکٹروں سے چھ سے سات لاکھ ڈالر کے عطیات لاتا تھا جس سے مستحق مریضوں کا علاج چلتا تھا۔ میں ایک پائلٹ بھی ہوں جس پر امریکہ میں ایک شہر سے دوسرے شہر جا کر عطیات اکٹھا کرتا ہوں۔ وہاں پر میرا اپنا طیارہ ہے جس کو میں فنڈ ریزنگ کے لئے استعمال کرتا ہوں۔ ان میں بھی پاکستانیوں کی مدد کرنے کا جذبہ بے بہا ہے اگرچہ وہ مجھے پاگل کہتے تھے کہ اتنی مشکل زندگی کیوں گزار رہا ہوں۔ لیکن ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو کہتی ہے کہ کاش ہم بھی ایسا کر سکیں۔وہ میرے سپورٹر ہیں، چونکہ ہر کوئی پاکستان نہیں آسکتا اس لئے وہ اس causeکوسپورٹ کرتے ہیں۔ چندے کی رقوم قانونی طورپر اکٹھی کی جاتی ہیں ، ان کا باقاعدہ آڈٹ ہوتا ہے۔ ایک باقاعدہ آرگنائزیشن اس پر کام کرتی ہے جو رجسٹرڈ ہے۔

سوال: پھر شفا ہسپتال میں پاکستان کڈنی انسٹیٹیوٹ سے لاہور میں پنجاب حکومت کے تعاون سے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ بنانے کا سفر کیسے شروع ہوا؟

جواب: یہ کچھ ایسے ہوا کہ ایک دفعہ ایک لڑکا میرے پاس آیاجسے سرجری کی ضرورت تھی۔ وہ چلا گیا، یہ 2002کی بات ہے ، 2004میں دوبارہ میرے پاس آیا۔ اس کا کینسر پوری طرح پھیل چکا تھا۔ میں نے پوچھا کہ تم کہاں چلے گئے تھے۔ اس نے کہا کہ میرے پاس کوئی پیسہ نہ تھا۔ اس دن مجھے احساس ہو ا کہ میں فیل ہو گیا ہوں۔ وہیں سے میں نے چار بیڈ لئے اور خدمت خلق شروع کی۔ 2012ء میں دوبارہ سے ایڈمنسٹریشن کے پاس گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کارپوریٹ باڈی کے طورپر رجسٹرڈ ہیں اور اس لئے اور بیڈ نہیں دے سکتے۔ میں نے ان کی سپورٹ کا شکریہ ادا کیا اور سوچنا شروع کیا کہ مجھے دوستوں سے بات کرنی چاہئے۔ اسی دوران دوبئی جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک بہت بڑے بزنس مین سے ملاقات ہوئی۔ وہ وہاں منسٹر وغیرہ بھی رہا ہے ۔ اس نے پوچھا: کوئی حکومت کی سپورٹ بھی ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ چودہ پندرہ ارب کا ہسپتال حکومت کی سپورٹ کے بغیر ممکن نہیں ۔ کم از کم اگر تمھاری حکومت زمین دے دے تو باہر سے فنڈ مل سکتے ہیں۔ میں واپس آیا اور صدر پاکستان کے سیکرٹری سلمان فاروقی سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ میں زرداری صاحب سے ملاقات کروادیتاہوں۔ ملاقات ہوئی ، انہوں نے مدد کا وعدہ کیا لیکن کچھ خاص پیش رفت نہ ہوئی۔ اسی دوران میں حرم شریف گیا۔ وہاں ایک دوست سے با ت ہورہی تھی ، انہوں نے کہا کہ یہاں ایک بزرگ بیٹھے ہوئے ہیں ، آپ ان سے بات کریں، وہ آپ کی رہنمائی کریں گے۔ میں ان کے پاس گیا اور اپنے مقصد سے آگاہ کیا۔انہوں نے ایک حدیث پڑھی جو میرے دل میں اتر گئی۔ انہوں نے کہا کہ الخلق عیال اللہ۔ یعنی لوگ اللہ کا کنبہ ہیں۔ پھر کہنے لگے کہ ڈاکٹر صاحب یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ اللہ کے کنبے کی دیکھ بھال کی کوشش کریں اور اللہ آپ کی مدد نہ کرے۔ اس دن کے بعد میرا دل جم چکا ہے کہ اللہ میری مدد ضرور کرے گا۔

