نیشنل ایکشن پلان کے تحت حکومت پنجاب کے مثبت اقدامات

نیشنل ایکشن پلان کے تحت حکومت پنجاب کے مثبت اقدامات
نیشنل ایکشن پلان کے تحت حکومت پنجاب کے مثبت اقدامات

  

اس وقت پاکستان کو جن سنگین ترین مسائل کا سامنا ہے ان میں دہشت گردی سرفہرست ہے۔ وفاقی سطح پر نیشنل انٹرنل سیکیورٹی پالیسی کی تشکیل کے بعد، حکومت پنجاب نے حکومتی عمل داری کو قائم کرنے اور عوام الناس کو اندرونی خطرات سے بچانے کے لئے جامع پالیسی تشکیل دی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہتری اور ان کے استعداد کار میں مزید اضافے کے لئے اقدامات کئے ہیں۔ 16 دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک سکول پر حملے نے صوبائی حکومت کی طرف سے دہشت گردی اور جارحیت کو جڑ سے ختم کرنے کے ارادے کو مزید مضبوط کیا ہے۔حکومت پنجاب نیشنل ایکشن پلان کو پوری طرح لاگو کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی کی وجہ سے بہت اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔ حکومت پنجاب دہشت گردی کے اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں استعمال کر رہی ہے۔وطن عزیز کو درپیش دہشت گردی کے خطرے سے موثر طریقے سے نبردآزما ہونے کیلئے ایک ایسی فورس کا قیام انتہائی اہمیت کا حامل تھا جو انٹیلی جنس معلومات کے حصول، خصوصی آپریشنز اور انویسٹی گیشن کے ذریعے ملک سے دہشت گردی کا قلع قمع کر سکیں، لہذا پنجاب کو پاکستان کی تاریخ کی پہلی کاؤنٹر ٹیررازم فورس بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔ ایک ہزار پانچ سو کارپورلز پر مشتمل اس فورس میں بھرتی کیلئے میرٹ اور اہلیت کے کڑے اصولوں کو پیش نظر رکھا گیا ہے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے انسداد دہشت گردی فورس کے منصوبے کو چیلنج سمجھ کر قبول کیا اور انتہائی قلیل مدت میں انسداد دہشت گردی کے پہلے بیج کی پاسنگ آؤٹ کو ممکن بنایا۔

کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کی تنظیم نو کے بعد ایک اہم ادارے کے طور پر کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہ ادارہ دہشت گردی کی تمام اقسام بشمول فرقہ واریت اور شدت پسندی کے خاتمے کے لئے کام کر رہا ہے۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے اس نئے ادارے کو ہر طرح کے وسائل فراہم کئے اور قومی ضرورت کے اس منصوبے کو وزیراعظم محمد نوازشریف کی ہدایات کے مطابق ذاتی دلچسپی لے کر پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ میں 1179 کا رپورلز بھرتی کرکے کاؤنٹرٹیررازم فورس قائم کی گئی۔ ان کارپورلز کو دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے خصوصی تربیت فراہم کی گئی۔ برادر ملک ترکی نے ان کارپورلز کی انٹیلی جنس، آپریشنز اور انویسٹی گیشن کے حوالے سے خصوصی تربیت کے لئے بھرپور تعاون کیا اور ترک نیشنل پولیس کے 45سینئر افسران بھجوائے۔نیشنل ایکشن پلان کے تحت وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پر حکومت پنجاب کی طرف سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اٹھائے گئے فوری اقدامات کے نتیجے میں 5ستمبر 2016ء تک موثر اقدامات کرتے ہوئے 97ہزار 608 مقدمات درج کئے گئے ،جبکہ نفرت انگیز تقاریر، وال چاکنگ، اسلحہ کی نمائش اور دیگر قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر ایک لاکھ 5ہزار 131 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ کرایہ داری ایکٹ، وال چاکنگ (ترمیمی ایکٹ) 2015ء، اسلحہ ایکٹ (ترمیمی ایکٹ)2015ء پنجاب ساؤنڈ سسٹم ایکٹ 2015، پبلک آرڈر ایکٹ 2015ء کی ترمیم شدہ بحالی قوانین نافذ عمل کئے جا چکے ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

