سفارش کلچر اور عوام کا تحف٭۔۔۔ مگر کیسے؟

سفارش کلچر اور عوام کا تحف٭۔۔۔ مگر کیسے؟

  

وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان نے راولپنڈی میں منتخب نمائندوں اور سماجی رہنماؤں کے ایک اجتماع میں گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ پولیس،سفارشی کلچر کو مات دے کر عوام کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرے،مجرموں کا ’’جوائنٹ ڈیٹا‘‘مرتب کیا جائے تو جرائم کی شرح میں نمایاں کمی کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ اپنی گفتگو میں وفاقی وزیر چودھری نثار علی خان نے پولیس کی کارکردگی کے حوالے سے سفارشی کلچر کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ ان کی یہ خواہش ایک اہم وفاقی وزیر ہونے کے ناتے قابلِ ستائش ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی معاشرے میں عوام کے یکساں تحفظ کا اہم اور سنگین مسئلہ بھی ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ یہ دونوں مسائل گزشتہ کئی دہائیوں سے پریشان کن صورت حال کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ ان مسائل کی نشاندہی کرکے،مقتدر حلقے ان کے خاتمے پر زور تو دیتے رہتے ہیں لیکن بات صرف وعظ و تلقین کی حد تک رہتی ہے۔ درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے عملی اقدامات کی نوبت ہی نہیں آتی ہے، چنانچہ طویل عرصے سے پرنالہ وہیں کا وہیں ہے۔

جہاں تک سفارشی کلچر کی بات ہے تو ہمارے سیاسی ماحول نے سفارشی کلچر کو نہ صرف فروغ دیا بلکہ اس مسئلہ کے حل کی راہ میں بھی رکاوٹیں کھڑی کررکھی ہیں۔ حکمرانوں کی اپنی سیاسی مجبوریاں اور مصلحتیں،میرٹ اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی راہ میں آڑے آتی رہتی ہیں۔ یوں بڑے حکمرانوں سے لے کر مقامی سطح کے ’’حکمرانوں‘‘ تک سفارش نے سب کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ ملازمتوں کے حصول سے لے کر ترقی کے مدارج تک ایسے ایسے ریکا رڈ قائم ہوتے رہتے ہیں کہ سفارش کے بغیر، محض اپنی محنت، صلاحیتوں اور لگن کے بل بوتے پر، آگے بڑھنے کی کوشش کرنے والوں کو شدید مایوسی اور حوصلہ شکنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سفارش کا دوسرا نصف بہتر، رشوت کا جنم بھی اِسی وجہ سے ہوا اور تمام تر کوششوں کے باوجود اس پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ اگر سفارش اور رشوت کی شرح کا احتیاط سے جائزہ لیا جائے تو پولیس کا محکمہ گنتی کے چند محکموں میں نمایاں دکھائی دیتا ہے، حالت یہ ہے کہ سفارش اور رشوت کی برائی کو معاشرے میں ذہنی طور پر قبول کر لیا گیا ہے۔

بعض صورتوں میں پولیس کو ’’محافظ‘‘قرار دیا گیا لیکن جلد ہی یہ افسوسناک اور تلخ حقیقت سامنے آئی کہ محافظ پولیس چوروں اور ڈاکوؤں کی ساتھی بن جاتی ہے۔ اِن حالات میں عوام کے تحفظ کا فریضہ ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ یہ سب باتیں پولیس کی مجموعی کارکردگی اور اس کی شہرت کے حوالے سے زبان زدعام ہیں۔ حوصلہ افزأ بات یہ ہے کہ اسی پولیس ڈیپارٹمنٹ میں بہت سے ایسے پولیس ملازمین بھی ہیں، جو زرقِ حلال پریقین رکھتے ہیں اور اپنے فرض کی ادائیگی کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کردیتے ہیں۔ سفارشی کلچر کی وجہ سے اگر ان ملازمین کو ان کا حق نہ ملے تو یہ لوگ مایوس اور بددل نہیں ہوتے۔ یہاں یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ فرض شناس اور محنتی ملازمین کو اکثر اوقات سفارشی کلچر اور رشوت کی لعنت کے سبب تعریف و ستائش یا انعام و اکرام کی بجائے سرزنش کا دکھ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے، لیکن وہ اپنے صحیح راستے اور فرض کی ادائیگی کو ترک نہیں کرتے۔ ایسے ہی لوگ روشنی اور امید کی کرن ہیں۔ ان کی تعداد کم سہی،مگر ان لوگوں کی وجہ ہی سے سفارشی کلچر کو مات دی جاسکتی ہے اور انہی کی مدد سے عوام کو تحفظ دینے کے نعرے کو حقیقت کا روپ دیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے وزیر داخلہ چودھری نثار علی اور دیگر حکومتی شخصیات کی بھی خواہش روایتی انداز میں قابل ستائش ہوسکتی ہے کہ سفارشی کلچر کا خاتمہ ہو اور عوام کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ بہترمنصوبہ بندی کر کے باقاعدہ ایک مہم کے ذریعے یہ کارنامہ انجام دیا جائے۔ محض باتوں سے سنگین اور دیرینہ مسائل کو حل نہیں کیا جاسکے گا۔

مزید :

اداریہ -