میری شہباز شریف سے ملاقا ت ہوگئی کیونکہ میں ہر ممکن ایونیو کو ڈھونڈ رہا تھا۔ جب میں نے ان سے بات کی تو ایک دم چونکے ۔ میں نے کہا کہ میں کل کی ہارورڈ یونیورسٹی بنانا چاہتا ہوں۔ میں نے انہیں ایک بھرپور پریذنٹیشن دی۔ اس میں ایک بات واضح تھی کہ اس میں کوئی کام اللہ کے احکام کے منافی نہیں ہوگا اور دوسرا یہ کہ ہم مکمل طور پر خود مختا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کو لاہور میں بنائیں اور اس میں لیور سروسز بھی ایڈ کریں۔ ہمارے ذہن میں تھا کہ اسلام آباد میں بنائیں گے ، انہوں نے لاہور میں جگہ دی ۔ اگرچہ اسلام آباد میں ہمارے ایک دوست نے دو سو کینال کا عطیہ بھی دیا تھا لیکن وہ جگہ ایسی تھی کہ ہسپتال کے لئے مناسب نہ تھی۔ شہباز شریف نے بیدیاں روڈ پر ڈیفنس فیز سیون کے ساتھ پچاس ایکڑ زمین دے دی اور سٹرکچر بنانے لے لئے چودہ سے سولہ ارب روپے کے اخراجات اٹھانے اور تین سال تک ہسپتال کو چلانے کی ذمہ داری لی اور اس کے بعد اخراجات کا پچیس فیصد برداشت کرنے کا وعدہ کیا۔ باقی ہم چندے سے اکٹھے کریں گے۔ جب ہم پوری طرح آپریشنل ہوں گے تو ہمارے سالانہ چھ ارب روپے کے اخراجات ہوں گے جن میں سے ڈیڑھ ارب روپے حکومت ادا کرے گی اور باقی ساڑھے چار ارب روپے سالانہ ہم خود چندے کی صورت اکٹھے کیا کریں گے۔ جب میں نے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ ہم سب کا علاج مفت کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ صاحب استطاعت لوگ اس آفر کا استحصال کریں گے۔میرا اب بھی خیال ہے کہ ہمیں مریضوں کا فی سبیل اللہ علاج کرنا چاہئے اور علاج کرنے کے بعد جب مریض جانے لگے تو اس کو بل دکھادیا جائے ، وہ جتنا چاہے ادا کردے۔ مجھے اللہ پر بھروسہ ہے کہ ہم ایسا ضرور کرلیں گے۔ میں نے پندرہ سال میں دیکھا کہ پاکستانی بہت مخیر ہیں، ہم صرف خرابی کی بات کرتے ہیں اور اچھائی کو نہیں دیکھتے۔ وہ صرف یہ یقین چاہتے ہیں کہ کام ٹھیک ہو رہا ہے۔