پنجاب ساؤنڈ سسٹم ریگولیشن آرڈیننس کے تحت 10691مقدمات درج کئے گئے جس کے نتیجے میں 11399ملزمان کو گرفتار کرکے 9768چالان عدالت میں پیش کئے گئے۔4007مقدمات کے فیصلے ہو چکے ہیں اور 3448مجرموں کو جرمانے اور قید کی سزا دی گئی ہے۔نفرت انگیزمواد کی نشر و اشاعت اور ابلاغ کے ایکٹ میں ترمیم کے بعد صوبے بھر میں کارروائی کے دوران 981 مقدمات درج اور 1191 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔ عدالتوں میں 790 چالان پیش کئے گئے۔ 511 مقدمات کے فیصلے ہو چکے ہیں، جبکہ 157 افراد کو جرمانے اور قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔پنجاب مینٹی ننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کی خلاف ورزی پر صوبے بھر میں 204مقدمات درج کرکے 367افراد کو گرفتار کیا گیا۔ 144افراد کے خلاف کورٹ میں چالان پیش کئے گئے۔ 20مقدمات کے فیصلے کے بعد 17افراد کو جرمانے اور قید کی سزا سنائی گئی۔ پنجاب انفارمیشن آف ٹمپریری ریذیڈنس آرڈیننس 2015ء کی خلاف ورزی پر صوبے بھر میں 14804 مقدمات درج کرکے 21959 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں 7510 مالکان، 10392 کرائے دار، 96پراپرٹی ڈیلر اور 3961 منیجر وغیرہ شامل ہیں۔ 11595 چالان عدالتوں میں پیش کئے گئے۔ 4041 مقدمات کے فیصلے کے بعد 3669 افراد کو جرمانے اور قید کی سزا سنائی گئی۔انسداد وال چاکنگ ترمیمی آرڈیننس 2015ء کے تحت 1941 مقدمات درج کرکے 1905 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ 1797 ملزمان کے چالان عدالت میں پیش کر دیئے گئے، جبکہ 673 مقدمات کے فیصلے بھی ہو چکے ہیں۔ 500 ملزموں کو جرمانے اور قید کی سزا دی جا چکی ہے۔

پنجاب آرمز آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے پر 60691 مقدمات درج کئے گئے، جبکہ 60674 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔53953 چالان عدالت میں داخل کئے گئے۔4245 مقدمات کے فیصلے سنا دیئے گئے۔3676 افراد کوجرم ثابت ہونے پر قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ فرقہ وارانہ نفرت انگیز تحریری مواد چھاپنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 189کتابیں اور 1500سی ڈیز 570 میگزین اور 3900پمفلٹ ضبط کر لئے گئے ہیں، جبکہ متحدہ علماء بورڈ کی سفارش پر نفرت انگیز مواد پر مبنی 210کتابیں اور CDs پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں اور دہشت گردی میں مالی امداد لینے یا دینے یا سہولت کار بننے پر بھی سختی سے نظر رکھی جا رہی ہے۔41پولیس افسروں کو اینٹی منی لانڈرنگ لاء کے بارے میں مخصوص تربیت دی گئی ہے اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت93مقدمات درج کئے گئے اور 123 افراد کو حراست میں لیا گیا اور 25افراد کو سزا سنائی گئی۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت نام بدل کر کام کرنے والی 8تنظیموں کی کڑی نگرانی کے لئے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں۔دہشت گردی کے خاتمے کے لئے انسداد دہشت گردی فورس میں 4000 افسران تعینات کئے گئے، جن میں 56فیصد انٹیلی جنس،20فیصد آپریشنز اور 24فیصد کا تعلق تحقیقاتی ونگ سے ہے۔

پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مشترکہ آپریشن روزانہ کی بنیاد پر کئے جا رہے ہیں۔ ان آپریشنوں کی وجہ سے جرائم میں واضح کمی ہوئی ہے۔ جنوری 2016ء تا اگست 2016ء میں قتل کے مقدمات میں 7فیصد کمی، اغواء برائے تاوان کے مقدمات میں 66فیصد کمی، ڈکیتی کے مقدمات میں35فیصد کمی، رابری کے مقدمات میں 19فیصدکمی سال 2015ء کے مقابلے میں ہوئی ہے۔ مورخہ 26-1-2015 سے اسلحہ لائسنسوں کو نادرا کے ذریعے کمپیوٹرائزڈ کرنے کا عمل شروع کیا گیا اور پرانے اسلحہ لائسنسوں کو نئے سمارٹ کارڈ سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اب تک 625000اسلحہ لائسنسوں کو کمپیوٹرائز کیا جا چکا ہے۔دہشت گردی میں استعمال ہونے والے 70 سے زائد ویب لنکس بلاک کئے جاچکے ہیں اور پی ٹی اے کے زیر اہتمام نگرانی کے ذریعے نفرت انگیر مواد کی سوشل میڈیاکے ذریعے نشرو اشاعت کی کڑی مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پرروزانہ عوام کی آگاہی کے لئے اشتہاری مہم بھی جاری ہے اوردہشت گردی کے خلاف عوامی شعور و آگاہی کے لئے محکمہ تعلقات عامہ کے زیر اہتمام 300سے زائد خصوصی مضامین ،فیچر اور کلر ایڈیشنز کی اشاعت کااہتمام کیاگیا۔05ستمبر 2016 تک ایک لاکھ 43ہزار افغان مہاجرین کی بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے تصدیق کی جاچکی ہے۔ 13782 مدارس 62678مساجد اور 2925اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی جیو ٹیکنگ مکمل کی جاچکی ہے ۔

اتحاد تنظیمات المدارس (ITM) کی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے مخصوص فارم پر باہمی رضامندی کے لئے اتفاق رائے ہوچکاہے ۔کل 8286این ۔جی اوز میں سے 4200کی جیو ٹیکنگ کی جاچکی ہے ۔ 3427 این ۔جی اوز کی ڈی رجسٹرڈ کردیاگیاہے ۔ 125 این ۔جی اوز کاسپیشل آڈٹ کروایا گیاہے ۔40این ۔جی اوز کی نظرثانی آڈٹ رپورٹ تیارکی گئی ہے ،جبکہ 4این۔جی اوز کے خلاف محکمہ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے کارروائی کی ہے ۔ہومی سائیڈ تفتیشی یونٹ کاقیام ،478سب انسپکٹرز کی بطورتفتیشی آفیسر بھرتی و ٹریننگ اورتقرری ،صوبائی سپیشل برانچ ،پولیس سکول آف انفارمیشن اور ایلیٹ پولیس کی بہتری ،ایلیٹ پولیس ٹریننگ سکول کی استعداد میں اضافہ سپیشل پروٹیکشن یونٹ کاقیام ،ڈولفن فورس کاقیام ،کرائم میپنگ میں جدید ٹیکنالوجی کااستعمال ،سیف سٹی اتھارٹی کاقیام۔ نیشنل ایکشن پلان کو موثر بنانے کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب باقاعدگی سے اپیکس کمیٹی کی میٹنگ میں لااینڈ آرڈر کی صورت حال کاجائز ہ لیتے ہیں۔اب تک اپیکس کمیٹی کی 8میٹنگیں ہوچکی ہیں۔ امن وامان قائم رکھنے کے لئے موثر اقدامات کی وجہ سے محرم الحرام اور دیگرتہوار بخیروعافیت اختتام پذیر ہوئے ۔

اضطرار کی ایسی کیفیت میں اللہ نے ان لوگوں کے لئے حرام چیز استعمال کرنے کو مشروط طور پر استثنا دیا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ کا ارشاد گرامی ہے: ’’اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے کہ مُردار نہ کھاؤ، خون سے اور سور کے گوشت سے پرہیز کرو، اور کوئی ایسی چیز نہ کھاؤ، جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ ہاں جو شخص مجبوری کی حالت میں ہو اور وہ ان میں سے کوئی چیز کھالے بغیر اس کے وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو یا ضرورت کی حد سے تجاوز کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘(سورۃ البقرہ173:2) ۔ ’’تم پر حرام کیا گیا مُردار، خون، سور کا گوشت، وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، وہ جو گلا گُھٹ کر، یا چوٹ کھا کر، یا بلندی سے گر کر، یا ٹکر کھا کر مرا ہو، یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو۔۔۔ سوائے اس کے جسے تم نے زندہ پا کرذبح کرلیا۔۔۔ اور جو کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ہو۔۔۔البتہ جو شخص بھوک سے مجبور ہو کر ان میں سے کوئی چیز کھا لے، بغیر اس کے کہ گناہ کی طرف اس کا میلان ہو تو بے شک اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘(سورۃ المائدہ 3:5)

