بھارت ہوش کے ناخن لے

بھارت ہوش کے ناخن لے

  

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اُڑی حملے کے متعلق بھارتی الزامات آزادیء کشمیر کی تحریک دبانے کی ناکام کوشش ہے۔ بھارت الزام تراشی کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکے بھارتی افواج کشمیریوں کا قتلِ عام کر رہی ہیں اور آزادی کشمیر کی تحریک کو نظرانداز کرنے کے لئے پاکستان پر الزام لگایا جا رہا ہے ہم بھارت کو جواب دینے کے لئے سو فیصد تیار ہیں۔ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کی قیمت چکانا پڑے گی ممکن ہے بھارت نے خود حملے کا ڈرامہ رچایا ہو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر کچھ ہوا تو پاکستان اپنا دفاع کرے گا اُڑی حملہ ’’جیسا بوؤ گے ویسا کاٹو گے‘‘ کی مثال ہے۔ یہ حملہ کشمیر کی تحریک آزادی کو بدنام کرنے کی سازش ہوسکتی ہے۔ بھارت کو کشیدگی بڑھانے کی کوشش مہنگی پڑے گی۔ بھارت کی کئی ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں اسے اپنے ملک کے اندر چلنے والی ان تحریکوں پر غور کرنا چاہیے۔ ہم تو خود دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ اُڑی میں ہونے والا واقعہ کشمیریوں پر مظالم کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے گولیوں میں بوئی جانے والی فصل میں لوگ ہینڈ گرنیڈ ہی پھینکیں گے۔بھارت نے سرحدوں پر کوئی اوچھی حرکت کرنے کی کوشش کی تو بہت سخت جواب ملے گا بھارت کو ایسا کرنے سے پہلے دس بار سوچنا ہوگا۔ بھارت کی اپنی انٹیلی جنس ایجنسیاں سب سے زیادہ دہشت گرد ہیں۔

یوں تو بھارت میں دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ ہو، وقت ضائع کئے بغیر بھارتی حکام پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دیتے ہیں اور بھارتی میڈیا بھی سوچے سمجھے بغیر بھارتی حکام کی آواز میں آواز ملا دیتا ہے۔ پٹھان کوٹ حملے کے بعد البتہ بھارت نے اپنی اس روایت سے تھوڑی سی مراجعت کی اور فوری الزام تراشی سے تو گریز کیا تاہم اس وقت بھی بھارت چند دن سے زیادہ صبر کا مظاہرہ نہ کر سکا اور پھر پاکستان پر الزام لگا ہی دیا حالانکہ اس معاملے کی تحقیقات میں پاکستان نے پورا پورا تعاون کیا اور اپنی تحقیقاتی ٹیم بھارت روانہ کی۔ اس ٹیم نے جو شواہد مانگے وہ بھی نہیں دیئے گئے، ایک اعلیٰ بھارتی سیکیورٹی افسر نے بھی کہا کہ پاکستان اس معاملے میں کسی طرح ملوث نہیں ہے اس افسر کا بیان بھارتی ٹی وی چینلوں سے نشر بھی ہوا جسے بعدازاں روک لیا گیا۔

اب کی بار تو بھارت نے جلد بازی کی انتہا کر دی ابھی تو یہ بھی حتمی نہیں تھا کہ یہ دہشت گردی کی واردات ہے یا پٹرول کے ذخیرے میں آگ لگنے کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئی ہیں کیونکہ زیادہ تر اموات جلنے کی وجہ سے ہوئیں اور اگر یہ دہشت گردی کی واردات ہے تو یہ کون لوگ ہیں لیکن بہرحال بھارت نے حسب سابق پاکستان پر الزام لگا دیا یہاں تک کہ بعض ریٹائرڈ جرنیل آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن پر ’’سرجیکل سٹرائیک‘‘ کی بات بھی کرنے لگے۔ اور یوں کسی تحقیقات، کسی ثبوت اور کسی نتیجے تک پہنچے بغیر ہی محض مفروضوں اور شکوک و شبہات کی بنیاد پر جنگ کا ڈھول پیٹنا شروع کر دیا۔ بظاہر لگتا ہے کہ اس سارے ڈرامے کا مقصد کشمیر کے حالات سے توجہ ہٹانا ہے جس کے متعلق اب تک کی جانے والی تمام تر کوششیں ناکام ثابت ہو چکی ہیں۔

کشمیریوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کے سامنے بھی جھکنے سے انکار کر دیا اور مسلسل کرفیو کے باوجود وہ شہداء کے جنازوں اور مظاہروں میں شرکت کرتے رہے اور اب تک کر رہے ہیں۔ کشمیریوں کے ساتھ اس ظلم و وحشت کے خلاف پاکستان نے متعدد بار احتجاج کیا اور سفارتی سطح پر یہ معاملہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی اٹھانے کا فیصلہ کیا جہاں وزیراعظم نوازشریف کل (21نومبر) خطاب کرنے والے ہیں۔ بھارت کی کوشش ہو گی کہ وہ اُڑی کے واقعہ کو اس تقریر کے متوقع اثرات کو زائل کرنے کے لئے استعمال کرے اسی لئے پروپیگنڈے کی توپوں کا رُخ فوری طور پر پاکستان کی جانب کر دیا گیا ہے۔

بھارت نے پٹھان کوٹ حملے کا الزام جیشِ محمد پر لگایا تھا تاہم اس سلسلے میں ثبوت پاکستان کو فراہم نہیں کئے تھے اس لئے اس الزام کی کوئی حیثیت نہیں اب بھی اس نے پرانا الزام دھرا دیا ہے اور جیشِ محمد کو ذمے دار ٹھہرایا ہے۔ حالانکہ خواجہ آصف کے الفاظ میں گولیوں کی فصل بونے والوں کو یہ تو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ یہ جب برگ و بار لائے گی تو اس سے بارود ہی اُگے گا۔ کشمیر میں لہو سے جس فصل کی روئیدگی ہو رہی ہے کیا خبر یہ حملہ اسی کے نتیجے میں ہوا ہو اورکشمیریوں نے اپنے بھائیوں کے قتل عام کا بدلہ لینے کا کوئی راستہ نکال لیا ہو لیکن بھارت کی منفی سوچوں میں اس طرح کی فکر راہ نہیں پاتی اور وہ ہر الزام پاکستان پر تھوپتا چلا جاتا ہے اب تو الزام کے ساتھ وہ دھمکیوں پر بھی اتر آیا ہے اور اس کے ریٹائرڈ بزرجمہر ’’سرجیکل سٹرائیک‘‘ کی بات اس طرح کرنے لگے ہیں جیسے پاکستان کوئی تر نوالہ ہو۔ مہاشوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کا جواب بھی دیا جائے گا اور بھارت کو اس طرح کی حماقت سے پہلے سو بار سوچنا ہوگا، پھر بات جہاں تک بھی پہنچے گی، بھارت کو اس کا ادراک ہونا چاہیے۔

جہاں تک دہشت گردی کا تعلق$ہے پاکستان بار بار یہ بات واضح کر چکا ہے کہ وہ خود اس کا شکار ہے اس لئے اس کی کسی صورت حمایت نہیں کر سکتا لیکن بھارت الزام لگانے سے پہلے اپنی منجھی تھلے ڈانگ نہیں پھیرتا کہ وہاں زعفرانی دہشت گردی کا سلسلہ کہاں تک پھیلا ہوا ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس کو آگ لگانے میں بھارتی فوج کا حاضر سروس کرنل ملوث تھا اور یہ بات ایک پولیس افسر کی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آئی تھی جو تحقیقات کا سلسلہ پھیلاتے پھیلاتے جب کرنل تک پہنچا اور اس کی گرفتاری ہونے والی تھی کہ اس پولیس والے کو پُراسرار حالات میں قتل کر دیا گیا تاکہ فوجی افسر کا راز فاش نہ ہو، جہاں سیکیورٹی فورسز کے افسر خود دہشت گردی کرا رہے ہوں وہاں تحقیقات سے پہلے الزام تراشی بڑی مضحکہ خیز ہے بھارت نے یہ الزام بالکل مکینیکل طریقے سے لگا دیا ہے، جس طرح اس سے پہلے کیا جاتا تھا۔ تازہ اطلاع یہ ہے کہ اب بھارت واقعے کی تحقیقات کرائے گا، گھوڑے سے آگے گاڑی باندھنا اسی کو کہتے ہیں۔

مزید :

اداریہ -