سوال: کیا چیف منسٹر نے رقوم مختص کردی ہیں؟

جواب: جی، ہم نے قاعدے کی کارروائی مکمل کی اور پنجاب حکومت نے فنڈز جاری کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ ہمارے ٹرسٹ میں کچھ ڈاکٹرز ہیں ، زیادہ تو وہ ہیں جو پی کے آئی میں ہمارے ساتھی تھے۔ پھر کچھ بزنس مین ہیں جو شفا میں بھی ہماری مدد کرتے تھے۔ میاں ادریس بھی ہمارے ساتھی ہیں۔ شیخ اقبال بھی ہیں، زیڈ کے برادرز کے حاجی ظاہر خان ہیں، ان سب کے دل میں پاکستان کی خدمت کا جذبہ ہے ۔ کچھ اوورسیز بھی ہمارے ممبر ہیں۔ ہم اس پراجیکٹ کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا جذبہ دیدنی ہے ۔ جب پریذنٹیشن دی تو ان کے اردگر د کے رفیقوں نے شکوک کا اظہار کیا لیکن وزیر اعلیٰ نے عزم صمیم کا ارادہ کیا۔ انہیں اس پر بھی کوئی اعتراض نہ تھا کہ اس پراجیکٹ کو سیاسی رنگ نہیں دیا جائے گا۔ یہ بات ساری اپریل 2014ء میں ہوئی۔ اس کے بعد میں مہینے کے لئے امریکہ چلا گیا۔ جب واپس آیا تو عمران خان کا دھرنا شروع ہوگیا۔ جب نومبر میں میں نے وزیر اعلیٰ کو کال کی تو انہوں نے پوچھا کہ آپ اب بھی سنجیدہ ہیں؟ میں نے کہا بالکل تو کام شروع ہوگیا۔ ہم نے سنگاپور سے ڈیزائن کروالیا ہے ، زمین میں بنیادیں ڈال دی ہیں ، آج کل ہم کنٹریکٹرز کے ساتھ چیزیں فائنل کر رہے ہیں۔ میں نے سی ایم سے درخواست کی کہ ہسپتال میں تین چیزیں اہم ہیں ، ایک انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ، ہیومن پاور اور سسٹم۔ میں نے سی ایم سے کہا کہ ڈیزائن کروادیا ہے اس کو بنوانا میرے بس میں نہیں ہے۔ انہوں نے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی آپ پنجاب کے حوالے کردیا۔ پیپرا رولز کے تحت کام کیا جارہا ہے اس لئے تعمیر میں تاخیر کا تاثر ہے۔ ٹینڈر کی کلوزنگ ہونے والی ہے جس کے بعد سپر سٹرکچر کی تعمیر شروع ہو جائے گی۔ یہ گورنمنٹ کا پراجیکٹ نہیں بلکہ ہمارے ٹرسٹ کا ہے اور حکومت اسے سپانسر کر رہی ہے۔ وہ اس پراجیکٹ کو فنڈ کررہی ہے اور اس کے لئے ہمیں زمین دی ہے۔ وہیں پر ہم ایک ہوٹل اور ایک شاپنگ مال بنارہے ہیں۔ میں نے چیف فنانشل آفیسر کے طور پر ہارورڈ کا ایک لڑکا ہائر کیا ہے۔ اس نے ہسپتال کے اخراجات پورے کرنے کے لئے بہت سے پلان بنائے ہیں۔

سوال: اس حوالے سے عمران خان سے رابطہ نہیں ہوا۔

جواب: عمران خان سے میری بڑی دوستی ہے لیکن اس موضوع پر کبھی بات نہیں ہوئی۔ ہمارے ہاں ہر بات سیاسی ہو جاتی ہے اس لئے احتیاط کر رہا ہوں۔ جب ہسپتال بن جائے گا تو جا کر بات کروں گا۔ ابھی سے ہمارے خلاف ایک کمپین شروع کر دی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ضرورت ہی نہیں ہے۔ حالانکہ جگر کے امراض کا شکار ہو کر لوگ یا تو مرجاتے ہیں یا پھر انہیں بھارت اور چین جانا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود ایک لابی حرکت میں آ گئی ہے اور ہمیں خطرہ سمجھ رہی ہے۔ ہم نے کبھی ان کی تنقید کا جواب نہیں دیا اور نہ دیں گے۔ ہمارا کام لوگوں تک سچ پہنچانا ہے ۔ پچھلے ایک سال میں ہم نے بہت محنت کی ہے ، نتیجہ یہ نکلا ہے کہ راستے کھلتے گئے ہیں۔ ہم مئی سے شروع کرکے ستمبر تک سپر سٹرکچر بنالیں گے اور 14اگست 2017ء کو اس کا باقاعدہ افتتاح ہوگا، انشاء اللہ!