’’اسلامی بینک فاؤنڈیشن‘‘ کے تحت پورے ملک میں ہسپتالوں کا ایک جال پھیلا دیا گیا ہے۔ ان میں غرباء کا علاج مفت کیاجاتا ہے، جس پر بینک زکوۃ اور عطیات کا پیسہ صرف کرتا ہے۔ جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں، ان سے معمولی فیس وصول کی جاتی ہے اور بہترین علاج معالجے کی سہولتیں ان کو حاصل ہیں۔ اسلامی بینک کے علاوہ ایک فلاحی ادارے’’ ابن سینا ٹرسٹ‘‘ کے بانی بھی میر قاسم علی شہید تھے۔ اسلامی بینک کی طرح اس ٹرسٹ میں بھی انہوں نے ملک و قوم کی جو خدمت کی ہے، اس کا ایک زمانہ معترف ہے۔ بنگلہ دیش بن جانے کے بعد وہاں کے مزدور اور ہنر مند، نیم خواندہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں نے مشرق وسطیٰ بالخصوص سعودی عرب میں ملازمتوں کے سلسلے میں جانا شروع کیا۔ حکومت سعودی عرب کی طرف سے ایسے افراد کے لئے لازمی شرط عائد ہوئی کہ ہر شخص کے پاس کسی ثقہ ہیلتھ ادارے کا سرٹیفکیٹ ہو جس میں تصدیق کی گئی ہو کہ متعلقہ شخص کو کوئی مہلک بیماری لاحق نہیں ہے۔

عام سرکاری ہسپتال ہزاروں ٹکا فیس اور اس سے بھی زیادہ رشوت لے کر ایسے سرٹیفکیٹ جاری کیا کرتے تھے۔ ابن سینا ٹرسٹ کے تحت ہیلتھ چیک اپ سنٹر اور بہترین ٹیسٹ لیبارٹری قائم کی گئی۔ مزدوروں کو سرٹیفکیٹ صرف تین سو ٹکا میں ملنے لگا۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگ اس سنٹر کی طرف رجوع کرنے لگے کہ روزانہ سنٹر کی آمدنی لاکھوں ٹکے میں ہوگئی۔ بہترین ٹیسٹ لیبارٹری کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ پورے بنگلہ دیش میں یہ مقبول ہوگئی۔ پروفیسر غلام اعظم صاحب کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر غلام معظم جو معروف میڈیکل ڈاکٹر تھے اور بنگلہ دیش کے سب سے بہترین پیتھالوجسٹ شمار ہوتے تھے، اس سنٹر اور لیبارٹری میں اس شعبے کے سربراہ کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔ ابن سینا میڈیکل کالج بھی بنگلہ دیش کے اعلیٰ ترین کالجوں میں شمار ہوتا ہے۔

