بڑے ہو کے کیا بنو گے؟

بڑے ہو کے کیا بنو گے؟
بڑے ہو کے کیا بنو گے؟

  

اگر تم خوش قسمتی سے شہری پولیس کے افسر ہو مگر ہر مقتدر سیاست دان، ہر غیر حساس یا حساس ادارے کا آنکھیں بند کر کے ساتھ دے سکتے ہو۔ جائز و ناجائز، قانونی و غیر قانونی، گناہ گار و بیگناہ کے چکر میں پڑے بغیر کسی بھی نوعیت کے پولیس مقابلے کے نام پر کسی کا بھی اندھا دھند شکار کرنے کا حوصلہ رکھتے ہو۔ پولیس ریکارڈ میں کسی بھی نہتے کو مسلح اور مسلح کو چٹکی بجاتے نہتا دکھا سکتے ہو۔

اگر تم ہر ایک کا حصہ ہر ایک کو ایمان داری سے نیچے تا اوپر پہنچا سکتے ہو۔ وقت پڑے تو کسی بھی طاقتور کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا سکتے ہو اور وقت بدلے تو اسی کو الٹا لٹکا سکتے ہو اور پھر وقت بدلے تو دوبارہ اسی کے گھٹنوں پر بلا جِھجھک جْھک سکتے ہو۔

اگر تم طاقت ور کی زبان یعنی اشاروں اور ابرو کی جنبش سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہو، اگر تم انسانی شکل میں الہ دین کا ایسا چراغ ہو جو ہر طرح کا ہتھکنڈا استعمال کر کے پل بھر میں سونے جیسی قیمتی زمین سمیت کچھ بھی اپنے آقا یا آقا کے شراکت داروں یا حالی موالیوں کے قدموں میں ڈال سکتا ہو۔

اور اگر تماری لغت میں صرف ہاں ہے اور تم نہ سے ناواقف ہو تو پھر بشارت ہو کہ کوئی زمینی خدا تمہارا بال بیکا نہیں کر سکتا۔ تم ایسے مثالی افسر ہو جس پہ ہر حکومت کو فخر ہے اور رہے گا بھلے دائیں کی ہو کہ بائیں کی، خاکی ہو یا شیروانی، اوپر سے نازل ہوئی ہو یا نیچے سے پھوٹی ہو، سامنے سے آئی ہو یا چور دروازے سے۔۔۔

جاؤ اے مثالی افسر تم پر سات کیا سات سو خون معاف۔

جاؤ تم سے تمہارے افسرانِ بالا بھی ہمیشہ جھک کے ملیں۔ اگر سات بار معطل کریں تو ساتوں بار اپنے ہی ہاتھوں سے تمہیں بحال کرنے پر مجبور کر دیے جائیں۔

جس پر ہر موسم کا سایہ ہو، جو ہر ظلِ الہی سے محض ایک فون کال کے فاصلے پر ہو، ایسے افسر کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے؟

لیکن خدانخواستہ اگر تم پر اْصول پسندی و ایمانداری، ملک و قوم کی خدمت، قانون کی بالا دستی، سفارش دشمنی یا محمود و ایاز کو ایک صف میں کھڑا کرنے کا خبط سوار ہے تو پھر تنزلیاں، مسلسل تبادلے، جھڑکیاں، دھمکیاں، ہر کس و ناکس کے ہاتھوں سرِ عام ذلت، گھونسے، لاتیں، مکے، پھٹی وردیاں انصاف کی تلاش میں مارے مارے ایک سے دوسرے در تک جوتیاں چٹخانے کا عذاب، افسرانِ بالا کی سرد بے اعتنائی و بے حس خاموشی، محض سرکاری تنخواہ میں گزارے کا ماہانہ پلِ صراط اور اس کے نتیجے میں گھریلو ناچاقی اور رشتے داروں کی اجنبیت کا تہرا عذاب بھی تمہیں مبارک۔

اے عقل کے ہیٹے! تیرا مقدر صرف تیری پنشن لاگ بک اور بعد از مرگ اولاد کا یہ طعنہ ہو کہ ابا کی ایمانداری و اصول پسندی سے ہمیں کیا ملا؟ کفن دفن بھی قرض پر اٹھانا پڑا۔

سو اب تم خود ہی سوچ لو کہ اپنی اولاد کے بارے میں کیا سوچا؟ اسے راؤ انوار جیسا باعزت پولیس افسر بننے کی نصیحت کرو گے یا پھر موٹر وے پولیس کا کوئی سنکی سارجنٹ جو آؤ دیکھے نہ تاؤ اور ہر کسی کی حیثیت و طاقت کا اندازہ کیے بغیر بھڑ جائے اور پھر اپنی وردی پھٹوا اور منہ سجوا کر گھر آجائے۔۔۔۔

مزید :

کالم -