سوال: پاکستان میں گردوں کی بیماری کی صورت حال کیا ہے؟

جواب: بہت الارمنگ ہے ، پاکستان میں ایک کروڑ کی آبادی ہیپاٹائٹس سی کی بیماری کی شکار ہے۔ تقریباً اڑھائی فیصد آبادی ہیپاٹائٹس بی کا شکار ہے۔ دونوں ہی جگر کے ناکارہ ہونے اور کینسر کا باعث ہوتے ہیں۔ ہمارا فوکس اس پر ہوگا ۔ اس کے ساتھ شوگر، ہائی بلڈ پریشر، کڈنی اور لیور کے فیلئر کا سدباب بھی کیا جائے گا۔ ان کے حوالے سے تعلیم بھی دی جائے گی۔

سوال: ہیپاٹائٹس اے منہ کے ذریعے پھیلتا ہے۔ بی اور سی خون کے ذریعے پھیلتا ہے ، وہ کھانے سے نہیں ہوتا۔ اے خود ہی ٹھیک ہوجاتا ہے ، بی اور سی نقصان دہ ہوتا ہے۔ شیو کے کٹ سے ، دانتوں کے زخم سے اور دیگر ایسے ذریعے سے پھیلتا ہے۔ ڈسپوزایبل سرنجیں استعمال نہ کرنے سے بھی پھیلتا ہے۔ حکومت کی کمزوری یہ ہے کہ کوئی پالیسی پروسیجر نہیں ہے۔ امریکہ میں سرنج استعمال کرکے کاٹ دی جاتی ہے ، ہمارے ہاں کوڑے میں جاتی ہے جہاں سے ابال کر ایک نئے کاغذ میں لپیٹ کر مارکیٹ میں پہنچادی جاتی ہے ۔ یہ ہماری تباہی ہے اورحکومت کی رٹ کمزور ہے ۔ پاکستان میں 12 لاکھ لوگوں کو لیور ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہے۔ ہماری ذمہ داری بہت بڑی ہے اور قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ میرے مرنے کے بعد میرے جیسے لوگ اس مشن کو چلائیں گے۔ میں سسٹم بنانا چاہتا ہوں ، پھر بندے اہم نہیں ہوں گے اور سسٹم خود بخود کام کرے گا۔ ہیپاٹائٹس سی کے لئے کبھی امریکہ سے دوا امپورٹ کرنا پڑتی تھی لیکن اب پاکستان میں فیروز سنز کو پیٹنٹ رائٹس مل گئے ہیں ، امکان ہے کہ اب یہ دوا پاکستان میں آسانی سے دستیاب ہوگی۔ اس سے پہلے انٹرفرون کے انجکشن سے رسپانس ریٹ بیس سے تیس فیصد تھا، اس کے علاوہ انتہائی نقاہت محسوس ہوتی تھی۔ یہ دوا 2016کی پنسلین کے مترادف ہے۔ جس طرح اس وقت پنسلین ایک بڑی دریافت تھی کیونکہ لوگ نمونیا سے مرجاتے تھے، اسی طرح یہ ایک بڑی دریافت ہے۔ اس دوا کا نام سوالڈی ہے۔ اسی طرح ہمارے ملک میں ذیابیطس بہت عام ہے۔ لوگ پروا ہی نہیں کرتے۔ میں چونکہ کڈنی کا سپیشلسٹ ہوں، میرے پاس ایسے لوگ آتے ہیں جنھوں نے اپنی شوگر کی جانب دھیان نہیں دیا ہوتا۔ میں سولا لاکھ ٹرانسپلانٹ تو نہیں کر سکوں گااس لئے ہمارے ادارے کا ایک بڑا مقصد لوگوں کو ایجوکیٹ کرنا ہوگا۔ ڈائیلاسس کے مقابلے میں کڈنی ٹرانسپلانٹ سے 98فیصد زندگی کے بچنے کے چانسز ہو جاتے ہیں ۔ ڈائیلاسس ہفتے میں چار مرتبہ کرنا پڑتا ہے ، مناسب سہولتیں بھی نہیں ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کڈنی کی خرید و فروخت کا مرکز بن چکا ہے ۔ ہم نے اس کے خلاف جہاد کرکے ایک قانون بنادیا ہے جس پر عملدرآمد ابھی باقی ہے۔ کڈنی کی میچنگ اب ایک بڑا مسئلہ نہیں رہا ہے کیونکہ بہت سی دوائیاں آگئی ہیں جو اس مسئلے کا حل بتاتی ہیں۔ جگر میں بھی میچنگ کی ضرورت ہوتی ہے ۔

(بشکریہ: قومی ڈائجسٹ)

مزید :

ایڈیشن 1 -