تعلیم سے فراغت کے بعد میر قاسم علی نے اپنا ذاتی کاروبار کیری لمیٹڈ (Kary Limited) کے نام سے شروع کر دیا تھا۔ یہ کاروبار رئیل اسٹیٹ سے تعلق رکھتا ہے اور بہت کامیاب ہے۔ اس میں شفافیت اور لوگوں کے اعتماد پر پورا اترنے کی وجہ سے پورے بنگلہ دیش میں اس کا نام معروف ہے۔ میر قاسم علی نے ایگرو انڈسٹریل ٹرسٹ بھی قائم کیا، جس کا صدر مقام غازی پور میں تھا۔ پولٹری اور فشریز کے فیلڈ میں اس ٹرسٹ کا بڑا حصہ ہے۔ بنگلہ دیش میں بے شمار لوگوں کی معیشت مرغیوں اور مچھلیوں سے وابستہ ہے۔ اس ادارے نے لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے وسیع پیمانے پر کام کیا۔ ان کا دوسرا کاروبار رائل شپنگ لائن کے نام سے بحری جہازوں کے فیلڈ میں تھا۔ یہ بھی اگرچہ کامیاب تھا ،مگر اس میں بڑی مشکلات اور رکاوٹیں پیش آتی تھیں۔ میر قاسم علی نے مختلف ٹرسٹوں اور فلاحی اداروں کے علاوہ اپنے ذاتی کاروبار سے بھی جماعت اسلامی اور دیگر اسلامی تنظیموں کو دل کھول کر عطیات دیے اور مستحقین کی ہمیشہ خوش دلی سے معاونت کی۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش میں سب سے مال دار شخص یہی تھے، مگر ان کے اندر ذرا برابر تکبر اور رعونت نہیں تھی۔ تنظیم کے فیصلوں کو دل و جان سے قبول کرتے۔ وہ مرکزی شوریٰ اور مرکزی عاملہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سالہا سال سے رکن تھے۔ ان کی شہادت سے جماعت اسلامی کو جو نقصان پہنچا ہے، وہ اپنی جگہ، مگر حقیقت میں پورے ملک و قوم کا ایک قیمتی اثاثہ ظالم و قاتل حسینہ نے نام نہاد جعلی جنگی ٹریبونل کے ذریعے چھین لیا ہے۔ میر قاسم علی کی جان بچانے کے لئے پوری دنیا میں لوگوں نے احتجاج کیا، مگر خود میر قاسم علی کے الفاظ میں ’’انسان کی اجلِ مسمّٰی تو اللہ نے طے کر رکھی ہوتی ہے، وقت کے ظالم حکمران اپنے جرائم میں اضافہ کرنے کے لئے بندگانِ خدا کو موت کے گھاٹ اتارتے ہیں۔ ‘‘

میر قاسم علی کی اہلیہ عائشہ خاتون اور ان کے بچوں نے ان سے جو آخری ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ان کے دونوں بیٹوں میں سے کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ بڑے بیٹے ڈاکٹر میر محمد بن قاسم بزنس مین ہیں اور ملائشیا میں مقیم ہیں۔ دوسرے بیٹے بیرسٹر میر احمد بن قاسم المعروف ارمان قاسم دونوں ہی ملاقات نہ کرسکے۔ تینوں بیٹیاں ( طیبہ قاسم، سمیّہ رابعہ اور طاہرہ تسنیم) اپنی والدہ کے ساتھ اپنے عظیم باپ سے آخری ملاقات کے لئے جیل گئیں۔ اس موقع پر خصوصی طور پر شہید میر قاسم علیؒ کے بیٹے بیرسٹر ارمان کا تذکرہ ہوا، جسے کئی ہفتے قبل حکومتی اداروں نے غائب کر دیا تھا۔ اب تک اس کا کوئی اتا پتا نہیں چل رہا۔ جب عائشہ خاتون نے اپنے بیٹے کی گمشدگی پر غم کا اظہار کیا تو میر قاسم علی صاحب نے فرمایا کہ بلاشبہ وہ ہمارا بیٹا ہے اور ہمیں اس کی گمشدگی کا بہت دکھ ہے، لیکن سوچو کہ وہ ہمارا بیٹا ہی نہیں اللہ کا بندہ بھی ہے۔ حدیث پاکؐ کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے۔ وہ اس کی حفاظت فرمائے گا۔ اس موقع پر ان کا دوسرا بیٹا سلمان بھی موجود نہیں تھا، وہ ملائیشیا میں ہوتا ہے۔

آخری ملاقات میں اپنے پیش رو شہدا کی طرح میر قاسم علی شہیدؒ نے اپنے اہل خانہ (اہلیہ، تینوں بیٹیوں اور دیگر اعزہ) سے بڑی استقامت کے ساتھ یہ کہا کہ اللہ کے راستے میں شہادت ایک بہت بڑا اعزاز اور سعادت ہے۔ میری شہادت بالکل سامنے نظر آرہی ہے اور میں بے قرار ہوں کہ چند لمحات بعد اپنے رب سے جا کر ملاقات کروں گا۔ زندگی اللہ کی طرف سے متعین ہوتی ہے، ساری دنیا زور لگا لے تو ایک لمحہ کم نہیں ہوسکتا اور ساری دنیا جتن کرلے تو ایک لمحہ زائد نہیں ہوسکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ کوئی شخص موت کی وادی میں کس طرح اترتا ہے۔ شہدا کی صف میں شامل ہونا کوئی کم اعزاز نہیں ہے۔ آپ لوگوں کو میں اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور آپ بھی مجھے اللہ کی امان میں دیں۔ جتنا عرصہ اللہ نے چاہا ہم دنیا کی زندگی میں اکٹھے رہے اور اب یہ عارضی جدائی ہے اور مجھے اللہ کی رحمت سے امید ہے کہ ہم اس کی جنتوں میں پھر اکٹھے ہوں گے۔ آپ کو حوصلہ بلند رکھنا چاہیے اور اللہ سے اپنا تعلق مزید مضبوط کرنا چاہیے۔ ہمارے پاس جو کچھ ہے یہ سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔ پھر مسکراتے ہوئے اپنی بچیوں کے ماتھے چومے، اہلیہ سے ہاتھ ملایا اور سب کو خدا حافظ کہا۔ اسی رات کو مسافر اپنی منزل سے ہمکنار ہوگیا۔ وہ کہاں مر سکتا ہے، جسے اللہ شہادت کا مرتبہ عطا فرمادے:

ہر گز نہ میرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق

ثبت است برجریدۂ عالم دوامِ ما!

اللہ کا ارشاد ہے: ’’جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں، انہیں مردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں، جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اس پر خوش و خرم ہیں، اور مطمئن ہیں کہ جو اہلِ ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لئے بھی (خوش خبریاں دیتے ہیں کہ ان کے لئے ) کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔ وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل پرشاداں و فرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ ‘‘ (آل عمران169:3تا171) میر قاسم شہیدؒ جنت کی وسعتوں میں اپنے پسماندگان کے لئے خوشخبری دے رہا ہے۔ یہ قرآن کی گواہی ہے۔ وہ اللہ کے ساتھ عہد وفا باندھنے کے بعد نہ کبھی ڈگمگایا، نہ کسی مخمصے کا شکار ہوا۔ وہ سچا عاشق رسول اور بندۂ خدا تھا۔ اس نے عشق کی بازی میں ظالم قاتلہ کو مات دے دی ہے۔ یہ الگ بات کہ لوگوں کے سامنے اصل نتائج یہاں نہیں اگلے جہاں میں آئیں گے:

یہ بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا

گر جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے

یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں

مکرمی! میں اپنے اس مراسلے کے ذریعے ایک اہم قومی ایشو کی جانب آپ کی توجہ دلانا چاہتی ہوں کہ ایک باشعور اور ذمہ دار قوم کی حیثیت سے کچھ سوالات کا جواب غور و فکر کرکے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں بتایا جائے کہ پاکستان میں تمام مسالک کے مدرسوں نے دین کی ترویج اور خدمت کے لئے جو تحقیقی کام کیا، کیا وہ شائع ہوا؟ اس سوال کا جواب بھی چاہئے کہ کون کون سے موضوعات پر تحقیق ہوچکی ہے اور اس سے عام آدمی کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی؟ ایک اور سوال یہ ہے کہ اب تک جو تحقیق ہوچکی ہے، اس کا اسلامی دنیا میں کیا مقام ہے؟ اس سوال کا جواب بھی چاہئے کہ جو لوگ مدرسوں سے فارغ التحصیل ہوئے ہیں، وہ آج کل کون کون سے شعبہ ہائے زندگی میں کام کر رہے ہیں اور ان کے کام کی نوعیت کیا ہے؟ امید ہے، متعلقہ شعبوں سے وابستہ ذمہ داران میرے سوالات کا جواب ضرور دیں گے۔ (قرۃ العین، لاہور)

مزید :

کالم -